انقلاب کا اور کوئی راستہ نہیں 01-02-2013

اگر انسان کو خطاﺅں غلطیوں لغزشوں اور گناہوں سے سو فیصد پاک بنانا منشائے الٰہی ہوتا تو حضرت آدم ؑ اپنے رب کی نصیحت کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کام نہ کرتے جو ان کی ” جنت بدری “ کا باعث بنا۔ خدا کو منظور ہی یہی تھا کہ یہ دنیا رزمگاہِ خیرو شر رہے اور ابلیس انسان کو بہکا کر ایسے راستوں پر لے جائے جو جہنم کی طرف جاتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ابلیس کا شر اُس خیر پر حاوی ہوتا رہے گا جسے بنی نوع انسان کا مقّدر بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے۔ اور ہم اس نبی کی امت ہیں جس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اور جسے خالق کائنات نے رحمت الالعالمین بناکر بھیجا۔ میں اس بات کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ ” شر “ کی قوتوں کے ساتھ خیر کی فیصلہ کن جنگ لڑنا ہمارا فرض ’ ہمارا اعزاز اور ہمارا مقدر قرار پا چکا ہے۔
اپنے اس فرض کی تکمیل ‘ اور اپنے اس اعزاز اور مقدر پر پورا اترنے کے لئے ہمیں اپنے آپ کو ایک ایسے نظام کے سپرد کرناہوگا جو ہمیں خطاﺅں غلطیوں لغرشوں اور گناہوں سے روکنے کی بھرپور قوت رکھتا ہو۔
آنحضرت نے یہی نظام مدینہ میں رائج کیا تھا ۔ اسی نظام کو آپ نے اپنے آخری خطبے میں اپنی امت کا راستہ اور منزل قرار دیا تھا ’ اسی نظام کی تشریح اور ترویج ہمارے تمام خلفائے راشدین نے کی تھی۔ اور ہماری خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ نظام اپنی اصل شکل میں کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی ایک کتاب میں محفوظ ہے۔ اس کتاب کو ہم کلام اللہ کہتے ہیں۔ صرف کہتے ہی نہیں سمجھتے بھی ہیں۔ جو نہیں سمجھتے ’ وہ ہم میں سے نہیں۔
ہمارے جو جو اکابرین اور رہنما بھی انقلاب کے نعرے بلند کررہے ہیں ‘ میں ان کے منہ سے صاف الفاظ میں ایک ہی بات سنناچاہتا ہوں ۔
آئیں واپس چلیں۔۔۔ قرآن کی طرف ۔
آئیں ایک دیانت دارانہ کوشش کریں کہ ہمیں خدا تقلید رسول کی تھوڑی بہت توفیق عطا فرمائے۔
تقلید رسول مولانا فضل الرحمن کا حلیہ اختیار کرنے یا علامہ طاہر القادری جیسی شعلہ بیانی کرنے سے نہیں ہوگی ’ تقلید رسول اس بودوباش کا نام ہے جس پر آپ تادم ِ آخر قائم رہے۔
انقلاب کا اور کوئی راستہ نہیں۔
اگر کوئی شخص کسی دوسرے راستے کی نشاندہی کرتاہے تو وہ جھوٹا ہے۔

kal-ki-baat

Scroll To Top