سموکنگ گن کے ساتھ پکڑے جانے والے قاتل کے ”عدالتی وصحافتی“ وکیل!

وہ وکیل قابلِ رحم بھی ہوتے ہیں اور قابلِ ستائش بھی جو ایسے قاتل کا مقدمہ لڑتے ہیں جسے سموکنگ گن (Smoking Gun) کے ساتھ پکڑا گیا ہو۔ قابلِ رحم اس لئے کہ ان کے علم میں ہوتا ہے کہ جس قاتل کو وہ بے گناہ ثابت کرنے کے لئے دلائل کے انبار لگا تے ہیں وہ دراصل قاتل ہی ہے۔۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کو اپنے ضمیر سے لڑنا پڑے وہ قابلِ رحم ہوتا ہے۔ قابلِ ستائش انہیں اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر کی آواز دبانے اور معاشرے کی لعن طعن کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی جرا¿ت درکار ہوتی ہے ۔ اور اِس جرا¿ت کو ستائش کے قابل سمجھا جا سکتا ہے۔
میں یہاں خواجہ حارث کی بات نہیں کر رہا اور ان دوسرے وکلاءکی بھی نہیں جو جانتے تھے اور جانتے ہیں کہ میاں نواز شریف ”بدقسمتی“ سے ”سموگنگ گن“ کے ساتھ پکڑے گئے۔ میاں نواز شریف کی ”سموکنگ گن“ لندن کے وہ نہایت مہنگے اپارٹمنٹ تھے جن کے بارے میں ان کے صاحبزادے نے برے تفاخر کے ساتھ کہا کہ ”الحمدوللہ ہمارے ہی ہیں۔“
آپ ایسے قاتلوں کے بارے میں جانتے ہوں گے جو اپنے ”نشانے“ پر ناز کیا کرتے ہیں اور جو بڑی شان سے سینہ تان کر کہا کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دو نہیں درجنوںقتل کئے ہیں۔
قاتل صرف وہ نہیں ہوتا جو انسان کی جان لیتا ہے۔ قاتل وہ بھی ہوتا ہے جو اُس اعتماد کا گلا گھونٹتا ہے جو لوگ اس پر کرتے ہیں۔ قاتل وہ بھی ہوتا ہے جو درجنوں سینکڑوں ہزاروں اور لاکھوں امیدوں کو بڑی بے حسی اور بڑی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔
اور ایسے قاتلوں کی منطق یہ ہوتی ہے کہ ” اگر ہماری دولت اور املاک کے انبار ہماری آمدنی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے تو کسی کو کیا۔۔ دوسروں کے پیٹ میں درد کیوں ہوتا ہے۔۔؟“
مجھے نہیں معلوم کہ ایسے قاتلوں کے وکلاءکو رات نیند کیسے آتی ہوگی۔۔؟ لیکن پھر یہ خیال آتا ہے کہ انہیں وکالت کرنے کا بڑا بھاری معاوضہ بھی تو ملتا ہے۔ اور ان کے ضمیر اتنے قوی نہیں ہوتے کہ ”مال“ کے بوجھ تلے کچلے نہ جائیں۔
دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے یہ وکلاءبھی قاتل ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ضمیر کو قتل کرتے ہیں۔۔اُن اصولوں کو موت کی نیند سلاتے ہیں جن کی پاسداری کی قسم کھا کر ہی انہیں وکالت کرنے کا حق یا اختیار ملتا ہے۔
اور وکیل صرف وہ نہیں ہوتے جو عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ۔ وکیل وہ مبّصر وہ اینکر پرسن اور وہ تجریہ کار بھی ہوتے ہیں جنہیں بھی قاتلوں کی صفائی پیش کرنے کے بڑے بھاری معاوضے ملتے ہیں۔۔
پچھلے دنوں اس ضمن میں میرے ذہن میں کچھ نام آئے تو میں نے ایک ٹویٹ کر ڈالا۔۔
نام یہ تھے ۔ ۔ فہد حسین۔ سلیم بخاری، طلعت حسین ، سلمان غنی اور عارف نظامی۔ میرے ذہن میں حبیب اکرم کا نام بھی آیا۔ مگر وہ صف ِ اوّل میں نہیں آتے۔ ایک کرم فرما نے گلہ کیا کہ آپ نے مجیب الرحمان شامی اور کامران خان کو کیوں بھلا دیا۔ میں اب کیا کہوں۔ شامی میرے بڑے پرانے دوست ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے بھی تو ہماری آراءٹکرایا کرتی تھیں۔۔۔ بہر حال میرا مقصد یہاں صرف یہ بیان کرنا ہے کہ یہاں ایسے قاتلوں کی وکالت ہو رہی ہے جنہوںنے دن دہاڑے نہّتے لوگوں پر گولیاں چلوائی ہیں۔ معاملہ صرف ان اپارٹمنٹس کا نہیں جن کی ملکیت کا اعتراف تو بڑے فخر سے کیا گیا لیکن یہ بتانے کے لئے کوئی تیار نہیں کہ مال کہاں سے آیا۔۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top