پاکستان بہتری کی جانب بڑھ رہا

zaheer-babar-logoملک بھر میں 78واں یوم پاکستان انتہائی جوش و خروش سے منایا گیا ۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی دن کا آغاز نماز فجر کے بعد ملکی سلامتی استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعاﺅں سے ہوا وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 21توپوں کی سلامی دی گئی۔اس اہم دن کے موقعہ تمام نمایاں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے۔لاہور میں علامہ اقبال کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی اور پاک فضائیہ کے چاک و چوبند دستے نے گارڈز کے فرائض سنبھال لئے۔ 23 مارچ کے موقعے پر وفاقی دارالحکومت میں یوم پاکستان کی مناسبت سے شکرپڑیا ں کے مقام پر مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ کا شاندار انعقاد ہوا ۔ اس موقع پر شہریوں کا جوش و جذبہ قابل دید تھا ۔ عوام کی بڑی تعداد نے شاہراہوں پر جمع ہو کر یوم پاکستان کی خصوصی پریڈ دیکھی اور پاک فضائیہ کے جنگی اور لڑاکا طیاروں کے شاندار فضائی مظاہروں سے محظوظ ہوئے ۔
یوم پاکستان دراصل ایک بار پھر اس عہد کو دہرانے کا نام ہے جو برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے یہ ارض پاک حاصل کرتے وقت کیاتھا ۔ مسلمان نے ہند نے اس عظمیم مملکت کے لیے جو قربانیان دیں یقینا آج کا تصور کرکے ہی روح کانپ اٹھتی ۔ شائد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مملکت خداداد پاکستان کی ہم وہ قدر نہ کرسکے جس کی ضرورت تھی۔ ستم ظریفی کہ ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس ملک نے کیا دیا ، دراصل اس ٹولے سے پوچھنا چاہے کہ تم نے اس سرزمین کے لیے کیا کچھ کیا جس نے تمیں حقیقی شناخت عطا کی۔
یوم پاکستان کے موقعہ پر وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے تحریک آزادی کے عظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے مزاروں پر گارڈز کی تبدیلی کی تقاریب کے انعقاد کا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے عظیم رہنماوں کے فرمودات کی روشنی میں وطن کو عظیم سے عظیم تر بنانے کی جدوجہد جاری رکھیں۔جان لینا چاہے کہ قرارداد پاکستان کا مقصد صرف علیحدہ ریاست حاصل کرنا نہ تھا بلکہ ایک ایسا آزاد اور خود مختار ملک حاصل کرنا مقصود تھا جس میں مسلمان اپنے عقائد کے مطابق اندرونی و بیرونی دبا سے آزاد ہو کر عمل کر سکیں۔ قیام پاکستان کا تقاضا ہے کہ انصاف اور مساوات کے اصول قائم کیے جائیں اور عام وخاص کو بنیادی حقوق ان کی دہلیز پر پہنچائے جائیں۔ افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ ہم نے قرارداد پاکستان کی حقیقت کو فراموش کر کے بانی پاکستان قائد اعظم رحم اللہ علیہ کی روح کو کوئی راحت نہیں پہنچایی ۔ بعض لوگوں کے خیال میں آج پاکستان علامہ اقبال رحم اللہ علیہ اور قائد اعظم رحم اللہ علیہ کے افکارات سے انحراف کی ایسی تصویر پیش کر رہا ہے جس میں خوشحالی، ترقی اور وقار کا مثالی رنگ دکھائی نہیں دیتا۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ آج قانون سے کہیں بڑھ کر شخصیات طاقت ور ہیں اور ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے اپنے برتری ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ سچ ہو کہ ہماری سیاسی پارٹیاں ملک و قوم کے مفادات کیلئے منشور کی سیاست سے کوسوں دور ہیں۔ ذاتی مفادات، لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کو تحفظ دینے والا انتخابی نظام عوام کی خوشحالی اور ملکی وقار اور ترقی کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ۔منفی حالات ایک طرف مگر نہیں بھولنا چاہے کہ پاکستان مسلم دنیا کے ان بہت سارے ملکوں سے کئی گنا بہتر ہے جہاںجمہوریت کا تصور تک موجود نہیں۔ درجنوں اسلامی ملکوں میں حکمران طبقہ پر تنقید کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا، ستر سالوں میں اگر ہم نے بہت کچھ نہیں پایا تو صریحا نقصان میں بھی نہیں رہے۔ آزاد عدلیہ اور متحرک میڈیا کی شکل میں ہمارے ہاں ایسے ادارے ہیں جن پر بجا طور پر رشک کیا جاسکتا ہے۔
وطن عزیز میں بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے۔ مثلا موجودہ انتخابی نظام کے تحت انتخابات کی رسم سے کوئی نمایاں تبدیلی آنے کا امکان نہیں۔ اس لحاظ سے کروڈوں پاکستانیوں کے لازم ہے کہ وہ اصل دشمن کو پہچانیں جو موجودہ انتخابی نظام کی صورت میں ان کے حقوق کو ایک عفریت کی صورت میں ہڑپ کرنے کیلئے ایک دفعہ پھر تیار ہورہا ۔ سمجھ لینا چاہے کہ آرٹیکل 62, 63 اور 218 کے بغیر ہونے والے الیکشن آئین پاکستان کے ساتھ مذاق ہو گا۔ بلاشبہ اگر پاکستان کے باشعور شہریوں نے ظالمانہ انتخابی نظام کے خلاف منظم جدوجہد نہ کی گئی تو حقیقی پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ آج وطن عزیز کے طلبا اور نوجوانوں کو وہی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جس کا مظاہر تحریک پاکستان کے وقت کیا گیا۔ رائج نظام کے خلاف جدوجہد مستقبل میں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام کا باعث ہو گی۔ اگر ہمارے حکمران ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیتے تو پاکستان آج ایشیا کی قیادت کر رہا ہوتا۔ وطن عزیز کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قائداعظم اور اقبال کے خواب کو حقیقت بنانے کیلئے کام کرے ۔ ہمیں کھلے دل وماغ سے تسلیم کرنا چاہے کہ آج قومی افق پر ایسے رہنماوں کی کثرت نہیں جو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر کردار ادا کریں مگر یہ کم اہم نہیں کہ تمام تر ناکامیوں کے باوجود اہل پاکستان نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڈا۔

Scroll To Top