مت بھولیں کہ آپ کا شیشے کا گھر صرف ایک پتھر کی مار ہے !

aaj-ki-baat-new

گزشتہ روزایک ٹی وی پروگرام میں مجھے رانا ثناءاللہ کو نہایت ہی عامیانہ انداز میں عمران خان کی ذاتی زندگی کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہوئے سننے کا اتفاق ہوا جو صرف ایک طوائف یا فاحشہ عورت کے منہ سے ادا ہوں تو نظر انداز کی جاسکتی ہیں۔۔۔ ان باتوں کا تعلق عمران خان کی شادی سے تھا۔۔۔

میں عام حالات میں اس موضوع پر کچھ لکھنا اپنے قلم کی توہین سمجھتا۔۔۔ لیکن عمران خان میرے دوست ہیں۔۔۔ وہ خود اس قسم کی عامیانہ گفتگو کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں۔۔۔ لیکن شیشے کے گھروں میں رہنے والے جب زیادہ کثرت سے دوسروں کے گھروں پر پتھر پھینکنا شروع کردیں تو انہیں یہ یاد دلاناضروری ہوجاتا ہے کہ ان کا شیشے کا گھر صرف ایک پتھر کی مار ہے۔۔۔
مجھے یاد ہے کہ جب امریکی صحافی کم بار کرکی کتاب Taliban Reshuffle شائع ہوئی تھی تو میں نے عمران خان سے کہا تھا کہ ” نون لیگی آپ پر کیچڑا چھالنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔۔۔ کیوں نہ اس کتاب کا وہ باب ترجمہ کرکے شائع کیا جائے جس میں کم بار کرنے میاں نوازشریف کی والہانہ پیشکشیں اور اظہارِ طلبِ دوستی کی داستان رقم کی ہے۔۔۔ عمران خان نے فوراً انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ میں نوازشریف کے عشقیہ معاملات کو سیاست میں گھسٹینے کو درست نہیں سمجھتا۔۔۔
یہ بات درست بھی ہے۔۔۔ سیاست کو سیاست تک محدود رکھنا چاہئے۔۔۔عمران خان نے ہمیشہ نوازشریف کی مالی کرپشن کی بات کی ہے ` کبھی ان کی نفسانی کرپشن کا ذکر نہیں کیا۔۔۔ دنیا بھر میں حکمرانوں کی مالی کرپشن کو plunderکا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ اورplunder کا اُردو ترجمہ چوری اور ڈاکہ زنی ہی ہے۔۔۔ نون لیگی اسی زبان کو گالی سمجھتے ہیں۔۔۔ کاش کہ عملاً بھی میاں نوازشریف چوری اورڈاکہ زنی کو گالی ہی سمجھتے !اگر ایسا ہوتا تو آج وہ اتنے سارے مقدمات کی زد میں نہ ہوتے۔۔۔ اور ان کی صفائی میں اتنے سارے وزراءایک دوسرے پر سقبت لے جانے کی کوشش نہ کررہے ہوتے۔۔۔
بہرحال میرا موضوع راناثناءاللہ ہیں جنہوں نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ ” میں ایک ایسے شخص پر کیا تبصرہ کروں جو پانچ بچوں کی ماں کے ساتھ یارانہ کرکے بھگا لے گیا ہے۔۔۔“
مجھے یہ الفاظ دہراتے شرم آرہی ہے۔۔۔ اور شرم مجھے وہ قصہ یاد کرکے بھی آرہی ہے جس میں کسی ملک کے ایک حکمران خاندان کی ایک شہزادی کوڈرائیور کے درجے کا ایک ملازم بھگالے گیا تھا اور بعد میں بدنامی سے بچنے کے لئے ” جہاں پناہ “ مجبور ہوگئے تھے کہ اس ملازم کو اپنی دامادی میں لے لیں۔۔۔
اُس قصے میں بھی ایک خاتون کی عزت کا معاملہ تھا۔۔۔ اور جو قصہ رانا ثناءاللہ نے گھڑا ہے اس میں بھی ایک خاتون کی عزت کا معاملہ ہے۔۔۔
بدقسمتی یہ ہے کہ راناثناءاللہ جیسے لوگ جس بازار کی پیداوار ہوتے ہیںوہاں عزت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔۔۔

Scroll To Top