بھنگڑے اور سسکیاں 19-1-2013

kal-ki-baatایک ماہ کے اندر ملک کی سیاست نے جو کروٹ بدلی ہے اور قومی منظر نامے میں جو تبدیلی آئی ہے اس کا اندازہ یا علم 5ہفتے قبل تک کسی بھی تجزیہ کار یا سیاسی امور کے ماہر کو نہیں تھا۔ جب ٹی وی سکرینوں پر علامہ طاہر القادری کا پہلا اشتہار چلا تھا اور یہ نعرہ قوم کے سامنے آیا تھا کہ ” سیاست بچاﺅ یا ریاست بچاﺅ “ تو کسی کے بھی خواب و خیال میں یہ بات نہیں تھی کہ کینیڈا کی شہریت اختیار کرچکنے والا یہ ذہین مگر متنازعہ مذہبی رہنما اور سکالر تین ہفتوں کے اندر ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک کلیدی حیثیت اختیار کرلے گا۔

علامہ طاہر القادری کے ناقدین اور مخالفین کافی بڑی تعداد میں ہوں گے لیکن زمینی حقائق کسی کی پسند یا ناپسند کے محتاج نہیںہوتے۔ میں خود جو دینی عقائد رکھتا ہوں وہ علامہ طاہر القادری کے افکار کی تقریباً ضد ہیں لیکن بات یہ سیاست کی ہورہی ہے۔
سوچا یہ جانا چاہئے کہ تین ہفتوں میں ایک ” نان پلیئر “ نے کیسے پوری قوم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔
اگر 16جنوری 2013ءکو رائے ونڈ میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کا ” اتحادی اجلاس “ میاں نوازشریف کی قیادت میں ہو پایا تو اس کے پیچھے ” علامہ طاہر القادری فیکٹر “ ہی تھا۔ اُس رات کو کامران خان سے لے کر تمام سیاسی تجزیہ کار اور اینکرپرسن قوم کو یہ باور کرا رہے تھے کہ سیاسی جماعتیں ” جمہوریت “ کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی ہیں۔
17جنوری کی رات کو یہی تمام سیاسی تجزیہ کار اور اینکرپرسن قوم پر یہ ثابت کرنے کے لئے دلائل کے انبار لگا رہے تھے کہ مرکزی حکومت کی مدبرانہ دانشمندی اور علامہ طاہرالقادری کی قابلِ تحسین استقامت نے شفاف و غیر جانبدارانہ انتخابات کے دروازے کھول دیئے ہیں۔
مطلب اس ساری بات کا یہ ہے کہ جو لانگ مارچ علامہ طاہر القادری نے منہاج القرآن کے بانی صدر کی حیثیت سے ایک بڑے اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ شروع کیا تھا ¾ اس کا اختتام انہوں نے عوامی تحریک کے چیئرمین کی حیثیت سے ایک اہم دستاویز پر وزیراعظم کے ساتھ دستخط کرکے کیا۔
اس دستاویز کو اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلریشن کا نام دیا گیا ہے اور اگر اس پر دیانتداری کے ساتھ عمل کیاگیا تو موجودہ اسمبلیوں کے نصف سے زیادہ ارکان خود بخود ” فارغ“ ہوجائیں گے ۔ لیکن اہم ترین ” پیش رفت “ میرے خیال میںیہ ہوئی ہے کہ نگران وزیراعظم کے تقرر میں رائے ونڈ کا کردار کافی کم ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 16جنوری کی شب کو جو چوہدری نثار علی بھنگڑا ڈالنے کے موڈ میں تھے وہ 17جنوری کی شب کو خود ہی اپنے آنسو پونچھ رہے تھے۔ مجھے تو اس وقت اُن کی سسکیاں بھی سنائی دے رہی تھیں جب وہ کامران خان کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔۔۔

Scroll To Top