ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

zaheer-babar-logo

دہشت گردی کے اکا دکا واقعات ہونے کے باوجود ملکی سیکورٹی فورسز نے انتہاپسند مسلح گروہوں پر جس کامیابی سے قابو پایا وہ تاریخ کاحصہ ہے۔ نائن الیون کے بعد دنیا بھر میںجو تبدیلیاں آئیں اس کا اثر لامحالہ طور پر پاکستان پر بھی پڑا۔ ماضی میں جو ہو ا سو ہو مگر اب جس عزم کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے قیام امن کے حوالے سے اپنی زمہ داریاں ادا کررہے ماضی میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ امریکہ ، بھارت اورافغانستان کا پاکستان پر الزام تراشی کرنا تشویشناک مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ مذکورہ تینوں ممالک طے شدہ حکمت عملی کے تحت پاکستان کو نشانہ بنا رہے۔ دانستہ طور پریہ تاثر دیا جارہا کہ پاکستان مسلہ کا حل نہیں بلکہ خود مسلہ ہے۔ وطن عزیز کے سوچنے سمجھنے والے حلقے آگاہ ہیں کہ پاکستان کو ملزم بنا کر پیش کرنے والوں کا اپنا ایجنڈا ہے، مگر اغیار کی کارستانیاں اپنی جگہ سوال تو یہ ہے کہ خود ہم بحرانوں سے نکلنے کے لیے کس حدتک متحرک ہیں، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بطور قوم ہمیں اپنی صفوں میں اتفاق واتحاد کو فروغ دینا ہے۔ دہشت گردی ہی نہیں قومی مسائل کے دیرپا حل کے لیے سیاسی جماعتوں کو متفق ہونا ہوگا۔ ملکوں کے معاملات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا موقف عالمی سطح پر اس لیے پذائری حاصل نہیں کرسکا کہ اسے بہتر انداز میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف جب تک اپنے عہدے پر برقرار رہے وزیر خارجہ کا تقرر نہ ہوسکا۔ وجہ کچھ بھی ہو مگر اب حقیقت یہ ہے کہ تارٰیخ کے اس موڈ پر وزیر خارجہ کی کرسی خالی ہونا تباہ کن اثرات مرتب کرگیا، اب خواجہ آصف کو وزیر خارجہ تو بنا دیا گیا مگر شائد بہت دیر ہوچکی ۔
تازہ پیش رفت میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے غیر مہبم الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے تمام دہشت گرد گروہوں کا کامیابی سے صفایا کیا، حقانی نیٹ ورک سمیت کسی گروہ کو نہیں بخشا،۔غیر ملکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کی بھاری قیمت چکائی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 75 ہزار پاکستانیوں نے جانیں دیں اور 100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ملکی معیشت کو پہنچا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن رد الفساد جاری ہے، جس کی وجہ سے پاکستان بھر میں پرتشدد واقعات میں نمایاں کمی آئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فاٹا میں پاک افغان بارڈر پر2 لاکھ سے زائد فوجی تعینات ہیں۔
دراصل عالمی برداری کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کسی کے دباو میں آکر نہیں لڑرہا بلکہ یہ پاکستان کی بقا وسلامتی کا معاملہ ہے۔ ہزاروں جانیں قربان اور پھر اربوں روپے کی املاک کا نقصان اٹھا کر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب اس عفریت کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔
انتہاپسندی کے خلاف کامیابیوں کو استحکام بخشنے کے لیے ہی پاک افغان بارڈر پر باڑ لگائی جارہی ہے جبکہ دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے تیزی سے چوکیاں بھی تعمیر کی جارہیں۔
امریکہ ہو یا افغانستان کوئی ماننے نہ ماننے مگر سچ یہی ہے کہ سرحد پار خطرات کے باعث پاکستان بادڈر کو مستحکم کیا جارہا۔ حیرت انگیز طور پر ایک طرف امریکہ اور افغانستان پاکستان پر دراندازی کا الزام عائد کرتے ہیں تو دوسری سانس میں ہی پاک افغان بارڈر پر باڈ لگانے کی بھی مخالفت کی جارہی۔ یقینا قومی اداروں نے درست سمت صیح قدم اٹھایا کہ انھوں نے بنا قانونی کاروائی کے بغیر سرحد آنے جانے پر رکاوٹ پیدا کی ۔
وطن عزیز میں عام انتخابات کی آمد میں اب زیادہ دن نہیں رہ گے یہی وجہ ہے کہ حکومت ہوں یا اپوزیشن سب ہی توجہ الیکشن پر مرکوز ہوچکی۔ کسی جانب سے یہ کوشش نظر نہیں آرہی کہ پاکستان اور صرف پاکستان کا مقدمہ پوری قوت سے لڑا جائے تاکہ قوموں کی صفوں میں ملک وملت کا نام روشن ہوسکے۔
غالب نے کیا خوب کہا تھا کہ ۔۔۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
وطن عزیز کو بھی ان دنوں سے اس طرح کی ہی صورت درپیش ہے، مثلا سی پیک کا آغاز ہوتے ہی امریکہ بہادر ہی نہیں بھارت بھی پوری قوت سے ہمارے خلاف میدان میں آچکا۔ کہنے کو تو پاکستان ہمسایہ ملکوں میں ”دہشت گرد“ کاروائیوں میں ملوث ہے مگر درحقیقت ہمیں ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے سے روکنے کے جتن کیے جارہے۔ حال ہی میں اعلی امریکہ عہدیدار نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا کہ اب ان کی ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ روس اور چین کو قابو میں لانا ہے۔ افغانستان میں امریکی عزائم ہم سب پر آشکار ہیں۔ پچیدہ اور اہم سوال تو یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف جاری کھیل کب اور کیسے ختم کیا جائے ۔ پاکستان کی حد تو برملا کہا جاسکتا ہے کہ سی پیک اس کے لیے ایک سہنرے موقعہ کی شکل میں سامنے آیا ۔ مذکورہ منصوبے سے ہماری معاشی مشکلات حل ہونے کے علاوہ پاک چین دوستی کے نتیجے میں ان ریشہ دوانیوں سے کسی نہ کسی حد تک تحفظ مل سکتا ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ قومی منظر نامے پر موجود رہنما درپیش چیلجز سے کی گہرائی اور اثرات سے آگاہ بھی ہیں کہ نہیں ؟

Scroll To Top