آئیں آج کے روز سیکولرزم کے فتنے کوکچلنے کا عہد کریں 25-01-2013

مذہب کی حیثیت سے اسلام دینِ ابراہیم ؑ کا تسلسل ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ دینِ آدم ؑ کا تسلسل ہے۔ پیدائشِ آدم ؑ سے لے کر آج تک بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لئے ایک ہی دین چلا آرہا ہے۔ مختلف ادوار میں اس دین کا چہرہ خود انسان مسخ کرتارہا۔ کلامِ الٰہی لکھنے کی ذمہ داری بھی انسان نے خود سنبھال لی۔یہی وجہ ہے کہ جب اسلام کا ظہور ہوا تو اللہ کا کوئی فرمان یا کلام بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لئے اپنی اصل شکل میں موجود نہ تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہ سب کچھ منشائے خداوندی کے مطابق ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھاکہ وہ جس بطلِ جلیل کو اپنا آخری پیغمبر بناکر بھیجے گا اس کے ذریعے نازل ہونے والا ” کلام “ تا روزِ قیامت اپنی اصل شکل میں محفوظ رہے گا۔
ہم اس نبی کی امت ہیں جس کے ہاتھوں دینِ آدم ؑ اور دینِ ابراہیم ؑ کی تصدیق و تکمیل ہوئی۔
مگر اسلام صرف ایک مذہب یا دین نہیں۔
یہ ایک نظامِ معاشرت بھی ہے` نظامِ معیشت بھی ہے اور نظامِ سیاست بھی ہے۔
جس رات آپ نے ہجرت کی ` یعنی اس تاریخی سفر کا آغاز کیا جس نے دنیا کی تاریخ تبدیل کرڈالی` اس رات یہ طے پا گیا کہ جو معاشرت آپ اختیار کریں گے وہ کرہ ءارض کامقدر بنے گی ` جومعیشت آپ نافذ کریں گے `انسانی معاشرہ اسی کو اختیار کرنے کا پابند ہوگا اور جو سیاست آپ کے قول و فعل کے ذریعے جنم لے گی `وہ آپ کی رسالت پر ایمان لانے والے تمام انسانوں کی سیاست ہوگی۔
وہ لوگ جوا سلام کو مسلمانوں کی معاشرت معیشت اور سیاست سے الگ رکھنا چاہتے ہیں انہوں نے شاید آپ کی زندگی کامطالعہ ہی نہیں کیا۔
یا پھر یہ کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے کے باوجود درحقیقت اسلام سے اسی قدر دور ہیں جس قدر دُور ” جہالت کا باپ “ تادمِ آخر رہا۔
اگر اسلام آدمی کا ذاتی مسئلہ ہوتا تو آپ ہجرت کیوں کرتے؟ ایک سپاہی کی حیثیت سے تلوار کیوں اٹھاتے؟ ایک سپہ سالار کی حیثیت سے لشکرِ اسلام کی قیادت کیوں کرتے ؟ اور ایک سٹیٹسمین کی حیثیت سے مدینہ کو ایک مکمل اسلامی ریاست کا نمونہ کیوں بناتے۔۔۔؟
وقت آگیا ہے کہ آپ کا ہرجاں نثار سیکولرزم کے فتنے کوکچلنے کے لئے ” روایتِ ابوبکر ؓ “ پر عمل کرنے کا عہد کرلے۔
روایتِ ابوبکر ؓ کیا تھی ۔۔۔؟
اس کاجواب ہر اس شخص کو معلوم ہے جس نے تاریخ پڑھی ہے۔
(یہ کالم اس سے پہلے بھی 25-01-2013 کو شائع ہوا تھا)

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top