ابا حضور آپ محمد علی سے بدرجہا بہتر ہیں!

21اکتوبر 2016ءہماری تاریخ کا ایک یادگار دن بن گیا کیوں کہ اُس روز ہمارے غریب نواز اور غریب دوست وزیر اعظم میاں نوازشریف غریبوں کا ذکر کرتے ہوئے غریبوں کی حالت ِ زار پر” آبدیدہ“ ہو گئے۔
” آبدیدہ “ ہونے کا مطلب آپ سمجھتے ہیں؟ آنکھوں میں آنسو بھر آنا۔ ساتھ ہی آواز کا بھرا جانا۔ غریبوں کے لیے یہ درد وزیراعظم کے سینے میں اچانک نہیں اُٹھا۔ ایک عرصے سے وہ ٹیسیں محسوس کر رہے تھے۔ اسی لئے وہ لندن کے ایک نہایت مہنگے کلینک میں علاج کے لیے داخل بھی ہوئے تھے۔
یہ ”تاریخی“ واقعہ رحیم یار خان کے ایک سکول میں ہیلتھ کارڈ سکیم کے حوالے سے منعقد کی جانے والی ایک تقریب کے دوران رونما ہوا۔ میاں صاحب حاضرین کو بتا رہے تھے کہ حکمرانوں نے بڑے بڑے مہنگے پراجیکٹس پر اربوں کھربوں ضائع کئے لیکن انہیں غریبوں کی حالت ِ زار کا خیال نہ آیا۔ انہیں فکر اپنی تجوریاں بھرنے اور بڑی بڑی کمیشن لینے کی رہی۔ وہ بھول گئے کہ عوام کا بھی ملک کی دولت پر کوئی حق ہے۔
حکمرانوں کی بے حسی ، سنگدلی اور بداعمالی کا رونا روتے روتے وہ خود اپنے آپ کو مظلوم و بے بس و مجبور غریب عوام سمجھ بیٹھے اور دل سے ایسی ہُوک اٹھی کہ آبدیدہ ہو گئے۔
مجھے یقین ہے کہ فلموں والے انداز میں وہ چند لمحوں کے لیے اپنی یادداشت کھو بیٹھے ہوں گے اور اُنہیں یاد نہیں رہا ہو گا کہ حکمران تو وہ خود ہیں۔ یہ بھی یاد نہیں رہا ہو گا کہ کہ زندگی کے تیرہ برس انہوں نے کرسی ¿اِقتدار میں گزار ے ہیں۔ پانچ برس وہ پنجاب کے حاکم اعلیٰ رہے۔ اور وزیر اعظم کی حیثیت سے یہ اُن کا آٹھواں سال ہے۔
اُن کے چھوٹے بھائی کا پنجاب میں دورِ اقتدار اس کے علاوہ ہے۔ چھوٹے میاں بھی دس سال وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ اور یہ اُن کا گیارہواں سال ہے۔ یادداشت کچھ ایسی ہی چیز ہے کہ آتی جاتی رہتی ہے۔
میاں صاحب کو یہ ضرور یاد ہے کہ اگر قسمت پھر مہربان رہی تو 2018ءمیں اپنی غریب نوازی اور غریب پروری کی وجہ سے اور اپنے مقرر کردہ الیکشن کمیشن کی وفاداری اور فرض شناسی کی بدولت 2023ءتک کے لئے پھر وزیر اعظم منتخب ہو جائیں گے۔
یوں ہی مجھے خیال آیا ہے کہ میاں صاحب ”آبدیدہ“ صرف غریبوں کی حالت ِ زار کے بارے میں سوچ کر نہیں ہوئے ہوں گے ، یہ سوچ کر بھی ہوئے ہوں گے کہ اگر قسمت کی دیوی آنے والے دنوں میں ان سے رُوٹھ گئی تو وہ 2023ءتک غریبوں کی خدمت کیسے کر سکیں گے۔
فلموں میں اداکار بھی اکثر اپنے کرداروں کی ادائیگی کے سلسلے میں ” آبدیدہ “ ہوتے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں مجھے اپنے مرحوم دوست محمد علی کے چند رُلا دینے والے مکالمے یاد آئے بغیر نہیں رہے۔ ”جج صاحب میری جوانی مجھے لوٹا دو“۔
محمدعلی اِ س کردار میں بہت عمدہ طریقے سے ”آبدیدہ“ ہوئے تھے۔
جب میاں صاحب 21اکتوبر کو آبدیدہ ہو رہے تھے تو حاضرین میں اُن کی صاحبزادی مریم نواز بھی موجود تھیں۔ جو اَب خود کو مریم صفدر کہلانا پسند نہیں کرتیں۔ محترمہ کی تحسین آمیز مسکراہٹ دیکھ کر مجھے یوں لگا جیسے وہ کہہ رہی ہوں ….” ابا حضور آپ محمد علی سے بدرجہا بہتر ہیں“۔

Scroll To Top