نیب ریفرنسز آخری مراح میں: نواز شریف فیملی کیخلاف واجد ضیائ20مارچ کو اپنی شہادت مکمل کرینگے

  • نیلسن لمیٹڈ، نیسکال لمیٹڈ، ایون فیلڈ پراپرٹی نمبر 16 اور 16 اے سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش
  • حدیبیہ پیپرز ملز اور التوفیق کمپنی کے درمیان باہمی معاہدے اور کوئین بینچ کے حکم نامے کی کاپی بھی پیش،سماعت 20 مارچ تک ملتوی

اسلام آباد، جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءسپریم کورٹ میں سماعت کیلئے آ رہے ہیں

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد کی احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں موزیک فونسیکا کے خط سمیت اہم دستاویزات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا جبکہ مریم نواز کے وکیل نے واجد ضیاءکی جانب سے جمع کرائی گئی تمام دستاویزات پر اپنا اعتراض ریکارڈ کرایا۔سماعت کے دوران پاناما کیس کے حوالے سے بنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاءکی جانب سے نیلسن لمیٹڈ، نیسکال لمیٹڈ، ایون فیلڈ پراپرٹی نمبر 16 اور 16 اے کے ٹائٹل رجسٹری کی آفیشل کاپیاں عدالت میں پیش کی گئیں۔عدالتی کارروائی کے دوران کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ اور اس سے متعلق حسن اور حسین نواز کی جانب سے سٹیفن مورلے سے لی گئی قانونی رائے کو بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔واجد ضیاءنے ٹرسٹ ڈیڈ کے حوالے سے نواز شریف اور دیگر کے خلاف سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی عمران خان کی پیٹیشن کے ساتھ منسلک قانونی ماہر گیلڈ کاپر کی تجویز کی کاپی بھی پیش کی۔پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ نے سامبا گروپ کی جانب سے منروا سروسز کو لکھے گئے خط اور فنانشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے خط کی کاپی عدالت میں پیش کی۔مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے تمام دستاویزات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوٹو کاپیاں غیر مصدقہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ واجد ضیاءان میں سے کسی بھی دستاویز کے تخلیق کار نہیں ہیں اور نہ ہی یہ دستاویزات ان کے سامنے تیار ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ قانون شہادت کے تحت ایسی کسی بھی دستاویز کو عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔سماعت کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءعدالتی حکم پر قطری شہزادے حمد بن جاسم کے خط کی اصل کاپی بھی لے کر آئے تاہم عدالت کے سامنے سربمہر لفافہ کھولنے کے بعد پتہ چلا کہ نہ یہ قطری شہزادے کی جانب سے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط کی کاپی ہے اور نہ ہی جے آئی ٹی کو لکھے گئے خط کی تھی۔عدالت نے خط واپس واجد ضیاءکے حوالے کرتے ہوئے نیب استغاثہ کو ہدایت کی اگر اس خط کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانا ہے تو پہلے درخواست دیں۔واجد ضیاءکی جانب سے حدیبیہ پیپرز ملز اور التوفیق کمپنی کے درمیان باہمی معاہدے اور کوئین بینچ کے حکم نامے کی کاپی بھی پیش کی گئی۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 20 مارچ تک کےلئے ملتوی کردی۔

Scroll To Top