ایمان کی مشعلیں اور روحِ محمد 22-01-2013

پاکستان کے سابق مردِ آہن جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنی پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اندھیروں میں روشنی کے چراغ جلانے کے لیے پاکستان آئیں گے۔
جب وہ اس قسم کے بیانات دیتے ہیں تو میں اُن اصحاب کی بے پناہ ذہانت کو داد دئیے بغیر نہیں رہتا جو جنرل صاحب کو یہ یقین دلائے رکھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ان کی ایک پارٹی باقاعدہ طور پر سیاسی منظرنامے میں موجود ہے بلکہ یہ بھی کہ اگلے عام انتخابات میں یہ پارٹی اپنی کامیابیوں سے ان تمام سیاسی مبصروں کو ششدر کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے جو جنرل صاحب کو قصہءپارینہ قرار دے چکے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آل پاکستان مسلم لیگ نام کی کسی فعال سیاسی پارٹی کا زمین پر کوئی وجود ہو یا نہ ہو جنرل صاحب اپنی ذات میں خود ایک پارٹی ہیں۔ انہوں نے نو برس کے لگ بھگ پاکستان پر اس انداز میں حکومت کی کہ وہ اس کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہے۔ وہ گُڈ گورننس یعنی ”اچھی حکمرانی“ کے ایجنڈے کے ساتھ قومی سیاست کے اُفق پر طلوع ہوئے تھے اور ابتدا میں ہم سب کو یوں لگا کہ وہ اپنی ”پیشرو حکومتوں“ کی شرمناک بد اعمالیوں اور بے لگام کرپشن سے پیدا ہونے والی صورتحال کو نہ صرف یہ کہ تبدیل کر دیں گے بلکہ ملک کو شاہراہِ ترقی پر بھی ڈال دیں گے۔
لیکن پھر انہوں نے دو ایسے فیصلے کیے جن کا خمیازہ قوم آج بھی بھگت رہی ہے۔ ایک فیصلہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکہ کا طفیلی اور آلہ کار بنانے کا تھا۔
اور دوسرا فیصلہ اپنے آمرانہ اقتدار کو دوام دینے کے لیے ایک ایسی نام نہادجمہوریت کا لبادہ اورڑھنے کا تھا ملک جس کا متحمل نہیں تھا۔
جنرل صاحب نے خواب قوم کو یہ دکھا یا تھا کہ وہ ملک کو بدعنوان سیاستدانوں سے پاک کر دیں گے۔ اس خواب کی جو بھیانک تعبیر سامنے آئی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار نے ثابت کر دیا کہ ایک نظریاتی مملکت ایک ایسی قیادت اور حکمرانی کی متحمل نہیں ہو سکتی جو اپنے ” فکری افلاس“ کو روشن خیالی کا نام دیتی ہو۔
جن اندھیروں میں چراغ جلانے کے ارادے سے وہ پاکستان آنا چاہتے ہیںوہ خود اُن کی اپنی ”بے کرداری“ کا نتیجہ ہیں۔ جتنا دُور پاکستان کو اس کی نظریاتی اساس سے جنرل صاحب نے کیا ہے اس سے بھی زیادہ دُور ان کے جانشین اس بد نصیب ملک کو لے گئے ہیں۔
اب یہ اندھیرے وہ سرفروش ہی دور کریں گے جنہوں نے ایمان کی مشعلیں بلند کر رکھی ہوں گی۔
آنے والے ادوار کا پاکستان ہر ایسی قیادت کو مسترد کر ے گا جو ”روح محمد “سے خالی ہوگی۔

kal-ki-baat

Scroll To Top