شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے: مداخلت کا الزام بے بنیاد ہے: چیف جسٹس پاکستان

  • ایگزیکٹو بدنیتی کا مظاہرہ کرے تو آئین کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے،خود کو ٹھیک کرنے کی بجائے عدلیہ کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،،بنیادی حقوق نہ ملنے سے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہو ر ہی ہیں
  • شہریوں کو میرٹ پر نوکریاں نہیں مل رہیں،بغیر جوازکے نکالا جاتا ہے لوگوں کی دادرسی عدلیہ نہیں تو اور کون کرے گا، جسٹس ثاقب نثار کا جسٹس (ر) فضل کریم کی کتاب جوڈیشنل ریویو آف پبلک ایکشن کے دوسرے ایڈیشن کی تقریب رونمائی سے خطاب

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار

لاہور (آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدلیہ کے تمام ججز ہیرے ہیں جو انصاف کی فراہمی کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ نے جوڈیشری کودیانتداری اوربغیر غرض کے لے کرچلنا ہے لوگوں کو بنیادی حقوق دلوانا فرائض میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ انصاف دلواناہماری ذمہ داری ہے جو عوام کو نہیں مل رہاشہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے ان خیالات کااظہار چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ روز جسٹس شاہد کریم کے والدجسٹس (ر)فضل کریم کی کتاب کی جوڈیشل ریویو آف پبلک ایکشن کے دوسرے ایڈیشن کی رونمائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ،سپریم کورٹ کے جسٹس عمرعطاءبندیال،جسٹس منظور احمد ملک کی شرکت جسٹس اعجازالاحسن ،جسٹس سید منصور علی شاہ سمیت دیگر ججز نے بھی شرکت کی جبکہ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس محمدیاورعلی ، لاہور ہائیکورٹ کے سینئرترین جج جسٹس محمد انوارلحق ، جسٹس مامون الرشید شیخ ،جسٹس محمد فرخ عرفان خان ، جسٹس محمد قاسم خان ،جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی ، جسٹس محمدامیربھٹی ،جسٹس عائشہ اے ملک،جسٹس شاہد کریم ، جسٹس شاہد وحید،جسٹس عاطر محمود،جسٹس شاہد بلال حسن ، جسٹس شہرام سرور چودھری،جسٹس طارق سلیم شیخ،جسٹس علی اکبرقریشی ، جسٹس اسجدجاوید گورال،رجسٹرار ہائیکورٹ بہادرعلی خان کی شرکت چیئرمین فیڈرل سروس ٹربیونل جسٹس (ر) سید زاہد حسین ، سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ خلیل الرحمان خان ، سابق صدر ہائیکورٹ بار حامد خان،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شان گل کی شرکت ظفر اقبال کلانوری ایڈووکیٹ،سرفراز حسین چیمہ سمیت دیگرسینئر وکلاءکی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جب میں تقریب رونمائی میں خطاب کرنے کیلئے ہال میں داخل ہو رہا تھا تو سوچتا رہاآخرمجھے کیوں بلایاگیا انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق نہ ملنے سے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہو ر ہی ہیں شہریوں کو بھی اپنے بنیادی حقوق کاعلم نہیں شہریوں کو حقوق کاعلم ہو جائے تو وہ خود ہی حقوق لے لیں گے انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو بدنیتی کا مظاہرہ کرے تو آئین کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ جب عدلیہ مداخلت کرتی ہے تو انہیں برا لگتا ہے خود کو ٹھیک کرنے کی بجائے عدلیہ کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ عدلیہ آئین میں دیئے گئے حقوق کی محافظ ہے شہریوں کے حقوق کاتحفظ نہیں ہوگا تو وہ عدلیہ کے پاس آئیں گے پاکستان علم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے رشوت دیکر ہی محکموں میں کام چل رہاہے انہوں نے کہا کہ ایل ڈی اے میں جائزنقشہ پاس کرانے کیلئے کچھ زیادہ ہی دینا پڑتا ہے شہریوں کو میرٹ پر نوکریاں نہیں مل رہیں،بغیر جوازکے نکالا جاتا ہے لوگوں کی دادرسی عدلیہ نہیں تو اور کون کرے گاانہوں نے کہا کہ اگرہم دادرسی کرتے ہیں تو کہتے ہیں مداخلت ہورہی ہے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر عدلیہ دادرسی کرے گی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر)فضل کریم کی عدلیہ کیلئے خدمات کوسراہا جبکہ تقریب سے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس (ر)ناصرہ اقبال ،بیرسٹر علی ظفر،ڈاکٹر اسامہ صدیق اور پروفیسر مارٹن لیو نے بھی خطاب کیا

Scroll To Top