کم ازکم ایک موٹی گردن ! 05-02-2013

سپریم کورٹ میں اب تک جتنے بھی کیس گئے ہیں تقریباً ان سب کا تعلق کرپشن سے ہے۔
آغاز ” این آر او عمل درآمد کیس “ سے ہوا جس نے تقریباً ڈھائی برس تک قوم کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھی اور گزشتہ برس اس کی وجہ سے ہمارے ایک وزیراعظم کو نااہلی اور معزولی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ یاد کرانے کی یہاں ضرورت نہیں کہ اس کیس کا تعلق ماضی میں کی جانے والی کرپشن کے ان معاملات سے تھا جن کی وجہ سے صدر زرداری کو سوئس عدالتوں کا سامنا رہا۔
اس کے بعد ہائی پروفائل کرپشن کے کیس سامنے آتے ہی چلے گئے۔ پہلے حج کرپشن کیس اور این آئی سی (نیشنل انشورنس کارپوریشن)کرپشن کیس کے بم پھٹے۔ پھر رینٹل پاور پراجیکٹس میں ہونے والی مبینہ کرپشن کیس کا دھماکہ ہوا۔ساتھ ہی اوگرا کرپشن کیس نے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا۔ شاید او جی ڈی سی میں بھی کسی بڑی کرپشن کا بم پھٹتا اگر سپریم کورٹ کی بروقت مداخلت ایک میٹرک پاس نوجوان (خواجہ جنید )کو متذکرہ ادارے کا سربراہ بننے سے نہ روکتی۔ اس کے علاوہ ” ایفیڈرین کوٹہ کیس “ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ بہت سارے چھوٹے موٹے کیس یہاں میری یادداشت میں نہیں آرہے۔
جوبات میں کہنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے تقریباً تمام کیسز میں ملزموں کی نشاندہی کرکے قانونی کارروائی کرنے کے احکامات صادر کردیئے مگر کسی ایک عدالتی فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں ہونے دیا گیا۔
گزشتہ دنوں چیئرمین نیب نے پوری قوم کو یہ سنسنی خیز انکشاف کرکے چونکا دیا تھاکہ ملک میں روزانہ دس ارب کے لگ بھگ کی کرپشن ہورہی ہے۔
ستم ظریفی کی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ کرپشن کے خلاف اقدامات کرنا نیب کی ہی ذمہ داری ہے۔ لیکن چیئرمین نیب یہاں یہ موقف اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ کرپشن ہو تو بے تحاشہ (اور بغیر روک ٹوک کے)رہی ہے لیکن کرپشن کرنے والا کوئی بھی نہیں۔
کرپشن کی کسی نے نہیں۔ خود بخود ہوئی ہے اور خود بخود ہورہی ہے۔
کیا ہماری سپریم کورٹ اس حکومت کے رخصت ہونے سے پہلے کوئی ایسا اقدام یا کارنامہ کر سکے گی جس کے نتیجے میں کم از کم ایک موٹی گردن احتساب کے شکنجے میں جکڑی نظر آئے ؟

kal-ki-baat

Scroll To Top