جسٹن ٹروڈو کا دورہِ بھارت

  • ٍٍعدیلہ نورین

بھارتی حکومت نے کےنےڈا کے وزےراعظم جسٹن ٹروڈوکے دورہِ بھارت کو اےک سوچے سمجھے سفارتی منصوبے اور ابلاغی تحرےک کے ذرےعے غارت کےا۔
باوجودےکہ موصوف نے اپنے تےئںبھارتی ثقافت کےلئے عزت واحترام کا اظہار کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کر ڈالی۔ ےہاں تک کہ اپنے پورے پرےوار کو بھارتی لباس پہنانے کا ڈرامہ بھی رچا ڈالا لےکن افسوس کہ بھارت مےں خالصتان اور سکھوں سے شدےد نفرت اور بغض رکھنے والے انتہاپسند اےک انچ بھی سرکنے کو تےار نہ تھے۔
بھارت کو ےہ بات کسی طور ہضم نہےںہو رہی ہے کہ ےورپ اور شمالی امرےکہ مےں پھےلے سکھوں کی دو نسلوں نے انتھک محنت اور سےاسی جدوجہد سے اپنا نقطہ نظر منواےا ہے اور اس مےں کسی کو شک نہےں ہونا چاہےئے کہ سےاست اور معےشت مےں سکھ خاصااثرورسوخ رکھتے ہےں۔
سکھوں سے نبردآزما ہوتے ہوئے غالباً حواس باختہ بھارتی حکومت سفارتی ادب آداب تک بھول گئی ہے جےسا کہ کےنےڈا کے وزےراعظم ٹروڈو کے حالےہ دورہ ِبھارت سے عےاں ہے۔ نہ تو بھارتی وزےراعظم مودی نے انہےں ہوائی اڈے پر خوش آمدےد کہا اور نہ ہی ٹروڈو کو مودی کی مشہور زمانہ ” جھپی“ ملی جس کےلئے وہ مقبول ہےں۔ ےہاں تک کہ نرےندر مودی نے معزز مہمان کےلئے خوش آمدےد کا ٹوئٹ کرنا بھی گوارہ نہ کےا۔ اور تو اور بھارتی مےڈےا نے بھی سرد مہری کا روےہ اختےار کئے رکھا۔
واشنگٹن پوسٹ مےں برکھادت کے کالم ©” ٹروڈو کا دورہ بھارت مکمل تباہی تھی جس کےلئے وہ خود ذمہ دار ہےں“۔ پڑھ کر مجھے بھارت کی رعونت آمےزی اور غےر سفارتی روےہ اختےار کرنے پر بےحد افسوس ہوا۔
برکھادت سوال کرتی ہےں کہ ےہ کےسے ممکن ہے کہ ٹروڈو دنےا کا مقبول ترےن رہنما جو کسی طور بھی اداکاروں سے کم کشش نہےں رکھتا، جس کی کابےنہ کی پچاس فےصد ممبران خواتےن ہےں اور جس نے اپنی سےاسی لغت مےں لفظ ” بنی نوعِ انسان کو تبدےل کر کے©©” بنی نوع عوام“ بنا دےااور دنےا کا دل جےت لےا، اپنے حالےہ دورہِ بھارت مےں اےک بےوقوف ، ماےوس اور متفکر شخص کے طور پر سامنے آئے گا۔ٹروڈو کا آٹھ روزہ دورہ بھارت اےک مہم تھی جس مےں ان کے ہاتھ سوائے ذلت کے کچھ نہےں آےا۔ بھارت مےڈےا کی جانب سے کئے گئے اور بچگانہ اور بودے سوالات کچھ اس طرح کے تھے کہ ٹروڈوبھارت مےں اتنی دےر سے کےا کر رہا ہے؟ کےا اس کا کوئی ملک نہےں جہاں کا نظامِ حکومت اس کی ذمہ داری ہو؟
