آئیں بیانیوں کو دفن کر کے سچ کو گلے لگائیں۔۔۔۔۔

ایک اصطلاح ”بیانیہ“ اب ’ زبان زدِ عام‘ بن گئی ہے۔ یہ انگریزی کی اصطلاح Narrative کا ترجمہ ہے ۔مجھے شروع شروع میں جب اس اصطلاح سے سابقہ پڑا تو اسے سمجھنے میں ذرا دقتّ پیش آئی لیکن پھر مجھے ہٹلر کی ٹیم کے ایک اہم رکن مارٹن بورمین کی ”ڈائریز“ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو Narrative کا مطلب پوری طرح سمجھ میں آ گیا۔
بورمین نے ایک گفتگو کا ذکر کیا جو ہٹلر اور اس کے دستِ راست ڈاکٹر گوئبلز کے درمیان ہوئی تھی۔
”فیوہرر۔۔۔ہمیں برطانیہ اور امریکہ کے مروجّہ Narrative”یعنی بیانیے“ کے مقابلے میں ایک اپنا بیانیہ تیار کرنا ہوگا۔اُن کا بیانیہ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب ہے عوام کی حکومت،عوام کے لئے۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ عوام نے حکومت کی ہو۔۔؟ عوام کہتے ہی اس مخلوق کو ہیں جس پر حکومت کی جائے۔ اُن کے جھوٹ کے مقابلے میں ہمیں اپنا بیانیہ سامنے لانا ہوگا۔ جرمن قوم عظیم ترین ہے اور آپ اس کی عظمت کی تجسیم ہیں۔ یہ ہمارا بیانیہ ہے اور یہ بیانیہ ہم نے لندن اور واشنگٹن کو نہیں ، جرمن قوم کو فروخت کرنا ہے۔ یہ ڈاکٹر گوئبلز کے الفاظ تھے۔
”اسے تم بیانیہ کیوں کہہ رہے ہو گوئبلز؟ یہ تو ایک حقیقت ہے۔“ یہ ہٹلر کا جواب تھا۔۔ مارٹن بورمین نے لکھا۔” جو بات گوئبلز کے لئے بیانیہ تھی وہی بات ہٹلر کے لئے حقیقت تھی۔“
میں نے تب یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بیانیہ ایک اسے جھوٹ کو کہتے ہیں جو سچ کی جگہ لینے کے لئے گھڑا جاتا ہے۔
آج کل جب میں ٹاک شوز دیکھتا ہوں تو یہ تاثر لیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ”سچ“ سے کسی کو دلچسپی نہیں سب کسی نہ کسی ”بیانیے“ کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں۔ مریم نواز شریف کا “ بیانیہ“ اس کی سوشل میڈیا ٹیم کے ماہرین تیار کرتے ہوں گے۔ اب وہ خود بھی سمجھ گئی ہیں۔ایک بیانیہ گذشتہ دنوں انہوں نے یہ تیار کیا کہ جیسے مصائب آلام اور جبر سے سابقہ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پڑا تھا ویسے ہی مصائب آلام اور جبر کا سامنا ”نعوذ باللہ) موصوفہ کے نا اہل قرار پانے والے ابّا حضور کو ہے۔ اور جس صبرو استقامت کا مظاہرہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی صاحبزادی حضرت فاطمہ(رضی اللہ عنہ) نے کیا اسی صبرو استقامت کا مظاہرہ موصوفہ کر رہی ہیں۔(نقلِ کفر کفر مباشد)۔ بیانئے میں خرابی یہ ہوتی ہے کہ کبھی کبھی اس کی تیاری حالتِ ہوش میں نہیں ہوتی۔” جھوٹ“ اور بیانئے“ میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں کے پاو¿ں نہیں ہوتے۔ نیا جھوٹ بولتے وقت پرانا جھوٹ یاد نہیں رہتا یا قصداً بھلا دیا جاتا ہے ۔ مریم نواز صاحبہ کا وہ بیانیہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ ”لندن تو دُور کی بات ہے میری تو یہاں بھی کوئی جائیداد نہیں۔ اپنے والد کے گھر رہتی ہوں اور وہی میری کفیل ہیں۔“ جب یہ بیانیہ انہوں نے تیار کیا تھا تب انہیں یاد نہیں رہا تھا کہ ان کا کفیل تو ان کے شوہر کو ہونا چاہیے تھا۔ اور یہ بات اُن کے خواب و خیال میں نہیں تھی کہ پاناما سے ایک آندھی اٹھے گی اور بہت سارے بیانیوں کوخس و خاشاک کی طرح بہالے جائے گی۔
اب محترمہ کا بیانیہ یہ ہے کہ” تخریب، بربادی اور سازشوں کی قوتوں“ نے ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر ان کے والد کے ہاتھوں ہونے والی، پاکستان کی فقید المثال ترقی کا سفر روک دیا ہے۔
