ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور اپوزیشن

zaheer-babar-logoوطن عزیز میں ڈالر کی قدر بڑھ کر 115.50 روپے تک پہنچ گئی جس کے بعد کرنسی کاروبار کرنے والے اور معاشی ماہرین نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ سب کچھ بین الاقوامی فنانشل اداروں سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے گئے سرکاری حکام کے وعدوں کا شاخسانہ ہے۔ادھر سٹیٹ بینک کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ مارکیٹ میں اس کی طلب ہے لیکن شائد ہی کوئی باخبر پاکستانی اس وجہ کو قابل قبول سمجھ رہا ۔یاد رہے کہ جولائی 2017 میں ڈالر کی قیمت 106 روپے تھی۔ ادھر قومی میڈیا میں خبریں آچکیں کہ آئی ایم ایف کے خیال میں پاکستان میں ڈالر کی موجودہ قیمت اس کی قدر کی صحیح عکاسی نہیں کرتی اور اس کے مطابق اسے 120 سے 125 روپے تک لے جانا ہوگا۔ یہ بھی کہا جارہا کہ اعلی حکومتی شخصیات بین الاقوامی اداروں کو یقین دہانیاں کرواکر ایسی ”کاروائی “ کرجاتے ہیں مگر ان میں اتنی جرات نہیں ہوتی کہ وہ عوام کو سچ بتا سکیں۔ ملک میں مہنگائی کی صورت حال سے آگاہ حضرات باخوبی آگاہ ہیں کہ ڈاکر کی قدر میں پانچ فیصد اضافے کا نتیجہ اشیاءخردونوش سمیت دیگر چیزوں میں مہنگائی کے طوفان کی صورت میں آئے گا۔ افسوس اس پر ہے کہ عام انتخابات کی آمد آمد کے باوجود حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ مہنگائی بڑھنے پر لوگ اس سے کس حد تک بیزار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن یہ دعوی کرتی رہی کہ وہ ایک تجربہ کار سیاسی جماعت ہے۔ بطور اپوزیشن لیڈر سابق وزیر اعظم ملک کو درپیش مسائل پر برملا کہتے رہے کہ ان کے پاس ایسی تجربہ کار ٹیم موجود ہے جو اس ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی پوری اہلیت رکھتی ہے مگر افسوس ان کا یہ دعوی سچ ثابت نہ ہوا۔
یقینا ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اثر عوام پر پڑے گا ،خاص طور پر جب پیٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہو اور یہ اضافہ کمر توڈ مہنگائی کو ساتھ لے کر آئے۔ دراصل حکومت اس سچائی کو کسی طور پر نہیں جھٹلا سکتی ہے کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ پاکستان کے ذرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی آچکی جس سے انھیں قرضوں کی ادائیگی میں دشواری پیش آ سکتی ہے ۔ کہا جارہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سٹیٹ بینک کی جانب سے کیا گیا جیسا کہ اس سے قبل گذشتہ سال دسمبر میں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتی ہے۔ اس پس منظر میں خیال کیا جارہا ہے کہ شائد ڈالر کی قدر میں اضافے کے درآمدات کچھ کم ہو جائیں اور برآمدات میں اضافہ ہو لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہیں ۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے ملک سے سرمایہ چلا جاتا ہے ، یعنی یہ اقدام پیغام دیتا ہے کہ اس سرزمین پر سرمایہ دار آنا نہیں چاہتا چنانچہ یہ ہر طرح سے نقصان دہ ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ ڈالر کی قیمت میں اچانک اس بے تحاشا اضافے پر اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی کیا ہوگی ، سیاسی سمجھ بوجھ کا حامل عام پاکستانی یہ امید کرنے میں حق بجانب ہے کہ الیکشن کی آمد پر سرکار کی جانب سے کی جانے والی اس کوتاہی پر خوب شور مچے گا۔ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں پوری قوت سے احتجاج کریںگی۔ دراصل اپوزیشن کی اول وآخر زمہ داری یہی ہے کہ وہ سرکار کی ان کوتاہیوں کی نشاندہی کرے جس کے نتیجے میں لوگوں کی مشکلات میں کسی نہ کسی شکل میں اضافہ ہو رہا ہو۔ موجودہ حزب اختلاف کے ناقدین کے بعقول اپوزیشن جماعتیں گذشتہ سالوں میں ایسی حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کی بدولت عوام میں ان کی حمایت میں اضافے کے علاوہ ملکی مسائل میں کمی ہوتی۔
یہ کہنا غلط نہیں کہ رائج نظام ایسی کارکررگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا جس کی بدولت کروڈوں پاکستانیوں کا اعمتاد حاصل کرتا۔ اب تک یہی گماں ہے کہ موجودہ سسٹم اس طاقتور طبقہ کے مفاد کا تحفظ کررہا جو نسل درنسل اس مملکت پر حکومت کرتا چلا آرہا۔
تسلیم کہ تیسری دنیا کے ہر ملک میں جمہوریت ایسی نہیں جس پر رشک کیا جاسکے شائد یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں الیکشن بھی ہوتے ہیں ، عوامی نمائندوں کا انتخاب بھی عمل میں آتا ہے مگر جمہور کا مفادات بالادستی حاصل کرتا نظر نہیں آرہا۔
معاشی پالیسوں سے متعلق اب تک یہی کہا جاسکتا ہے کہ جو بھی حکمران آیا اس نے ڈنگ ٹپاو اقدمات اٹھائے۔ سوچ سمجھ کر وہ ایسے کام کرنے سے گریز کیا گیا جس کا مثبت نتیجہ نکلتا۔ مگر اس صورت حال میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، ہمیں اس پر اطمنیان کا اظہار کرنا چاہے کہ ارض وطن میں جیسی بھی ہے جمہوریت کا پہیہ آگے بڑھ رہا۔ لوگوں کو سیاسی شعور بھی بہتری نمایاں ہورہی۔پرنٹ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا اصلاح احوال بارے متحرک ہے۔ضی میںملکی حالات سے لا تعلق رہنے والی ملک کی مڈل کلاس میں یہ سوچ فروغ پذیر ہے کہ جب تک آگے بڑھ کر وہ اپنا کردار ادا نہیں کریں گے بہتری کی کوئی بھی صورت نہیں پیدا ہونے والی۔ یہی سبب ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کے حوالے سے جو متوقع مسائل پیدا ہونے جارہے ان کا تذکرہ باشعور پاکستانی حلقوں میں تو کہیں نہ کہیں ہورہا مگر منتخب ایوانوں سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔

Scroll To Top