خدا کرے کہ چیف جسٹس صاحب کی تمنا پوری ہو 31-01-2013

چیف جسٹس صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ عمومی تاثر اب ختم ہونا چاہئے کہ مراعات یافتہ یا بااثر لوگوں کو کسی بھی جرم کی کبھی کوئی سزا نہیں ملتی۔ یہ بات انہوں نے شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کے دوران کہی ہے۔
ان دنوں تین چار اہم کیس قومی ضمیر کے لئے ایک بہت بڑے امتحان کا درجہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو نادرست نہیں ہوگا کہ یہ تمام کیس اس لئے قوم کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہیں کہ ایک مستعدمیڈیا اور ایک فعال عدلیہ نے جرم کا چُھپا رہنا بہت مشکل بنا دیا ہے۔
شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھی جب تفریح طبع کی خاطر ایک نوجوان کی زندگی کا چراغ گل کررہے تھے تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہیںہوگاکہ جس قانون کو وہ اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں اس کے لمبے ہاتھ ان کی گردنوں تک پہنچ جائیں گے ۔ یہ درست ہے کہ قانون اِس لحاظ سے با اثر لوگوں کے گھر کی لونڈی ہے کہ پولیس قانون کی حفاظت کرنے کی بجائے ”معقول “ معاوضے پر مجرموں کوتحفظ فراہم کرنے کی ” شہرت“ حاصل کرچکی ہے۔
شاہ رخ جتوئی کا فرار ہونا اسی ” شہرت “ کا نتیجہ تھا۔ اب جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے وہ یہی ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو ” نابالغ“ ثابت کرنے کے بعد ” دیعت“ کے شرعی قانون سے جوڑ دیا جائے گا۔ چیف جسٹس صاحب نے اسی امکان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ” دیعت“ کا شرعی قانون ملزموں کو دفعہ 302کے نتائج سے تو بچا سکتاہے لیکن یہ واقعہ باقاعدہ دہشت گردی کا بھی ہے۔ اگر ملزم اس کیس میں اپنے انجام کا سامنا کرنے سے بچ گئے تو یہ بات قوم کے اجتماعی ضمیر کے قتل کے مترادف ہوگی۔
دوسرے جو ہائی پروفائل کیس قوم کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ان میں کامران فیصل کی پراسرار موت کا کیس بھی ہے۔ اس کے علاوہ رینٹل پاور پراجیکٹس میں ہونے والی کرپشن کا کیس ہے۔ توقیر صادق کی ناقابل یقین لوٹ مار کا کیس ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ” ایفیڈرین کوٹہ “ کیس ہے جس میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ اور ان کے فرزند کے اثاثے منجمد کئے گئے ہیں۔ اسی کیس میں مخدوم شہاب الدین اور خوشنودلاشاری کے اثاثے بھی منجمد ہوئے ہیں۔
خدا کرے کہ چیف جسٹس صاحب کی یہ تمنا پوری ہو کہ مراعات یافتہ اور با اثر لوگوں کے ہر جرم کے ارتکاب سے صاف بچ نکلنے کی روایت ختم ہوجائے۔

kal-ki-baat

Scroll To Top