پاکستانی بھارتیوں سے زیادہ خوش وخرم

zaheer-babar-logoقومی میڈیا کے بعض ناقدین کے بعقول ہمارے ہاں صحافت ادرگرد بکھری ہوئی ان اچھائیوں کو پیش کرنے میں غفلت کا مرتکب ہورہا جس کے نتیجے میں معاشرے میں اچھائی کو فروغ مل سکتا ہے۔ مگر اس کا کیا کریں کہ صحافت کی ایک تعریف یہ ہے کہ اگر کتا انسان کو کاٹ جائے تو یہ خبر نہیں ہاں انسان کتے کو کاٹ لیں تو بہرکیف یہ خبر ہے۔ یہ مکمل سچ نہیں کہ میڈیا ان تمام اچھی خبروں کو اپنے قارئین سے دور رکھتا ہے جس میں تشویش یا پریشانی کی بجائے مسرت کا کوئی پہلو نکلے ۔دراصل غم وخوشی لازم وملزوم ہیں۔ شائد ہی کوئی شخص دنیا میں ایسا ہو جسے آئے روز کسی نہ کسی شکل میں دکھ یا خوشی کا کوئی نہ کوئی مرحلہ درپیش نہ ہوا۔ اسی کفیت کو غالب نے یوں بھی بیان کیا ہے کہ ۔۔۔
قیدحیات وبند غم، اصل میںدونوں ایک ہیں
موت سے پہلے، آدمی غم سے نجات پائے کیوں ؟
وطن عزیز میں ہمہ وقت مایوسی پھیلانے والوں کو جان لینا چاہے کہ وہ مکمل طور پر ناکام رہے ہیں ۔ اس کا ثبوت یہ کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرلیا گیا ۔ مثلا کہا گیا کہ دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد خطے جنوبی ایشیا میں بسنے والے تقریبا ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں بائیس کروڑ پاکستانی سب سے زیادہ خوش اور شاد ہیں۔ اقوام متحدہ نے دو ہزار سترہ کی 156 ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی ‘ورلڈ ہیپی نس رپورٹ’ کے مطابق اِن ملکوں کی درجہ بندی وہاں بسنے والوں لوگوں کی آمدن، صحت مند زندگی، مشکل وقت میں سہارا ملنے کی توقع ، فراخدلی، آزادی اور اعتماد جیسے عناصر کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد کی ۔
ان ملکوں کی درجہ بندی میں پاکستان 75ویں نمبر پر ہے لیکن اس کے باوجود اپنے خطے کے دیگر ملکوں سے کہیں آ گے ہے۔ واضح رہے بھارت جس کا شمار دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں ہوتا ہے اور جو فوجی لحاظ سے بھی بہت زیادہ طاقت ور سمجھا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان انڈیا سے ستاون درجہ بہتر ہے۔عوامی سطح پر خوشی اور اطمینان کی درجہ بندی میں بھارت اپنے سے کہیں چھوٹے اور اقتصادی لحاظ سے کمزور مشرقی ہمسایہ ملکوں نیپال، بنگلہ دیش، میانمار اور سری لنکا سے بھی کہیں پیچھے ہے۔ نیپال کا نمبر 101 ہے، بنگلہ دیش 115ویں، سری لنکا 116 ویں اور میانمار 130ویں نمبر پر ہے جب کہ انڈیا کا نمبر 133واں ہے۔ دراصل کسی بھی معاشرے کے لیے عوام کی خوشی اور اطمینان سے متعلق ان اہم عناصر کے تقابلی جائزے میں بھارت جنگ سے بدحال افغانستان سے صرف 12 درجے آگے ہے۔ مزکورہ رپورٹ میں پورپی ملک فن لینڈ ، ناروے اور ڈنمارک بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ لیکن کسی اسلامی ملک کا نمبر پہلے دس ملکوں میں نظر نہیں آتا۔ متحدہ عرب امارات کا نمبر بھی اس فہرست میں 20واں ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کا نمبر بھی 18واں اور برطانیہ کا نمبر 19ویں نمبر پر آتا ہے۔
اہل پاکستان مذید خوش وخرم رہ سکتے ہیںکہ اگر اہم اقتدار اپنی ان اخلاقی اور قانونی زمہ داریوں کو ادا کرنے میں ہرگز تامل کا مظاہرہ نہ کریں۔ اگر معاشرے کا طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں قانون ہو تو کوئی وجہ نہیںکہ بہتری کی صورت پیدا نہ ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض خیالات ہمیں انتشار کی طرف لے جاتے ہیں سو بہتر یہی ہے کہ خوشیوں کے بارے میں زیادہ سوچا جائے اور دکھ کے لمحات کو کسی نہ کسی شکل میں رد کر دیا جائے ۔ غمگین لمحات ہمارے اندر مایوسی پیدا کرتے ہیں اور مایوسی سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے ۔ لیکن مثبت بات یہ ہے کہ دکھ ہمارا تجربہ وسیع کرتا ہے۔ ۔ بنیادی طور پر دکھ درد کا باقاعدہ وجود تو ہے مگر یہ زندگی کی چاشنی بھی ہیں۔ یاد رکھئے زندگی کسی بھی یکطرفہ انتہاپسندانہ رویئے کا نام نہیں ہے۔ آپ کسی بھی جذبے میں چاہے وہ محبت ہو، نفرت ہو، حسد ہو یا انتقام ہو، بے قابو ہونے لگتے ہیں تو آپکے اچانک ذاتی دکھ درد آپکے ذہن اور دل و دماغ میں متضاد کیفیت پیدا کر کے انہیں روکنے کیلئے آ موجود ہوتے ہیں گویا یہ جنون پر بند باندھنے آتے ہیں۔ بظاہر یہ آپ کی توجہ بانٹ دیتے ہیں لیکن دراصل آپکے انتہاپسند رویئے کو لگام لگانے آتے ہیں اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ زندگی ایک ہی رخ پر چلنے یا چلتے رہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ خلافِ فطرت بات ہے اور اگر یہ آپ کہیں کہ غم و اندوہ بھی خلافِ فطرت بات ہے تو یہ غلط سوچ ہو گی اِس لئے کہ خوشیاں بھی انسانی زندگی میں موجود ہیں جو دونوں کیفیات کو متوازن رکھتی ہیں ۔ مختصر یہ کہ یہ اِس لئے آتے ہیں تاکہ آپ کے جنون کو سوچ ملے یعنی فکر کو فہم ملے۔ یاد رہے کہ خوشی وغم کے لمحات ہمیں کائناتی سوچ کا افق مہیا کرتے ہیں۔ لہذا ہم خود خوش بھی رہیںاور دوسروں کو بھی خوش رکھیں اسی میں زندگی کا حسن ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ معاشر ے میں خوشی اطمنیان کے فروغ کے لیے اہل دانش کو بھی آگے آنا ہوگا ۔ انھیں اپنے قول وفعل سے زندگی کے وہ پہلو نمایاںکرکے دکھانا ہونگے جو کسی طور پر دولت سے نہیں حاصل کیے جاسکتے ۔عالمی سطح پر پاکستانیوں کو بھارت سے خوش وخرم قراردینا بلاشبہ باعث مسرت ہے۔

Scroll To Top