اے قوم تمہارے ساتھ کیا جانے والا یہ سنگین او رشرمناک مذاق اب ختم ہونا چاہئے !

جو لوگ کہتے ہیں کہ دین کو سیاست سے دور رکھنا چاہئے وہ دراصل آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ اور تعلیمات کی نفی کرتے ہیں۔۔۔ میں اگر اِس رویے کو توہینِ رسالت ﷺ کہوں تو شاید غلط نہ ہو۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے آدمی کی ذاتی زندگی کو ` معاشرے کی اقدار کو ` ریاست کے کاروبار کو اور دوسرے مذاہب کے بارے میں دین اسلام کے بنیادی رویوں کو ایک نہ تقسیم کی جاسکنے والی اکائی میں تبدیل کیا اور اِس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے حج کے موقع پر خلقِ خدا سے یہ گواہی لی کہ انہوں نے وہ فریضہ پوری دیانت کے ساتھ ادا کردیا تھا جو خالق ِ کائنات نے انہیں اپنا آخری پیغمبر بنا کر ان کے سپرد کیا تھا۔۔۔یہ گواہی لینے کے بعد آپ ﷺ نے وہ لوگ جو ان کے سامنے موجود تھے ۔۔۔ اور وہ لوگ جو وہاں موجود نہیں تھے۔۔۔ اور وہ لوگ بھی جو آنے والے برسوں دہائیوں اور صدیوں میں روئے زمین پر آنے اور زندگی بسر کرنے والے تھے۔۔۔ ان سب سے مخاطب ہو کر کہا ” آج آپ کا دین مکمل ہوگیا۔۔۔ آج کے بعد آپ کا دین اسلام ہے ۔۔۔ اِس دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاﺅ۔۔۔‘ ‘
میں نہیں سمجھ پاتا کہ جو لوگ مسلمان ہو کر بھی آنحضرت ﷺ کے اس قدر واضح فرمان کو نظر انداز کرکے کہتے ہیں کہ دین کو سیاست سے دور رکھا جائے وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے میں کیسے حق بجانب ہیں ۔۔۔ اس افسوسناک صورتحال کے جو اسباب میری سمجھ میں آتے ہیں ان میں ایک تو یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں ان کی آگہی محدود اور نامکمل ہے۔۔۔ اور دوسری یہ کہ وہ اسلام کو ماضی کی ایک داستان سمجھتے ہیں جس کا دورِ حاضر کے حقائق سے بس اتنا تعلق ہے کہ وقت ملے تو نماز پڑھیں اور طبع پرگراں نہ گزرے تو روزے بھی رکھ لیں۔۔۔ اس کے علاوہ اس حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ جن قوتوں کے ساتھ اسلام کی مسابقت اور محاذ آرائی صدیوں پر محیط ہے وہ عصرِ حاضر کے زمینی حقائق اور ٹھوس تقاضوں کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کے درمیان رکاوٹیں اور فاصلے پیدا کررہے ہیں۔۔۔
یہاں میں تہذیبوں کے تصادم کی بات بھی کروں گا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اسلام کا جو سفر آنحضرت ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے دوران شروع ہوا تھا۔۔۔ جس نے خلافت راشدہ او ر اس کے بعد اموی دورِ حکومت میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک زمین کی وسعتوں کو اپنے نام لیواﺅں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے سامنے سمیٹ کر رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ بدلتے زمانوں اورعروج کے بعد زوال اور زوال کے بعد عروج کی ایک تحیّر خیزداستان ہے۔۔۔ فرزندانِ اسلام نے سپین ` اٹلی اور پرتگال میں بھی صدیوں تک پرچم توحیدبلند رکھا۔۔۔ اور جب زوال اور سقوط ان ممالک میں ان کا مقدر بنا تو سلطنتِ عثمانیہ نے جنم لیا جو صدیوں تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنی رہی۔۔۔اس سے پہلے آسمان نے سلطنت خوارزم اورسلطنتِ عباسیہ کا عروج دیکھا اور پھر منگولوں کی یلغار کے سامنے ان کی تباہی بھی دیکھی۔۔۔ صلیبی جنگوں کی صدیاں بھی تاریخ کا حصہ بنیں۔۔۔ بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھن گیا تو قدرت نے اسے صلیبی قوتوں سے واپس لینے کے لئے صلاح الدین ایوبی ؒ کو جنم دیا۔۔۔آنحضرت ﷺ نے ایک روایت کے مطابق یہ دعا کی تھی کہ اسلام کا پرچم قسطنطینہ کی فضاﺅں میں بھی لہرائے۔۔۔ آپ ﷺ کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے حضرت امیر معاویہ ؓ نے قسطنطینہ پر پہلی لشکر کشی کی۔۔۔ اس جنگ میں ان کے فرزند یزید اور آنحضرت ﷺ کے نواسے حضرت حسین ؓ نے ایک ساتھ حصہ لیا لیکن قسطنطینہ کی تسخیر آنحضرت ﷺکے وصال کے ٹھیک آٹھ سو بائیس برس بعد ممکن ہوسکی۔۔۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ قسطنطینہ کے ناقابلِ تسخیر قلعے کی فصیلوں کو توڑڈالنے والے بطلِ جلیل کا نام بھی محمد تھا۔۔۔ ہم اس رجلِ عظیم کو سلطان محمد فاتح کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔
غرضیکہ سفرِ اسلام آج بھی جاری ہے۔۔۔ آج امت محمدی ﷺ زوال پذیری اور ذلت ورسوائی کی عمیق ترین گہرائیوں کو چھونے کے بعد پھر دنیا کو اپنے وجود سے باخبر کرتی دکھائی دے رہی ہے۔۔۔
میں اس ضمن میں 1938ءمیں ہونے والی ایک کانفرنس کے ایک مقرّر کے یہ الفاظ دہراﺅں گا۔۔۔” میں اب ایک چونکا دینے والی بات کہنے والا ہوں۔۔۔ اگلی صدی نہ تو کمیونزم کی صدی ہوگی۔۔۔ نہ ہی نازی ازم کی صدی ہوگی اور نہ ایڈم ستمھ کو پوجنے والے مغرب کی صدی ہوگی۔۔۔ میں اگلی صدی میں اسلام کی واپسی اور اس کا عروج دیکھ رہا ہوں۔۔۔ “
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام واپس آرہا ہے۔۔۔ یہ جو ذکر تہذیبوں کے تصادم کا ہوتا ہے وہ اسی وجہ سے ہے ۔۔۔ مگر میں یہاں تہذیبوں کے تصادم کو ان معنوں میں نہیں لے رہا جن معنوں میں اکثر لیا جاتا ہے۔۔۔ یعنی اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم ۔۔۔ میری مراد تہذیبوں کے تصادم سے وہ تصادم ہے جو مسلمانوں کے اندر آپس میں اس بات پر ہورہا ہے اور آگے چل کر شدت اختیار کرے گا کہ سیاست سے دین کودور رکھا جانا چاہئے یا نہیں۔۔۔
مسلمانوں کے اندر ایک تہذیب وہ پیدا ہورہی ہے جس میں رہن سہن اور بودوباش کے وہ طریقے تیزی کے ساتھ اپنائے جارہے ہیں اسلام جن کی ممانعت سختی سے کرتا ہے۔۔۔او ر ایک تہذیب وہ بھی جڑیں پکڑ رہی ہے جس کا مضبوط رشتہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ہے۔۔۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات وہ نہیں جن کی عکاسی روایتی مولانا کرتے ہیں۔۔۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات کا ترجمان اور علمبردار آج کے دور میں وہ بطلِ جلیل ہے جسے ہم شاعرِ مشرق کہتے ہیں۔۔۔۔
میں یہاں علامہ اقبالؒ کے چند اشعار درج کروں گا۔۔۔
ہم سمجھتے تھے لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیرانِ کلیسا کو ۔۔۔ کلیسا سے اٹھا دو !
ایک تیسرا شعر بھی۔۔۔
بے خبر تو جوہرِ آئینہ ایام ہے
تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے
اور پھر یہ شعر بھی ہے۔۔۔
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امراءکے درودیوار ہلادو!
روحِ اقبال ؒ سے کتنا بڑا مذاق ہے کہ کاخ امراءکے در و دیوار ہلانے کے لئے کروڑ پتی سے ارب پتی اور ارب پتی سے کھرب پتی بن جانے والا سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نکلا ہے۔۔۔اور اس عظیم سعی میں اس کے ہمراہ اس کی صاحبزادی مریم ہے جس کی روز مرہ کی آرائش و زیبائش کا تخمینہ لگایا جائے تو کروڑوں تک جاپہنچتا ہے۔۔۔
اے قوم تمہارے ساتھ اب یہ مذاق ختم ہونا چاہئے۔۔۔aaj-ki-baat-new

Scroll To Top