اقتدار کے لیے آخرت خراب کرنے والے

اہل پاکستان کی اکثریت نے وزیراعظم کے اس بیان پر حیرت کا اظہار ہے جس میں انھوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ اقتدار آنی جانی چیزہے عوام کا خیال رکھنا چاہے۔رحیم یار خان میں وزیراعظم کے قومی صحت پروگرام کے اجراءکے موقعہ پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ اللہ کو سب سے پہلے حکمرانوں نے جواب دینا ہے میرے دل میں قوم کو درد ہے اور میں قوم پر بوجھ کو کم کرنا چاہتا ہوں۔ماضی میں اربوں کھربوں کے منصوبوں سے کمیشن کھایا گیامگر عوام کو فائدہ نہیں ہوا۔مفاد کے لیے اقتدار میں آنے والے اپنی آخرت خراب کرتے ہیں“۔
درج بالا اقتباس میں شائد ہی کوئی ایسا جملہ ہو جسے کوئی بھی باضمیر شخص مسترد کردے۔ وزیراعظم نوازشریف کے جذبات یقینا قابل قدر ہیں مگر عام پاکستانی یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کم وبیس تیس سال سے قومی سیاست میں متحرک پی ایم ایل این عوام کی مشکلات کم کرنے میںکہاں تک کامیاب رہی۔ آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کو مسلم لیگ ن اپنا گڑھ کہتی ہے مگر صوبے کا کوئی ایک بھی ایسا شبعہ نہیں جسے مثالی کہا جاسکے۔ پولیس، پٹوار، تعلیم ، صحت سمیت جسے بھی دیکھو شہریوں کی مشکلات بڑھانے کا ”فریضہ “سرانجام دے رہا۔ وزیراعظم نوازشریف کے بھائی شہباز شریف جہاں ماضی میں وزرات اعلی کے منصب پر براجمان رہے وہی گذشتہ ساڈھے آٹھ سال سے پنجاب کے وزیراعلی ہیں مگر اہل پنجاب کی مشکلات ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لی رہی۔ دوسری جانب جنوبی پنجاب کی حالت بد سے بدترین ہے۔ اربوں روپے کے منصوبے لاہور پر خرچ ہونے کے باوجود محض چند گھنٹوں کی بارش تعمیر وترقی کے دعووں کا پول کھول کر رکھ دیتی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا غلط نہیں کہ جو لوگ اپنے مفادات کے حصول کے لیے اقتدار میں آتے ہیں وہ دراصل اپنی آخرت خراب کررہے ہیں۔ مگر وزیراعظم پاکستان سے یہ راز کسی طور پر مخفی نہیں کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے مملکت خداداد میں سیاست عملا تجارت بن چکی۔ مخصوص سیاسی خاندانوں کے اندرون ملک اور بیرون ملک کاروبار اس طرح ترقی کرگے کہ عقل حیران ہے۔ حیرت انگیز طور پر ملکی معیشت دن بدن روبہ زوال ہے مگر خاندانی برنس ترقی کے معراج کو جا پہنچے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود صورت حال کی ابتری کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں جاری ہونے والی عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خوراک سے محروم لوگ کی تعداد تشویشناک ہوچکی ۔ حقائق جاننے کے لیے وزیراعظم نوازشریف دور کیوں جائیں انھیں محض اپنے پارٹی ورکروں سے ہی پوچھ لینا چاہے کہ مشکلات کتنی ہیں اور حکومت ان کے مسائل حل کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوسکی۔
وطن عزیز کا المیہ ہے کہ یہاں کا حکمران طبقہ عوام سے ہمیشہ دور رہا۔ سیاسی اشرافیہ اپنے کاروباری مفادات کے حصول میںاس طرح سرگرم کررہی کہ اسے یہ احساس ہی نہ ہوسکا کہ اصل میں اس کی آئینی ،قانونی ، اخلاقی اور مذہبی زمہ داریاں ہیں کیا ۔ وزیراعظم پاکستان کا کہنا غلط نہیں کہ آخرت میں حکمران سے سب سے پہلے حساب ہوگا مگر یہاں کتنے ہیں جنھیں اس کی پرواہ ہے۔ بدعنوانی انتظامی مشنیری میں اس قدر رچ بس چکی کہ ایسے افسران واہکار شاذ ہی نظر آتے ہیں جو خدا خوفی سے کام لیتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ایماندای سے ادا کریں۔ میاں نوازشریف تیسری مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائر ہیں۔ ان کو ووٹ دینے والے اور نہ دینے والے دونوں ہی توقع کررہے تھے کہ اس بار وہ اپنے تجربہ کی بدولت ایسے طرزحکمرانی کا مظاہرہ کرینگے جو تاریخی کہلائے مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔
حکمران جماعت کے کرتا دھرتا افراد سمجھ لیں کہ خبیر تا کراچی عوام کی اکثریت محض الفاظی پر یقین نہیں رکھتی۔ لوگوں کا بڑھتا ہوا شعور دراصل اس بات کا خواشمند ہے کہ حکومت کچھ کردکھائے۔ وزیراعظم نے گذشتہ روز منعقد ہونے والی تقریب میں اعلان کیا کہ پیچاس نئے ہپستال تعمیر کیے جائیں گے۔ پوچھا جارہا ہے کہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں جو سرکاری ہسپتال کام کررہے ہیں ان کی کارکردگی بہتر بنانے میں آخر کیا رکاوٹ ہے۔ افسوس کہ حکومت آئے روز نئے نئے منصوبوں کا اعلان تو کررہی مگر ساڈھے تین سال گزر جانے کے باوجود بیشتر منصوبوں پر عمل درآمد ہی شروع نہیں ہوسکا۔ عوام کو سہانے خواب دکھا کر اگر کہیں کوئی یہ سمجھ رہا کہ وہ لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرلے گا تو شائد یہ درست نہ ہو۔
ایک نقطہ نظر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے جب جب حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کیا حکمر ان جماعت کو عوام یا غریبوں کا خیال آیا۔ پیڑول کی قمتیوں کا ایک حد تک رہنا ہو یا انواع واقسام کے ٹیکسوں میں کمی آنے کا کریڈٹ بعض حلقے صرف اور صرف عمران خان کو دیتے ہیں۔ یقینا اب بھی وقت ہے کہ حکومت بلدیاتی اداروں کو حقیقی معنوں میں فعال کرتے ہوئے لاکھوں نہیں کروڈوں پاکستانیوں کی ان مشکلات کو حل کرنے کا آغاز کرڈالے جو مسلسل امید بھری نظروں سے اہل اقتدار کو دیکھ رہے۔ یقینا یہ حیرت انگیز ہے کہ آخر ایک سیاسی حکومت عوامی جذبات واحساسات سے کس حد تک لاتعلق رہ سکتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے عبرتناک سیاسی انجام سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں پنجان ،بلوچستان اور خبیر پختوانخواہ کے عوام نے پی پی پی کو جس طرح مسترد کیا وہ پسپائی مسقبل قریب میں کسی اور سیاسی جماعت کے حصہ میں آنا خارج ازمکان نہیں۔

Scroll To Top