ایون فیلڈ ریفرنس کیس منطقی اختتام کے قریب:شریف فیملی کے وکلاءواجد ضیاءپر ٹوٹ پڑے

  • سماعت پانچ گھنٹے جاری رہنے کے بعد آج تک ملتوی،،واجد ضیاءکا مکمل بیان قلمبند نہ ہوسکا ، بیان آج بھی جاری رہے گا، جے آئی ٹی اور قطری شہزادے حمد بن جاسم کے درمیان خط و کتابت کا ریکارڈ پیش
  • جے آئی ٹی رپورٹ کو بطورثبوت پیش کرنے سے متعلق مریم نواز کے وکیل کی درخواست جزوی طور پر منظور ، جے آئی ٹی کا تجزیہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا اور جے آئی ٹی میں ریکارڈ گواہوں کے بیانات عدالت میں قلمبند نہیں ہوں گے

شریف خاندان

اسلام آباد (الاخبار نیوز) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنس کی سماعت کی۔شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءکا بیان مکمل ریکارڈ نہ کیا جا سکا جبکہ ملزمان کے وکیل کی جانب سے واجد ضیاءکے بیان پرباربار اعتراض کیا گیا۔سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف اور ان کی فیملی کےخلاف لندن فلیٹ ریفرنس کی سماعت پانچ گھنٹے جاری رہنے کے بعد (آج)جمعہ تک ملتوی کر دی گئی جبکہ واجد ضیاءنے جے آئی ٹی اور قطری شہزادے حمد بن جاسم کے درمیان خط و کتابت کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کر دیاہے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے عدالت کو بتایا کہ یہاں پرجے آئی ٹی رپورٹ کے دفاع کے لیے موجود ہوں، اہم کیس ہے پہلے دن سے میں اس کیس سے جڑا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرےاور پراسیکیوٹر کے بات کرنے میں فرق ہوسکتا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو بھی دستاویزات اکٹھی کیں وہ ریکارڈ پر لائیں، رائے ابھی نہ دیں ، آپ کی رائےکامرحلہ بعد میں آئے گا۔نوازشریف کی وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ واجد ضیاءپھر لسٹ کو دیکھ کر بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ لسٹ سے پڑھنا ہےتوہمیں بھی دیں جبکہ واجد ضیاءرائے نہیں دےسکتے۔سابق وزیراعظم کی وکیل نے کہا کہ واجد ضیاءالگ الگ دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنا رہے ہیں، وقت کم ہے شواہد کو ترتیب میں نہیں یا جا سکتا، میں نے جوشواہد اکٹھے کیے میرے طریقے سے ہی لیے جائیں۔جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ بہت بڑی رپورٹ ہے میرے حساب سے بتانے دیں جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ کو ایک دن پہلے پراسیکیوشن ٹیم کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تھا۔واجد ضیاءنے کہا کہ درخواستوں کے ساتھ منسلک دستاویزکوریکارڈ کا حصہ بنانا چاہتا ہوں جس پرمعزز جج نے ریمارکس دیے کہ کسی حد تک گواہ کی رائے کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ سمجھا سکتا ہے۔جے آئی ٹی کے سربراہ کی جانب عرفان منگی کے دستخط شدہ دستاویزات پرمریم نواز کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عرفان منگی عدالت میں بطور گواہ موجود نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ واجد ضیاءعرفان منگی کی دستخط شدہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ میں نہیں لاسکتے، واجد ضیاءصرف وہ دستاویزات پیش کرسکتے ہیں جن پران کے دستخط ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیاءجے آئی ٹی کے سربراہ ہیں یہ دستاویزات پیش کرسکتے ہیں۔عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کردی جبکہ جے آئی ٹی سربراہ واجدضیاءکل بھی اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔احتساب عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کو بطورثبوت پیش کرنے کے اعتراض پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مکمل رپورٹ بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے سے متعلق مریم نواز کے وکیل کی درخواست جزوی طور پر منظور کرلی۔عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی کا تجزیہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا اور جے آئی ٹی میں ریکارڈ گواہوں کے بیانات عدالت میں قلمبند نہیں ہوں گے۔احتساب عدالت نے کہا کہ نوازشریف کا واجد ضیاءکے بیان پراعتراض بھی نوٹ کیا جائے گا۔مریم نواز کے وکیل نے دستاویزات پڑھ کر واجد ضیاءکے بیان ریکارڈ کرانے پراعتراض کیا جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ واجد ضیاءصرف وہ دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنوائیں جو اکٹھی کیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ سب کچھ گواہ پرچھوڑ دیا جائے، انہوں نے نیب پراسیکیوشن کو ہدایت کی کہ گواہ کوبٹھا کردستاویزات ترتیب دیں۔معزز جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ گواہ کو عدالتی ریکارڈ پرلائیں، صرف کیس سے متعلق چیزوں کوعدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ کوئی اورکیس ہوتا توکہتا گواہ کی تیاری کے لیے پراسیکیوشن کو وقت دیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اصل میں آپ کو گواہ کی زیادہ تیاری پراعتراض ہے۔اس سے قبل مریم نوازکے وکیل نے احتساب عدالت میں قانونی حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ صرف والیم 3، 4 اور5 ہی اس کیس سےمتعلق ہیں جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ کے دیگروالیم، کئی شہادتیں قابل قبول نہیں ہیں۔امجد پرویز کا کہنا تھا کہ تفتیشی خود سے بنائی دستاویزات کوشواہد کے طورپرپیش نہیں کرسکتا، جے آئی ٹی رپورٹ کی صداقت کوچیلنج کرنے کا حق سپریم کورٹ نے دیا۔مریم نواز کے وکیل نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی کا کون سا والیم کس ریفرنس سے متعلقہ ہے یہ عدالت نے دیکھنا ہے جبکہ نیب پراسکیوٹر کی جانب سے مریم نوازکے وکیل کے اعتراض پر مخالفت کی گئی۔نیب پراسیکیوٹرسردار مظفر نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ ہمارے پبلک دستاویزات ہیں اور ہمارا اہم ترین ثبوت ہے، 3 والیم متعلقہ ہیں تو باقی کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا تھا کہ واجد ضیائ کبھی بھی جے آئی ٹی کے تحقیقاتی افسرنہیں رہے، اس حوالے سے وکیل صفائی کےاعتراضات غیرمتعلقہ ہیں۔پراسیکیوٹرنیب نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل، رپورٹ کسی فورم پرچیلنج نہیں کی گئی، رپورٹ اب پبلک دستاویزات ہیں جبکہ واجد ضیاءجے آئی ٹی سربراہ تھے،عدالت نے تفتیشی افسر مقررنہیں کیا۔سردار مظفر نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی کا ملزمان نے مطالبہ کیا، پھرپیش ہوئے، شواہد بھی دیے اور نیب نے دوران تفتیش واجد ضیائ کا بیان ریکارڈ کیا۔خیال رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو حاضری لگانے کے بعد جانے کی اجازت دی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر جے آئی سربراہ واجد ضیائ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں الگ الگ مواد دینے میں مشکل درپیش ہے ایک ساتھ جے آئی ٹی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کاحصہ بنایا جائے۔مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ مکمل عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنائی جاسکتی، رپورٹ کا بڑا حصہ تجریوں، تبصروں پرمشتمل ہے۔

Scroll To Top