حقیقی مجرم کون ؟

aaj-ki-baat-new

یہ سوال میں نے پہلے17-01-2013کو پوچھا تھا ۔۔۔ آج پھر میں یہی سوال دوبارہ پوچھ رہا ہوں۔۔۔
دنیا کے کسی بھی مہذب ملک کا کوئی باغیرت شہری یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کی حکومت کے سربراہ کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا جانا چاہئے کہ دنیا کے کسی بھی مہذب ملک کا سربراہ ِحکومت اس قدر بے حس نہیں ہوگا کہ اس پر کرپشن کے الزامات موجود ہوں اور اس انداز میں موجود ہوں کہ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اس کی گرفتاری کے احکامات جاری کردے ` تو بھی وہ اپنے اعلیٰ منصب پر ڈٹا رہے اور استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرے۔
یہ درست ہے کہ جب تک الزام ثابت نہ ہو ملزم کو مجرم نہیں سمجھنا چاہئے ` مگر ساتھ ہی یہ بھی درست ہے کہ جب تک کسی شخص کو ایک سنگین الزام کا سامنا رہتاہے ` اور اسے اس الزام سے بّریت حاصل نہیں ہوتی ` اس وقت تک اس کے پاس اپنے ملک کی حکومت کا سربراہ رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہوتا۔
لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان بدقسمتی سے وہ ملک ہے جس میں جھوٹ ` فریب ` بدعنوانی ` چوری ` ڈاکہ زنی ` لوٹ مار ` دھوکہ دہی ` فراڈ اور کرپشن وغیرہ کو جرائم کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔
یہاں اگر کوئی جرم قابلِ گردن زدنی سمجھا جارہا ہے تو یہ کہ کوئی آواز اس نظام کے خلاف بلند نہ ہو جس میں پارلیمنٹ کو متذکرہ بالا تمام الزامات کا سامنا کرنے والوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔
جن لوگوں کے ہاتھوں میں اس ملک کی تقدیر ہے ان کی زبانوں پر صرف ایک ہی بات ہے اوروہ یہ کہ جو آواز بھی اس نظام کے خلاف اٹھے گی وہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی سازش کا حصہ ہوگی۔
وقت آگیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ قوم کے حقیقی مجرم کون ہیں۔۔۔وہ جو مملکت ِ خدادادِ پاکستان پر خدا کی حاکمیت چاہتے ہیں۔ یا وہ جو جمہوریت کی آڑمیں اخلاقیات کا جنازہ نکال رہے ہیں۔۔۔؟
(یہ کالم میں 16جنوری2013ءکی دوپہر کے وقت لکھ رہا ہوں۔ تادمِ تحریر نہ تو وزیراعظم صاحب نے استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ اگر وہ گرفتار کئے جاتے ہیں تو یہ ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہوگی اور اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے تو یہ اس سے بھی بڑی بدقسمتی ہوگی)

Scroll To Top