اُدھر ان کے والد کا بیانیہ یہ ہے کہ” معاملہ پاناما کا تھا اور ظالموں نے مجھے اقامہ رکھنے کے بہانے نکال باہر کیا۔ بھلابیٹے سے تنخواہ نہ لینا بھی کوئی جرم ہے کہ ملک کے کروڑوں عوام کے منتخب وزیر اعظم کو یوں بے عزت کر کے نکال دیا جائے؟“
باپ بیٹی دونوں کو یقین ہے کہ پاکستان کے عوام اُسی قدر بے وقوف اور کم عقل ہیں جس قدر دونوں انہیں سمجھتے ہیں۔ یہ بات ان کے خیال میں آئے گی بھی نہیں کہ ملک کے اتنے بڑے لیڈر اور بار بار بننے والے وزیر اعظم کو آخر اپنے بیٹے کی غیر ملکی کمپنی میں ملازمت کرنے کے لئے اقامہ لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟۔ کسی کا بھی خیال اس بات کی طرف نہیں جائے گا کہ باپ بیٹے نے یہ کمپنی کس کاروبار کو فروغ دینے کے لئے قائم کی ۔۔“
بیانیے بے شمار سامنے آئے ہیں مگر اختتام پر میں بات اس بیانیے کی کروں گا جو نظامِ عدل تبدیل کرنے والی گھن گرج کے تھمنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
معروف بیانیہ نگار محمد مالک کے ایک پروگرام میں طاہر ملک نامی ایک بیانیہ ساز بقراط فرما رہے تھے کہ دراصل جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کچھ اُس منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے جومیاں نواز شریف کے زرخیز ذھن میں تیار ہوئی۔ موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ میاں صاحب دراصل بھٹو مرحوم کی قائدانہ صلاحیتوں کا تسلسل ہیں۔ وہ بھی پہلے دشمنوں کو للکارتے تھے۔۔ پھر انہیں بات چیت کی میز پر لاکر رام کر لیتے تھے۔میاں صاحب نے” للکارنے والا“ مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ اب وہ دشمنوں کو رام کرنے والے مرحلے میں ہیں۔یہ
”بقراطی“ بیانیہ ضرور میاں صاحب کے زرخیز ذہن کی پیداوار ہوگا مگر اس بیانیے کی تیاری کرتے وقت دو تین حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
ایک تو یہ کہ بھٹو اور میاں کے ”آئی کیو“ میں اُتنا ہی فرق ہوگا جتنا ”سوزوکی مہران میں اور بی ایم ڈبلیو میں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بھٹو مرحوم پر مقدمات قومی خزانہ لوٹ کر باہر لے جانے کے نہیں تھے۔
اور تیسری بات یہ ہے کہ بھٹو مرحوم کی گھن گرج اور جرا¿ت رندانہ ہی انہیں تختہ ءدار پر لے گئی۔۔
ایک اور بیانیہ میاں صاحب اور ان کی نون لیگ سے ہٹ کر یہ چل رہا ہے کہ آئین میں جمہوریت کے علاوہ اور کسی نظامِ حکومت کی گنجائش نہیں۔
اس بیانیے میں سقم یہ ہے کہ اِس میں یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ”کیا آئین میں پاکستان کو قرضوں کے انبار تلے دفن کر ڈالنے کی گنجائش ہے۔؟۔کیا آئین میں منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی دولت باہر لے جانے کی گنجائش ہے؟ کیا آئین میں ایک ایسے وزیر اعظم کی گنجائش ہے جو کہتا ہو کہ میں تو نام کا وزیر اعظم ہوں۔ اصل وزیر اعظم تو میرا محبوب قائد ہے جسے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے جھوٹا اور بددیانت قرار دے کر فارغ کیا ہے؟“
آئیں ۔۔۔۔اب بیانیوں کو دفن کر کے سچ کی تلاش میں نکلیں۔اورسچ ہمارے آئین کے دیباچے میں موجود ہے۔۔
حاکمیت صرف خدا کی ہے۔۔ اور اگر عوام خدا کی نافرمانی کریں تو وہ بھی میاں نواز شریف کی طرح نا اہل ہو جاتے ہیں۔۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top