18ویں ترمیم کے وقت بہاولپور جنوبی پنجاب میں دودھ کی نہریں بہہ رہی تھیں! 29-01-2013

ملک جس طرح سے مسائل اور مصائب کے طوفانون میں گھرا ہوا ہے اس کے پیش نظر علامہ اقبال ؒ کے ان اشعار کو یاد کرنا اور اُن سے ڈھارس حاصل کرنا ناگزیر ہے۔
کانپتا ہے دل تِرا اندیشہءطوفاں سے کیا
ناخدا تُو بحر تُو کشتی بھی تُو ساحل بھی تُو
آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تُو رہرو بھی تُو رہبر بھی تُو منزل بھی تُو
مشکل یہاں صرف یہ ہے کہ باقی ساری باتیں تو درست ثابت کی جاسکتی ہیں ` ناخدائی اور رہبری ان طوفانوں سے نمٹنے کے لئے ہمارے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک طرف جناب آصف علی زرداری اور اُن کے ہمنوا ہمارے ناخدا اور رہبر بنے ہوئے ہیں ` اور دوسری طرف میاں نوازشریف یہ دعویٰ کررہے ہیںکہ ناخدائی اور رہبری پر حقیقی حق اُن کاہے اور یہ حق اگر انہیں دلادیا جائے تو قوم کی کشتی کو وہ مسائل اور مصائب کے طوفانون سے کامیابی کے ساتھ نکال کر ساحل کی سلامتی تک پہنچا دیں گے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے ناخدائی اور رہبری کے حوالے سے ان ہی دو ” اکابرینِ قوم “ کے نام سامنے آتے رہے ہیں۔ اوریہ رائے قوم کی صفوں میں بڑی تیزی کے ساتھ ابھر رہی ہے کہ مسائل اور مصائب کے جن طوفانون کا ملک کو سامنا ہے وہ کم و بیش اِن ہی اکابرین اور ان کے خاندانوں کی طلبِ زر و اقتدار کی کوکھ سے ابھر ے ہیں۔ کچھ حصہ جنرل پرویز مشرف کے عہدِ اقتدار نے بھی اس صورتحال کے پیداکرنے میں ڈالا ہو گا لیکن جو تباہی ملک نے گزشتہ چار ساڑھے چار برس میں دیکھی ہے وہ بلاشرکتِ غیر اِن دو ” طالبانِ اقتدار“ کی کاﺅشوں کا نتیجہ ہے ۔ جناب زرداری صاحب یہ کہتے ہیں کہ مجھے اقتدار سے اس لئے الگ نہیں کیا جاسکتا کہ میاںصاحب میری انشورنس پالیسی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ بات طے پاچکی ہے کہ اقتدار پر قابض رہنے کے فارمولے پر دونوں دیانت داری کے ساتھ عمل کریں گے۔
زرداری صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ معاہدوں کو الہامی دستاویزیں نہیں سمجھتے اور ان کے لئے اپنی ترجیحات تبدیل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ شاید اسی وجہ سے انہیں اِس موقع پر پنجاب کو تقسیم کرکے ایک نیا صوبہ ” بہاولپور جنوبی پنجاب “ کے نام سے بنانے کی سو جھی ہے۔ اس کے لئے آئین میں چوبیسویں ترمیم ہوگی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب 18ویں ترمیم ہوئی تھی تو کیا اس وقت ” بہاولپور جنوبی پنجاب “ میںدودھ کی نہریں بہہ رہی تھیں کہ کسی کووہاں کے عوام کی حالت زار پر ترس نہ آیا۔؟
تو آپ ایسی باتیں نہ سوچا کریں۔ ناخدائی اور رہبری آپ کے نہیںزرداری صاحب اور میاں صاحب کے ہاتھوں میں ہے۔ سوچنے کا کام بھی انہیں ہی کرنے دیں۔
اگر یہ کام آپ اُن کے ہاتھوں سے لینا چاہتے ہیں تو پھر ناخدائی اور رہبری بھی اُن کے ہاتھوں سے چھین کر اپنے ہاتھوں میں لینی ہوگی۔
چھین سکتے ہیں ؟

kal-ki-baat

Scroll To Top