بلوچستان کی نئی سیاسی جماعت

zaheer-babar-logoسابق وزیر اعظم پانامہ لیکس کے مقدمہ میں نااہل ہونے کے بعد پوری قوت سے یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہیں جو کچھ ان کے ساتھ ہورہا ہے وہ ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔ میاںنوازشریف اور ان کی صاحبزادی ایک طرف عدلیہ کے خلاف سخت سے بڑھ کر توھین آمیز لب ولہجہ استمال کررہیںتو دوسری طرف ان کے قریب سمجھے جانے والے افراد بھی اس ”بیانیہ “ میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے۔ مبینہ طور پر سرکاری وسائل کا بے دریغ استمال کرتے ہوئے جہاں جہاں حکمر ان جماعت معقول تعداد میں لوگ اکھٹے کرتی ہے وہی اسے سابق وزیر اعظم کے ”نظریے “ کی پذائری کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔
حال ہی میں ہونے والے سینٹ انتخابات پر پی ایم ایل این میں جو ناگواری نظر آتی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ مسلم لیگ ن برملا کہتی ہے کہ سینٹ میں چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کا انتخاب پوری منصوبہ بندی کے ساتھ عمل میں لایا گیا، اس قبل بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمہ بارے بھی اسی قسم کے موقف کا اظہار کیا گیا۔ اب بلوچستان میں تازہ پیش رفت یہ دیکھنے کو مل رہی کہ صوبہ کی اسمبلی میں ن لیگ کے منحرف اور ق لیگ کے اراکین کی جانب سے اہداف کے حصول میں کامیابی کے بعد عام انتخابات میں کامیابی کے لیے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا گیا۔
سیاسی پنڈتوں کے مطابق اس سال کے آغاز میں بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے منحرف گروپ کی جانب سے جو تین کامیابیاں حاصل کی گئیں ان میں ایک پی ایم ایل این کی سربراہی میں صوبے میں مخلوط حکومت کا خاتمہ پھر آزاد حیثیت سے 6 سینیٹروں کو کامیاب کرانا اور سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے پر آزاد گروپ کے صادق سنجرانی کے لیے حاصل کرنا شامل ہے۔ چنانچہ اب یہ گروپ آئندہ انتخابات میں صوبے بھر میں کامیابی کے لیے بلوچستان کی سطح پر نئی جماعت بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ صوبے کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کے بعقول جلد ایک نئی سیاسی جماعت بنانے جارہی ہے۔ان کے مطابق وزیر اعلی بلوچستان اور دوسرے دوست جلد نئی جماعت کے قیام کا اعلان کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں سرفراز بگٹی کا کہناتھا کہ نئی سیاسی جماعت پرگرویسو ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود روایتی جماعتوں سے مختلف ہوگی۔“
بلوچستان کے منحرف اراکین اسمبلی پر یہ الزام حیران کن ہے کہ وہ عوام میں حمایت رکھنے کی بجائے طاقتور حلقوں کی سرپرستی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ کہ مسلم لیگ ن اور ان حامی جماعتیں بلوچستان اور پھر سینٹ میں اپنی شکست کو بھلا نہیں پا رہیں چنانچہ وہ دانستہ طور پر اپنی ناکامی کو مخصوص قوتوں سے منسوب کررہے ہیں۔
وطن عزیز کی سیاست تیزی سے تبدیل ہورہی ، بنیادی وجہ یہ کہ عام آدمی ان روایتی قوتوں سے بیزار ہورہا جو محض نعروں اور دعووں سے ہی کام چلا رہے۔ پرنٹ، الیکڑانک اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استمال باشعور شہریوں کو سیاسی طور پر بالغ نظرکررہا یہی سبب ہے کہ پنجاب ہو یا سندھ حتی کہ بلوچستان میں بھی عوام بہتر طرزحکمرانی کا مطالبہ کررہے۔صحت، تعلیم حتی کی پینے کا صاف پانی تک دسیتاب نہ ہونا بتا رہا کہ حالات کس قدر سنگین ہیں۔ پانچ سالہ پی پی پی کا دور یا اب مسلم لیگ ن کی مدت پوری کرتی حکومت کسی نے بھی قابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
آنے والے عام انتخابات یقینا ان دعووں کی قلعی کھول سکتے ہیںجو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے کیے جارہے۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ مسلم لیگ ن مشکل صورت حال سے دوچار ہے، ایک طرف سابق وزیر اعظم کی نااہلی اور پھر اب بدعنوانی کے مقدمات ان کے لیے وبال جان بن چکے۔ پنجاب میں شہبازشریف کی کارکردگی کا بھرم بھی ختم ہوچکا۔ سپریم کورٹ پانچ دریاوں کی سرزمین کے باسیوں کی فریاد جس طرح سن رہی اب اس کے بعد کوئی شک نہیں رہا گیا کہ سپیڈ پنجاب کا نعرہ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں۔
ہونا تو یہ چاہے تھا کہ الزام تراشی کی بجائے بلوچستان میں نئی سیاسی جماعت کے قیام کو کھلے الفاظ میں خوش آمدید کہا جاتا مگر باجوہ ایسا نہ ہوا۔ بلوچستان کی نئی سیاسی جماعت کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس میں زیادہ تر وہ شخصیات شامل ہیں جو بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد سے اپنی نشستیں جیتتے آرہے ہیں لہذا قوی امکان ہے ک آنے والے عام انتخابات میں نئی پارٹی صوبے کی حد تک ہی سہی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ نئی جماعت بنانے والی سیاسی شخصیات کی کوشش ہے کہ وہ بلوچستان میں آئندہ کے عام انتخابات کے بعد صوبے میں حکومت سازی میں نمایاں کردار ادا کریں ۔صوبے کی سیاسی صورت حال پر نظر رکھنے والوںکا خیال ہے کہ نئی سیاسی قوت الیکشن کے بعد جمیعت العلما اسلام ف یا بلوچستان نیشنل پارٹی کے دونوں گروپوں سے کسی کو ملا کر حکومت بنا سکتی ہے۔
بلوچستان کی سیاسی تاریخ سے آگاہ حلقے باخوبی جانتے ہیںکہ سالوں سے صوبے کی تعمیر وترقی کے لیے بلندوبانگ دعوے تو کیے جاتے رہے مگر حقیقی معنوں میںاہل بلوچستان کی مشکلات حل کرنے کی کوشش نہ کی گی۔ محمود خان اچکزئی جیسے سیاست دان مخصوص ” جمہوریت“ کے بڑی حامی ہیں مگر کوئٹہ میں ان کے اپنے حلقے میں لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی تک میسر نہیں۔ شائد یہی وہ عوامل ہیں جو بلوچستان میں نئی سیاسی جماعت کی ضرورت دوچند کرچکے۔

Scroll To Top