ایک صاحبِ ایمان بمقابل ایک لبرل فاشسٹ 30-01-2013

اگر آپ کو وہ انٹرویو دیکھنے اور سننے کا موقع ملا ہے جو جناب نجم سیٹھی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کیا تو آپ میری اس رائے سے اتفاق کئے بغیر نہیں رہیں گے کہ خان صاحب نے سیٹھی صاحب کی ہر ” گُگلی “ کو اچھی طرح سمجھا بھی اور بخوبی کھیل بھی لیا۔
دونوں اصحاب پہلی بار ٹی وی کیمروں کے سامنے اکٹھے آئے اور یہ بات سیٹھی صاحب کے کریڈٹ میں جاتی ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سوال سے اپنے ارادے واضح کردیئے۔ سیٹھی صاحب جاننا چاہتے تھے کہ خان صاحب ایک ” شاندار “ لبرل ماضی رکھنے کے باوجود سیاست میں آکر لبرل ازم کے مخالف کیسے بن گئے۔
خان صاحب نے بڑے نپے تُلے انداز میں سیٹھی صاحب کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ” ایمان “ اللہ تعالیٰ کی دین ہے ` کسی بھی وقت کسی بھی انسان کے حصے میں آسکتا ہے۔ اگر خان صاحب سیٹھی صاحب سے یہ کہہ دیتے تو میں بہت خوش ہوتا کہ ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کرم کیا اور میرے اندر ایمان کی شمع روشن ہوگئی مگر آپ ابھی تک لبرل ازم کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔“
سیٹھی صاحب نے ایک سوال اس انداز میں کیا کہ خان صاحب جواب میں پاک فوج کے خلاف کوئی بات کہے بغیر نہ رہیں ` مگر اس گُگلی کو بھی عمران خان نے کامیابی کے ساتھ کھیل لیا۔
سیاست میں آکر آدمی محتاط گفتگو کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ اور اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ جس آدمی سے گفتگو کررہے ہیں وہ متصادم سوچ اور مخالفانہ ریکارڈ رکھتا ہے تو آپ کھل کر دل کی بات نہیں کہہ سکتے۔
ورنہ جب سیٹھی صاحب نے یہ سوال کیا کہ لبرل فاشسٹوں سے آپ کی مراد کیاہے تو انہیں جواب یہ ملنا چاہئے تھا کہ وہ لوگ جن کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ ایمان کی روشنی اُن سے قبر تک دور رہے گی۔
میں اس امکان کو مسترد نہیں کرتا کہ سیٹھی صاحب یا ان جیسے دوسرے لبرل لوگ کوئی نہ کوئی نظریہ ضرور رکھتے ہوں گے لیکن ایک بات طے ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں۔
یہاں ہم سے میری مراد ” امت رسول “ ہے۔
مجھے اس معاملے میں اپنے انتہا پسند ہونے کا احساس بھی ہے اور اعتراف بھی۔ لیکن میں کیا کروں کہ تاریخ میں میرے ہیرو حضرت عمر فاروق ؓ ہیں۔۔۔

kal-ki-baat

Scroll To Top