بات پاکستان کے ڈی ریل ہونے کی 23-01-2013

صدر زرداری صاحب نے فرمایا ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور مدت پوری کریں گے۔
پاکستان کے عوام بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں۔ انگریزی کی تعلیم صرف خواص یا نیم خواص تک محدود ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ کسی ان پڑھ آدمی سے بھی پوچھیں گے کہ ” ڈی ریل کرنے “ کا مطلب کیا ہے تو وہ بغیر توقف کے جواب دے گا۔ ” مطلب تو میں نہیں جانتا مگر ملک میں کچھ لوگ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور کچھ کا کام ان کو ششوں کو ناکام بنانا ہوتا ہے۔“
جمہوریت کو ” ڈیل ریل “ نہ ہونے دینا صرف صدر زرداری کا ہی مشن نہیں ` میاں نوازشریف کا بھی مشن ہے ` مولانا فضل الرحمن کا بھی مشن ہے ` خان اسفندیارولی خان کا بھی مشن ہے ` اور بھائی الطاف حسین کا بھی مشن ہے۔ اس مشن میں میڈیا کی بھی بڑی بڑی ہستیاں شریک رہتی ہیں۔ خاص طور پر وہ ہستیاں جن کا کاروبار جمہوریت میں ہی فروغ پاتا ہے۔
جہاں تک مولانا فضل الرحمن اور الطاف بھائی کا تعلق ہے وہ جمہوریت کے ” ڈیل ریل “ ہونے کے بعد بھی پٹڑی پر ہی رہتے ہیں اور رواں داں و جاوداں رہتے ہیں۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ جمہوریت کے ڈیل ریل ہونے کا مطلب کیا ہے۔ تو جواب مشکل نہیں۔ جب ہمارے حکمران خاندانوں پر اقتدار کے دروازے بند ہوجاتے ہیں تو وہ یہ رونا رویا کرتے ہیں کہ جمہوریت ڈیل ریل ہوگئی۔ دوسرے الفاظ میں یہاں جمہوریت کا مطلب زرداری صاحب ` میاں صاحب ` مولانا صاحب` الطاف صاحب ` خان صاحب ` او ر ایسے ہی تمام صاحبان کے اقتدار کا تسلسل ہے۔ آپ کو یقین کرنا چاہئے کہ اگر آئندہ کبھی جمہوریت ڈی ریل نہ ہوئی تو پچاس ساٹھ سال بعد وزارت عظمیٰ کے لئے مقابلہ بلاول بھٹو اور حمزہ شہباز یا مریم نواز کے بیٹوں کے درمیان ہوگا۔
جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ ایک عرصے سے ڈیل ریل ہوتے چلے جارہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کا پیارا پاکستان بھی ” ڈی ریل “ ہورہا ہے۔

kal-ki-baat

Scroll To Top