حکومتی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث کرنسی کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئی ہے: سراج الحق

  • گلوبلائزیشن کا مطلب امریکنائزیشن ہے، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اس میں اسلام ہی کا نظام چلے گا
  • سیکولرازم اور لبرل ازم کا راستہ روکنے کے لئے دینی جماعتوں کو متحد کیا ہے، ابھی سفرکا آغاز ہی کیا ہے تومخالفین کے چہرے پیلے پڑگئے ہیں

سراج الحق

لاہور(اےن اےن آئی) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم نے سیکولرازم اور لبرل ازم کا راستہ روکنے کے لئے دینی جماعتوں کو متحد کیا ہے، ابھی ہم نے سفرکا آغاز ہی کیا ہے تومخالفین کے چہرے پیلے پڑگئے ہیں، جب ملک میں ہر طرف ایم ایم اے کا ڈنکا بجے گا تو مخالفین کی کیا حالت ہوگی ، میرا جسم میری مرضی کا نعرہ مغربی اور امریکی ایجنڈا ہے، فحاشی و عریانی کا فروغ برداشت نہیں کریں گے،کتنے افسوس کی بات ہے کہ مغرب میں عورت پر دے اور اپنے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے اور پاکستان میں خواتین ہی خواتین کو بے آبرو اور بے پردہ کرنے کی مہم چلا رہی ہیں،گلوبلائزیشن کا مطلب امریکنائزیشن ہے، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اس میں اسلام ہی کا نظام چلے گا،ہم جس طرح شیطان سے پناہ مانگتے ہیں اسی طرح ٹرمپ کی جمہوریت سے بھی پناہ مانگتے ہیں، ہم اسلامی جمہوریت اورسیاست کے قائل ہیں، حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں اور سودی نظام معیشت کی وجہ سے پاکستانی کرنسی کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئی ہے،دینی مدارس ہماری تہذیب اور اسلامی شعائر کے مضبوط قلعے ہیں، ان کا ہر صورت دفاع کریںگے، ہماری حکومت آئی تو آئمہ مساجد اور علماءکو تنخواہیں سرکاری خزانے سے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ تفہیم القرآن مردان میںختم بخاری شریف و تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان، صدر رابطة المدارس پاکستان مولانا عبدالمالک، جماعت اسلامی ضلع مردان کے امیر و مہتمم جامعہ مولاناڈاکٹر عطاءالرحمن و دیگر نے خطاب کیا۔ تقریب میں صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع، نائب امیر مولانا محمد اسماعیل سمیت علمائ، طلباءاور اہل علاقہ بڑی تعداد میں شریک تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مغرب کا خاندانی نظام بکھر چکا ہے، اب وہ مسلمانوں کو بھی مادر پدر آزاد کرنا چاہتا ہے۔ مغرب عورت کی آزادی کے نام پر دراصل عورت تک رسائی کی آزادی چاہتا ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور اور اسلام آباد میں مغربی این جی اوز کی خواتین کا مظاہرہ ہماری روایات نہیں ،مغرب کا ایجنڈا ہے، پاکستان میں مادر پدر آزادی کی حوصلہ شکنی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست کا مرکز و محور اسلام ہے، ہم اسلام آباد میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں، ہم اسلامی جمہوری اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان دراصل اسلامستان ہے اور یہاں اسلامی حکومت ہی قائم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی سے پاکستانی عوام بالخصوص دینی طبقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، نظریہ پاکستان اور اسلام سے محبت کرنے والوں میں ایم ایم اے کی بحالی سے دینی جماعتوں پر اعتماد بڑھا اور اطمینان پایا جاتا ہے۔ اسلامی نظریے کی بنیاد پر بننے والے ملک میں ایک دن کیلئے بھی اسلامی نظام کو نہیں آزمایا گیا،سیکولر پارٹیاں ہی حکومت اور اپوزیشن میں رہیں ۔موجودہ حالات میں متحدہ مجلس عمل ہی متبادل پلیٹ فارم ہے، سیکولر اور لبرل قوتوں نے ملک کو بدامنی، بے روزگاری ، غربت اور کرپشن کا تحفہ دیا، پاکستانی عوام ان سے مایوس ہوچکے ہیں اور ملک میں تبدیلی اور انقلاب چاہتے ہیں، متحدہ مجلس عمل ہی مثبت اور تعمیری تبدیلی اور انقلاب لاسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا نظام چاہتے ہیںجس میں غریب بھوکا نہ رہے، ہر شخص کو سر چھپانے کے لئے چھت میسر ہو، غریب کو بھی تعلیم ،علاج اور روزگار کے مواقع ملیں ،کوئی غریب غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر اپنے بچوں کا گلا کاٹنے پر مجبور نہ ہو،انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے جس میں عام آدمی کو بھی وہی حقوق حاصل ہونگے جو حکمرانوں کو حاصل ہیں۔ملک سے طبقاتی اور استحصالی نظام کا خاتمہ مجلس عمل کی اولین ترجیح ہے ۔

Scroll To Top