”میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی سچا مسلمان راتوں رات اتنا امیر بن سکتا ہے !“ حضرت عمر ؓ 24-11-2009

کرپشن شاید واحد جرم ہے جو اپنا ثبوت خود ہوتا ہے اس کے علاوہ کوئی ایسا ثبوت نہیں ہوتاجو ثابت کیا جاسکے۔ جس طرح ایک غیر مرد اور ایک غیر عورت کا ایک کمرے میں بندہوجانا انہیں بداخلاقی کا مرتکب قرار دینے کے لئے کافی ہوتا ہے اور اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کہ کیمرہ دونوں کا تعاقب کرکے ان کی حرکات و سکنات کی عکسبندی کرے ، اسی طرح کسی شخص کے پاس اتنی دولت کا جمع ہوجانا یا نمودار ہونا اس کی ” دیانت “ کے بارے میں ایک بڑا سوال بن جاتا ہے جو اس کی سامنے نظر آنے والی آمدنی سے کوئی بھی مطابقت نہیںرکھتی۔
اگر کسی پاکستانی کے پاس لندن میں بڑی جائیداد یا کاروبار ہے تو دو میں سے ایک بات سچ ہوگی۔ ایک تو یہ کہ اس نے وہاں کسی امیر بیوہ سے شادی کی ہوگی یا یہ کہ اس نے کوئی بڑا جرم کیا ہوگا۔
کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے کے لئے بنیادی سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کی عمر گزر جاتی ہے اور وہ کسی کاروبار کے لئے بنیادی سرمایہ جمع نہیں کرپاتے۔ اگر یہ بنیادی سرمایہ اچانک کسی کے پاس نمودار ہوجائے تو سمجھ لیں کہ یا تو الہ دین کا چراغ اس کے ہاتھ لگ گیا ہے یا اس نے کسی ” ممنوعہ “ کام میں انگلیاں ڈبولی ہیں۔
آدمی کے مالی حالات خود بخود تبدیل نہیں ہوتے۔ وہ تبدیل کئے جاتے ہیں۔ حالات کی تبدیلی جائز طریقوں سے بھی عمل میں آتی ہے لیکن یہ جائز طریقے خفیہ نہیں ہوتے ، سامنے نظر آتے ہیں۔ جو ” طریقے“ نظر نہ آئیں وہ کسی نہ کسی جرم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ محاورہ بہت بڑا سچ ہے کہ ہر بڑی ” دولت مندی“ کے پیچھے اتنا ہی بڑا جرم ہوتا ہے۔ آخر کوئی تو وجہ تھی کہ حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کو مصر کے گورنر حضرت عمرو العاص (رضی اللہ عنہ)کو یہ لکھنا پڑا کہ ” عاص کے بیٹے تم اپنی دولتمندی کے حق میں لاکھ تاویلیں اور دلائل دو ،میرا دل نہیں مانتاکہ کوئی سچا مسلمان راتوں رات اتنا امیر بن سکتا ہے۔ اس لئے تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اپنی اضافی دولت فوراً بیت المال میں جمع کرا دو ورنہ تمہیں پابہ زنجیر مدینہ لایا جائے گا۔۔۔۔“
جن لوگوں کو ” این آر او “ کی برکات سے فیضیاب ہونے والوں کی فہرست میں اپنانام دیکھ کر حیرت ہوئی ہے وہ ذرااپنی ” دولتمندی “ پر نظر ڈال کر اپنے آپ سے یہ ضرور پوچھیں کہ ” اگر میں معصوم ہوں تو یہ دولت کہاں سے آئی۔؟“
یہ جو ” جمہوریت“ کا راگ الاپنے والے لوگ ہیں ان میں اکثریت ان ” فرزندان تقدیر“ کی ہے جنہیں سیاست میں ” اقتدار اوردولت“ کی طلب لے کر آتی ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کا دوسرا راستہ فوجی وردی میں ملبوس ہونا یا فوجی وردی میں ملبوس لوگوں کے قریب ہونا ہوتاہے۔
آج پاکستان جس فیصلہ کن مقام پر آکھڑا ہوا ہے وہاں سے صرف ایک راستہ ” فلاح وتعمیر “کی طرف جاتا ہے۔
جن کے پاس دولت ہے انہیں اقتدار چھوڑ دینا چاہئے۔ اور جن کے پاس اقتدار ہے وہ دولت سے دستبردار ہوجائیں۔۔۔

Scroll To Top