روزنامہ ”انڈےپنڈنٹ“ کی 25 فروری کی اشاعت مےں سنی ہنڈال لکھتاہے کہ معاملہ صرف کےنےڈا کا نہےں ہے بلکہ بات اس سے کہےں آگے کی ہے۔ جس حقےقت نے بھارت سرکار کو پرےشان کےا ہوا ہے وہ برطانےہ ، امرےکہ اور کےنےڈا مےں سکھوں کا روز افزوں بڑھتا ہوا اثرورسوخ ہے اور اہم اور طاقتور عہدوں پرفائز ہو کر وہ بھارت مےں سکھوں کے شہری حقوق کی پامالی کو چےلنج کر سکتے ہےں۔ بھارتی حکومت سکھوں کی عسکری جدوجہد کے دوبارہ شروع ہونے کا ذکر تو کرتی ہے لےکن مےرے خےال مےں اسے بڑھا چڑھا کر بےان کےا جارہاہے۔ بھارتی اربابِ اختےار مےں ےہ خدشہ جڑ پکڑتا جارہا ہے کہ مستقبل مےں بھارت کے حوالے سے مغربی خارجہ پالےسی سکھوں کے اثرورسوخ کے تحت ہو گی
جو ےقےنا بھارتی مفادات کو چےلنج کرےں گے۔ اسی لئے خبردار کرنے والے ابھی سے سکھوں کی علےحدگی کی بات کر رہے ہےں۔
اخبار © ہندو نے اس امر کا نماےاں طور پر اظہار کےا ہے کہ ملک مےں سرخ پرچم ٹروڈوکے آٹھ روزہ دورہ سے بہت پہلے لہرادےئے گئے تھے۔ نئی دلی نے وفد سے مطالبہ کےا تھا کہ کنےڈےن سکھ وزراءجن کے بارے مےں شبہ تھا کہ وہ انہتاپسند سکھ گروہوں کےلئے نرم گوشہ رکھتے ہےں وفد سے خارج کر دئےے جائےں، اٹاوہ نے اےسا کچھ بھی کرنے سے انکار کر دےا۔ بھارتی حکومت چاہتی تھی کہ ٹروڈو مشرقی پنجاب کے وزےراعلی امرےندر سنگھ سے ملاقات کرےں جنہےں حکومت کےنےڈا نے 2016 ءمےں دورہ کےنےڈا کی اجازت دےنے سے انکار کر دےا تھا۔ لےکن ٹروڈو کے دفتر نے اس معاملے مےں کسی قسم کی ےقےن دہانی کرانے سے انکار کردےاتھا۔ بھارت نے ٹروڈوکے اسقبالےہ مےں جسپال اٹوال کی موجودگی پر بھی ناپسندےدگی کا اظہار کےا تھا۔جو بھارت کی تشرےح کے مطابق دہشت گردوں کے زمرے مےں آتا ہے۔
اخبار” بزنس سٹےنڈرڈ “نے ان تنازعات کا ذکر کےا جو حکومت بھارت اور کےنےڈا کے درمےان ان تارکےن وطن گروہوں سے متعلق چل رہے ہےں جو بھارت کی جغرافےائی سلامتی کےلئے خطرہ ہےں۔
سکھ جدوجہد سے نمٹنے والی بھارتی حکومت نے اےک نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اےک طرف توجگی جےسے سکھ رہنماو¾ں کو جو سکھ مقصد کےلئے نماےاں خدمات انجام دے رہے ہےں روائتی ہتھکنڈوں اور بربرےت کا نشانہ بنا کر دوسروں کےلئے مثال بنا کر پےش کر رہے ہےںجبکہ دوسری جانب پنجاب مےں خفےہ ادارے مقامی ہندو رہنماو¾ں کو پےشہ ور قاتلوں کے ہاتھوں مروا کر الزام سکھ نوجوانوں پر تھوپ رہے ہےں۔
