دوہری شہریت کے حامل سرکاری ملازمین

دیگر کئی اہم اقدمات کی طرح اس بات کا کریڈٹ بھی جناب چیف جسٹس ثاقب نثار ہی کو جاتا ہے کہ انھوں نے اہم عہدوں پر براجمان دوہری شہریت کے حامل افراد کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ایسے سرکاری ملازمین اور ضلعی اور اعلی عدلیہ میں تعینات ججوں کے نام مانگ رکھے ہیں جو پاکستان کے علاوہ کسی دیگر ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ رواں ماہ ہی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس ضمن میں از خود نوٹس لیتے ہوئے پانچوں ہائی کورٹس کے رجسٹرار صاحبان کے علاوہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے 15 روز میں رپورٹ طلب کی تھی ۔سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری اسٹیبلشمنمٹ سے دوہری شہرت کے حامل گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے سرکاری افسران کی فہرست مانگ رکھی ہے، تاہم گریڈ 16 سے نچلے گریڈ کے سرکاری ملازمین کے بارے میں ابھی کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔
واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت کے معاملے پر بڑی عدالت کی طرف سے از خود نوٹس لیا گیا جبکہ اس سے پہلے اس معاملے پر توجہ نہیں دی گئی۔ اس ضمن میں نمایاں مثال سابق آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا کی دوہری شہریت تھی ، ان کے بارے میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اعتراضات اٹھائے مگر اس کے باوجود سابق صدر آصف علی زرداری نے انھیں پاکستان کا آڈیٹر جنرل نامزد کر دیا۔ مذکورہ معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹس کے علاوہ دیگر ہائی کورٹس میں بھی دوہری شہریت کے حامل ججز کے بارے میں مستند خبریں سامنے آتی رہیں مگر اس پر کوئی کاروائی نہ کی گی۔ ملکی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق مطابق گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے ان سرکاری ملازمین کی تعداد ہزاروں میں ہے جن کے پاس دوہری شہریت ہے، زیادہ تر سرکاری ملازمین امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کی شہریت رکھتے ہیں۔
عدلیہ کے بعض زمہ دار اس پر بھی فکر مند نظر آتے ہیں کہ گذشتہ سال بین الاقوامی مالیاتی سیکنڈل پانامہ لیکس میں بعض ججز کے نام آچکے ۔ اس پس منظر میں دوہری شہریت کے حوالے سے سپریم کورٹ سخت موقف کی حامل نظر آتی ہے ،نمایاں مثال یہ ہے کہ عدالت عظمی نے سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان افراد پر پابندی عائد کی جو دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ماضی میں دوہری شہریت کے حامل افراد کو اہم عہدے دینا کسی طور پر اعتراض کا حامل نہیں رہا حتی کہ دو ایسے افراد وزیر اعظم کے منصب پر براجمان ہوئے جو دوہری شہریت کے حامل تھے جن میں ایک نگراں وزیر اعظم معین قریشی اور دوسرے شوکت عزیز ۔
ادھر تازہ پیش رفت میں چیف جسٹس نے دوہری شہریت چھپانے والے 147 سرکاری افسران کو نوٹس جاری کردیا۔واضح رہے گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے دوہری شہریت کے حامل افسران کو شہریت ظاہر کرنے کے لیے 10 دن کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہریت ظاہر کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں ہوگی۔اس اہم مقدمہ کی سماعت کے دوران ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ کہ انھوں نے ایک لاکھ 72 ہزار 8 سو 40 افراد کا ڈیٹا حاصل کیا بعقول ان کے 616 افراد نے رضاکارانہ طور پر دہری شہریت ظاہر کی جبکہ 147 افسران نے دہری شہریت چھپائی ۔ایف آئی اے کے بعقول 691 افراد ایسے ہیں جو سرکاری افسران کے زیر کفالت جبکہ 6 سرکاری افسران غیر ملکی قومیت رکھتے ہیں۔یاد رہے کہ رواں ماہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے الیکشن کمیشن کو دوہری شہریت رکھنے والے 5 سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا تھا۔
اس سوال کا جواب کسی بھی زمہ دار کے پاس نہیں کہ ستر سال گزرنے کے باوجود آٓخر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی ہے جو اہم سرکاری عہدوں پر ہونے کے باوجود غیر ملکی شہریت رکھتے تھے۔یہ سمجھنے کے لیے سقراط ہونا ضروری نہیںکہ وہ سرکاری عہدیدار مرد وخواتین جنھوں نے غیرملکی شہریت حاصل کی کسی نہ کسی شکل میں اپنے ملک کے مفادات کونقصان پہنچانے کے مرتکب ہوئے۔یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن کے لیے خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ملکی زرمبادلہ کے زخائز میں قابل زکر حصہ ان ہی افراد کا ہے جو ملک سے دور رہ کر اپنے خون پسینے کی کمائی ہر ماہ پاکستان بھیج رہے ہیں۔ اعتراض ان پر کیا جارہا جو ملک میں اہم سرکاری زمہ داریاں ادا کرتے ہوئے غیر ملکی شہریت سے لطف اندوز ہورہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ سرکاری ملازمت ہونے کے باوجود غیر ملکی شہریت رکھنے والے افراد کسی طور پر اپنے ملک سے مخلص نہیں۔ مخصوص حوالوں سے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انھیں اپنے آبائی دیس کے روشن اور محفوظ مسقبل پر بھی یقین نہیں اسی لیے انھوں نے دوسری شہریت کی شکل میں دوسرا آپشن رکھ چھوڈا۔
وطن عزیز میں بے روزگاری سے کون واقف نہیں۔ مختلف شعبوں میں اعلی ترین ڈگریاں رکھنے کے باوجود سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد بے روزگار ہیں چنانچہ دوہری شہریت کے حامل افراد نے ان حق داروں کو ان کے جائز حق سے محروم کررکھا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ ایک ٹکٹ میں دومزے لینے والوں سے کسی صورت رعایت روا نہ رکھی جائے۔ اب عدالت عظمی سے یہ توقع رکھنا خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ اس مقدمہ کا جناب چیف جسٹس ایسا فیصلہ دیںگے جس کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے یہ معاملہ حل کرلیا جائے۔

zaheer-babar-logo

Scroll To Top