معاشی صورت حال حوصلہ افزاءنہیں !

zaheer-babar-logo

وطن عزیز آبادی کے ساتھ دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے ، اعداد وشمار کے مطابق ملکی معیشت جی ڈی پی صرف 306 بلین ڈالرز ہے جو کہ عالمی رینکنگ میں 42 ویں نمبر پر آتی ہے ۔دوسری جانب کراچی جتنا ایک چھوٹا سا ملک سنگاپور دنیا کی 37 ویں بڑی معیشت ہے۔
پاکستان کی فی کس آمدنی 1629 ڈالر ہے اس لحاظ سے ہر پاکستانی کی آمدنی 146 ممالک کی فی کس آمدنی سے کم ہے جبکہ بنگلہ دیش اور بھارت جس کی غربت کے قصے ہمارے یہاں زبان زد عام ہیں ہم سے بہتر ہیں۔ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان کے برابر اور بھارت کی 1852 ڈالر کے ساتھ پاکستان سے زیادہ ہے.سنگاپور کی اوسط آمدنی 53880 ڈالر ہے جو کہ دنیا میں 9 ویں نمبر پر زیادہ آمدنی والا ملک ہے جبکہ سنگاپور میں ٹوٹل لیبر فورس 3.661 ملین جبکہ پاکستان میں 60 ملین ہے۔ سنگاپور اپنی لیبر فورس کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کو بہتر بنا کے ہم سے آگے نکل گیا جبکہ ہم ہر قسم کے وسائل اور زرائع رکھنے کے باوجود پسماندہ ہیں. یاد رہے کہ سنگاپور میں نہ ہی پیٹرول ہے اور نہ ہی سونے اور دیگر معدنیات کے ذخائر اور نہ ہی زرعی زمین۔ ادھر مسلم لیگ ن کی حکومت تاریخ میں سب سے زیادہ قرض لے کر ملکی معیشت کو اونچے مقام پر پر لےجانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر جب دوسرے ممالک سے تقابل کیا جائے تو حقیقت کھل کے عیاں ہوجاتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ آئی ایم ایف) نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر رپورٹ جاری جس کے مطابق باکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 12.8 ارب ڈالر رہ گئے ۔آئی ایم ایف کے مطابق ان زرمبادلہ کے ذخائر سے صرف تین ماہ سے بھی کم عرصے تک کے لیے درآمدات کی ادائیگی ممکن ہوگی۔امید افزاءپہلو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی مستقبل قریب میں اقتصادی صورت حال بہتر ہوسکتی ہے 2017 اور 2018 میں معیشت کی شرح نمو 5.6 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
بجلی کی فراہمی میں بہتری، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر سرمایہ کاری، کھپت میں تیزی اور زرعی شعبے کی بحالی مثب اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ عالمی مالیاتی ادارے نے گزشتہ مالی پالیسی کی کمزوریوں کی وجہ سے مالی خسارہ کل قومی پیدوار کا 5.4 فیصد تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس سے معیشت میں بہتری آنے کے تمام امکانات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے جاریہ خسارے میں ہونے والے اضافے کے باعث ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 12.8 ارب رہ گئے ۔
معاشی ماہرین اس خدشہ کا اظہار بھی کررہے کہ آنے والے دنوں میں جاری خسارہ کل قومی پیداوار کی 4.4 فیصد ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے ملک کو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور درآمدات کے لیے درکار زرمبادلہ کی دستیابی میں مشکلات ہونگی۔ برآمدات کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ گذشتہ تین سال میں مسلسل کمی دیکھنے کے بعد پہلی بار برآمدات کو سنبھالا ملا یعنی بیرون ملک سے آنے والے زر مبادلہ میں بھی پچھلے سال کی کمی کے بعد ایک بار پھر بہتری دیکھنے میں آئی ۔
ایسے وقت میں جب پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے پانچ سال پورے کرکے رخصت ہورہی معاشی صورت حال کسی طور پر تسلی بخش نہیں۔ ناقدین کے بعقول ایسی سیاسی قیادت جو کم وبیش 30سال سے زائد عرصہ سے قومی سیاست میں متحرک ہے اپنی صلاحتیوںکا لوہا نہیں منواسکی۔ مسلم لیگ ن بارے تاثر یہ تھا کہ چونکہ اس میں سرمایہ داروں کی قابل زکر تعداد موجود ہے لہذا وہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں دوررس اقدمات اٹھائیں گے۔حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے پیڑول کی قیمتوں میں تواتر کے ساتھ اضافے دیکھنے میں آرہا ۔ قومی خزانے کو بھرنے کے لیے جس طرح عام آدمی پر بوجھ لادا جارہا اس سے اس کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوچکا۔
معاشی ماہرین کے بعقول اس سال ہونے والے الیکشن کی وجہ سے پاکستان کی آئی ایم ایف کو قرضے کی ادائیگی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ الیکشن سے قبل خرچوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آئیگا جو کسی طور پر معیشت کے لیے سودمند ثابت نہیں ہونے والا۔ ۔ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور برآمدات کی بحالی نہ ہونا بھی قرضوں کی ادائیگی میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے وسائل ایسی مشکل ہے جو تعمیر وترقی کے پر دعوی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ سیاسی صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حکمران جماعت کسی طور پر اپنی ناکامیوں کی زمہ داری قبول نہ کریں گی اس کے برعکس پانامہ لیکس میں سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کو جواز بنا کر بچنے کی کوشش کی جائیگی۔ سابق وزیر اعظم اور ان کے قریبی رفقاءتواتر کے ساتھ کہہ رہے کہ اگر میاں نوازشریف وزیر اعظم پاکستان ہوتے تو ”تعمیر وترقی “کا ایک نئے جہاں آباد ہوتا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشی حالات ایسے وقت میں چیلنج بن رہے جس حکومت واپوزیشن دونوں کی توجہ عام انتخابات پر مرکوز ہوچکی لہذا یہ خوش فہمی کسی طور پر نہیں پالی جاسکتی کہ کسی بھی سطح پر کوئی بھی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں آسکتی ہے۔ اس کے برعکس ناکامیوں پر الزام در الزام کا سلسلہ ہی فروغ پاسکتا ہے۔

Scroll To Top