برطانےہ، امرےکہ اور کےنےڈا مےں پانچ پانچ لاکھ سکھوں کی موجودگی اور کےنےڈا کی پارلےمنٹ مےں 2015 ءمےں بےس سکھ ممبران کی نمائندگی کی وجہ سے سکھ کمےونٹی کے خلاف بھارت کی مخاصمت اور غصہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومتی کابےنہ مےں سکھ برادری چار وزارتےں قابو کرنے مےں کامےاب ہوئی جس مےں وزارت دفاع کےلئے ہرجےت سجن کا تقرر بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اپوزےشن پارٹی NDP مےں جگمےت سنگھ کا بحثےت اپوزےشن رہنما کے مقبول ہونا بھی بھارتی تفکرات مےں اضافے کا باعث ہے۔
گزشتہ برس برطانوی پارلےمنٹ مےں دو سکھ ممبران منتخب ہوئے جنہوں نے سکھوں کے مسائل کو نہاےت جانفشانی سے والہانہ انداز مےں اجاگر کرنے کی کوشش کےں۔گو کہ امرےکی سکھ نسبتاً قلےل تعداد مےں ہےں تاہم ان کی آواز بےن الاقوامی سطح پر سنائی دےتی ہے۔ جازبِ نظر اور شعلہ بےان ڈاکٹر امرجےت سنگھ جن کا تعلق TV-84 سے ہے اور سکھ فارجٹسس (SFJ) جماعت کے ترجمان گورپﺅنت سنگھ پنوں کا تعلق اےسی ہی شخصےات سے ہے۔ کچھ ہی دےر کی بات ہے جب امرےکی سکھ بھی سےاسی افق پر نماےاں ہو جائےں گے۔ اس بات کو کثرت سے تسلےم کےا جا رہا ہے کہ مقتدر بھارتی (ہندو) اس خدشہ مےں مبتلا ہےں کہ بھارت کےلئے مغربی پالےسی ، کوئی وقت نہےں کہ سکھ ترتےب دےا کرےں گے۔ گزشتہ ہفتوں مےں، مغرب مےں کوئی اےک سو کے لگ بھگ گوردواروں کو واضح طور پر بھارتی حکام کے داخلے کےلئے ممنوع قرار دے دےا گےا۔الزام ےہ ہے کہ وہ گردواروں کے اندرونی معاملات مےں بے جا مداخلت کرتے ہےں اور اس سلسلہ مےں برطانوی شہری جکتر سنگھ جوہل کی گرفتاری کی مثال بےان کی جاتی ہے۔
سنی ہنڈال ”دی گلف ٹوڈے “ مےں بھارتی رےاست کے خفےہ کار پردازوں کی بے چےنی کی وجوہات بےان کرتے ہوے کہتاہے کہ حکومتی اربابِ اختےار سکھوں کی جانب سے 1984 ءمےںکےے جانے والے قتل عام کے سلسلہ مےں انصاف کے مطالبہ کو دراصل علےحدگی پسندی کا مطالبہ کہتی ہے ۔ گزشتہ برس اونٹورےو کی رےاستی پارلےمنٹ نے اےک تحرےک منظور کی گئی جس کے تحت 1984 ءکے خونچکاں واقعات کو سکھوں کی نسل کشی سے تعبےد کےا گےا۔
بھارتی مےڈےا جس کی اکثرےت ان واقعات کو فسادات کہنا پسند کرتا اور ترجےح دےتا ہے (تاکہ اسے ہندو¾ں اور سکھوں مےں اختلافات کا نام دے کر حقےقت چھپائی جا سکے) اس رےاستی تحرےک کو اس ثبوت کے طور پر پےش کرتا ہے کہ کےنےڈا مےں سکھ علےحدگی پسندی کی تحرےک تروےج پارہی ہے۔
اسی بات کا رونا روتے ہوئے ٹائمز آ ف انڈےا اپنی 23 فروری کی اشاعت مےں واوےلا کرتے ہوئے کہتا ہے ۔ مختلف سکھ تنظےموں کے نمائندوں جن مےں شرومنی گوردوارہ پرنبدھک کمےٹی، دہلی سکھ گوردوارہ کمےٹی و دمدمی ٹکسال کے سربراہوں کے علاوہ پانچ سکھ تختوں کے جتھے داروں نے سابق دمدمی ٹکسال چےف جرنےل سنگھ بھنڈرانولا کی ےاد مےں ان کے گاو¾ں روڈے، ضلع موگہ مےں تعمےر ہونے والے گوردوارہ کے سنگ بنےاد رکھنے کی تقرےب مےں 22 فروری کو شرکت کی۔ گوردوارہ سخت خالصہ، دمدمی ٹکسال کے چےف ہرمان سنگھ دُھمہ کی خواہش پر بھنڈرانولا کی جنم بھومی روڈے مےں تعمےر کےا جا رہا ہے۔ جبکہ شرومنی گوردوارہ پرنبدھک کمےٹی کے صدر گونبد سنگھ لوگووال کا کہنا ہے کہ وفاق کی تمام حکومتوں نے ےکے بعددےگرے سکھوں کا استحصال کرنے سے گرےز نہےں کےا۔ شمالی امرےکہ، ےورپ اور آسٹرےلےا مےں خالصتان 2020 کی مہم کا آغاز ہوتے ہی بھارت مےں بے چےنی واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔سنی ہنڈال دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ سکھ اس لئے خالصتان کا مطالبہ نہےں کر رہے ہےں کہ وہ کسی مذہبی رےاست کے باشندے بن کر رہنا چاہتے ہےں بلکہ اس لئے کہ انہےں اےک اےسا ملک درکار ہے جہاں تمام سکھ بھائی چارے کے ساتھ وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکےں۔انہےں اےسی رےاست درکار ہے جو سکھوں کا تحفظ کرے نہ کہ ہزاروں بے گناہوں کا ماورائے عدالت قتل کر کے اسے چھپانے کی کوشش کرے۔ اس کے برعکس بھارت مخالف سمت مےں قدم بڑھا رہا ہے۔ بھارتی انتہاپسند ہندو تحرےک ہندتوا کے زور پکڑنے سے بھارتی اقلےتےں خود کو پہلے سے زےادہ غےر محفوظ تصور کر رہی ہےں۔
بےن الاقوامی سطح پر بھارت کی روز افزوں بڑھتی ہوئی طاقت اس کے غاصب اور ظالم ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔بےن الاقوامی تعلقات مےں بھارتی پالےسی غےر حقےقی، غےر محفوظ ہونے کے احساس کے تابع ہو گی۔جہاں بھارت کی داخلی ترجےحات وسائل اور بھارت مےں مقےم اقلےتوں کے عزت اور آزادی کے مطالبات براہ راست بھارت کے ان ممالک سے تعلقات پر اثرانداز ہونگے جو بھارتی اقلےتوں کی مہمانداری کر رہے ہےں۔
بھارت بھلے غلطی پر ہی کےوں نہ ہو مگر وہ نام نہاد احساسِ تحفظ کی خاطر بےن الاقوامی شخصےات کی سفارتی طور پر تحقےر کرنے مےں کبھی نہےں چوکے گا۔ اور اس غےر مہذب پالےسی کو تکبر، اور بدتمےزی کا نام دےا جا سکتا ہے ۔
برکھادت اپنے واشنگٹن پوسٹ کے مضمون کا اختتام ہتک آمےز نصحےت کے ساتھ کرتی ہے۔” ©سو جناب وزےراعظم ٹروڈو آپ جب اگلی مرتبہ بھارت آئےں تو دہشت گرد اور عروسی کرتے گھر چھوڑ کر آئےں“ مےں ےہ قارئےن پرچھوڑتی ہوں کہ آےا انہےں بھارتی اسٹبلشمنٹ اور اس کے کٹھ پتلی مےڈےا کی زبان سے حقارت اور ہتک
آمےز الفاظ کی بُو محسوس ہوئی ےا نہےں ۔
eelanaureen@gmail.com

Scroll To Top