افغانستان اور طالبان۔ 2018میں

  • by Didier Chaudet

20 سے 28جنوری2018کے دوران کابل مےں پے درپے دہشتگردی کے کئی واقعات ہوئے جن مےں کم از کم 130 افراد اپنی جانوںسے ہاتھ دھو بےٹھے۔طالبان نے دو واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی جن مےں 20جنوری کوکابل کے انٹرکانٹی نےنٹل ہوٹل اور27جنوری کو اےمبولنس پر ہونےوالے حملے شامل ہےں۔ داعش نے بھی 28 جنوری کو کابل مےںملٹری اکےڈمی کے نزدیک حملہ کرکے اپنی فعال موجودگی کا احساس دلاےا اور25جنوری کو جلال آباد مےں”Save the Children”کی NGOکے دفاتر کو حملوں کا نشانہ بناےا۔ذرائع ابلاغ کے ذریعے آنےوالی ان ہولناک خبروں کےساتھ2018 مےں افغانستان کے حالات کا اندازہ بخوبی لگاےا جاسکتا ہے۔ کئی ماہ پر محیط BBCکی اےک حالیہ تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کی آئینی حکومت کی عملداری ملک کے صرف 30فیصد حصے پر قائم ہے جبکہ باقی حصے مےں جہاں 50فیصد افغان آباد ہےں طالبان اےک فعال قوت کے طور پر موجود ہےں۔ یہاں کئی اہم سوالات پےدا ہوتے ہےں جن کا جواب تلاش کرنا افغانستان کے مسئلے کے حل کےلئے بہت ضروری ہے مثال کے طور پر آخر اس ہولناک تباہی کی کیا وجوہات ہےں؟ ےا یہ کہ یہاں موجود بےرونی قوتےں کہاں غلطی پر ہےں؟
اگر ہم واشنگٹن اور کابل کی انتظامیہ کی بات سنےں تو یہی سنائی دےگا کہ افغانستان کے تمام مسائل کی جڑ خطے کی مجموعی بدامنی کی فضا ہے اورجس کے ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر اسے” قربانی کا بکرا “بناےا جاسکتاہے۔اسکے علاوہ لےکن کچھ افغان اور امریکی افسران اس سلسلے مےں روس اور اےران پر الزام لگانے سے بھی نہیں کتراتے۔
مثلاً افغانستان مےں کچھ لوگ یہ کہتے ہےں کہ2015اور2016کے دوران روسی افواج نے افغانستان کے صوبے قندوز پر طالبان کو کنٹرول حا صل کرنے مےں مدد فراہم کی تھی۔ ان الزامات کےساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان مےں ےاتو زیادہ تر صرف گالیاں ہوتی ہےں ےا یہ کہ ان الزامات مےں رتی برابر سچائی نہیں ہوتی۔
ہم یہ جانتے ہےں2010کی دہائی کے اوائل ہی مےں امریکیوںنے خود اس نظریے کو قبول کرلیا کہ طالبان کو فوجی قوت سے شکست دےنا ممکن نہیںاور افغانستان کے مسئلے کے حل کےلئے سیاسی مذاکرات ضروری ہےں۔ اس وقت بھی اےران کے طالبان کےساتھ روابط قائم تھے لےکن اےران کیجانب سے افغانستان کو غےر مستحکم کرنے کی کوئی سازش موجود نہیں تھی بلکہ انکے یہ روابط خطے مےں طاقت کے توازن قائم رکھنے مےں انکے ادارک کا اظہار تھے۔دوسری جانب اےران پر یہ الزامات بھی ہےں کہ اس نے طالبان کو اسلحہ فراہم کیا اور یہ الزامات مبالغہ آرائی پر مبنی ہےں۔ اسی طرح افغانی اور امریکی انتظامیہ مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہےںکہ روس نے طالبان کو ہتھےار فراہم کئے جبکہ ان الزامات کے بھی کوئی ثبوت موجود نہیں۔ جہاں تک پاکستان پر لگائے جانےوالے الزامات کا تعلق ہے تو یہ امریکہ اور افغانستان کی طرف سے محض کسی مشکل اور ناقابلِ فہم صورتِ حال کو آسان انداز مےں بیان کرنے کی غلطی پر مبنی ہوتے ہےں اورعموماًپاکستان اور افغانستان کے درمیان پیچیدہ دوطرفہ تعلقات مےں کئی اہم عوامل کو بھلا دیا جاتاہے۔ مثال کے طور پریہ حقیقت کہ جب سے پاکستان وجود مےں آےا ہے، دونوں ممالک کے مابےن جغرافیائی اورسیاسی اختلافات موجود ہےں۔ کابل مےں ملّا عمر اور اس سے پہلے تواتر کےساتھ آنےوالی افغان حکومتوںنے دونوں ممالک کے مابےن ڈیورنڈ لائن کو مستقل بےن الاقوامی سرحد کے طور پر کبھی قبول نہیں کیا۔ افغان قومیت پرست پشتونوں کی اس پالیسی کی حماےت کرنے کی وجہ سے وہ پاکستان کے60 فیصد علاقے پر اپنا دعویٰ رکھتے ہےں۔ماضی مےںبھی افغانستان نے پشتونوں اور بلوچستان کے علےحدگی پسند عناصر کی حماےت کرنے سے کبھی احتراز نہیں کیا۔اس سرد جنگ کے باعث ہمےں دونوں ممالک کے بہتر تعلقات اور تعاون کی کوششوں مےں آنےوالی مشکلات کو بھی ہمےشہ سامنے رکھنا چاہیے۔آج اگر پاکستان کے طالبان کےساتھ تعلقات ہےں ےاہوسکتا ہے کہ اسکے پاس ان طالبان مےں سے کچھ گروہوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت موجود ہو لےکن اہم بات یہ ہے کہ اس بنا پر یہ تصور کرلینا کہ پاکستان، افغان طالبان کو کنٹرول کررہا ہے، درست نہیں۔مزیدبرآں پاکستان اور افغانستان کے مابےن تعلقات مےں مزید دشواریاں پےداکرنےوالی اس حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کےخلاف دہشتگردی کی کارروائیاں کرنےوالی قوتےں افغانستان کو اےک پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتی ہےں۔ اب وہی الزامات جو پہلے افغانستان کی طرف سے لگائے جاتے تھے ، اب پا کستان کی طرف سے عائد کئے جاتے ہےں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان مےں معاملات کی خرابی کی صورتِ حال مےں اپنی گلو خلاصی کےلئے امریکہ اور افغانستان کو کسی اےسی ذمہ دار قوت کوتلاش کرنا ترک کردےنا چاہیے کہ جسے “قربانی کا بکرا” بناکر دنیا کے سامنے پےش کیاجاسکے۔اگر آپ افغانستان کی اس صورتِ حال کےلئے کسی بےرونی قیادت کو تلاش کرنا چاہتے ہےںتو آپ کو افغانستان کے مسئلے مےںامریکہ کے کردار کا جائزہ لےنا ہو گا۔
2001سے 2003کے دوران ملّا عمر کو فوجی شکست دےنے کے بعدامریکہ نے افغانستان کو افراتفری کے عالم مےں چھوڑ کر مستقل امن کے قیام کی کوششوں کو خےر باد کہہ دیا۔ امریکہ نے افغانستان مےں جو پچھلے 20 سالوں مےں شدید تباہی کی زد مےں رہا، دوبارہ تعمیر و ترقی کے عمل کو شروع کرنے کے تمام منصوبوںپر عمل سے انکار کردیا جسکی افغانستان کو اس وقت اشد ضرورت تھی۔ امریکہ نے عراق مےں جنگ کی قیادت کاانتخاب کیا جس نے افغانستان کے مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیااور وہ بھی اےسے وقت مےں جب افغانستان مےں امن کے قیام اور خطے کی سطح پر سفارتی کوششوں کی کامیابی کے امکانات موجود تھے۔ مزید برآں افغانستان مےں استحکام کے قیام کیجانب پےشرفت کرنے کی بجائے القاعدہ کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی نے امریکہ کو افغانستان مےں اپنے اور عام شہریوں کے دشمن جنگجوسرداروں کےساتھ، جن کا انسانی حقوق کے احترام سے کوئی واسطہ نہ تھا، رابطوں کو استوار کیا اور ان کےساتھ ملکر کام کرنے کی راہےں کھول دیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس طرزِ عمل کا یہ نتیجہ نکلا کہ امریکہ نے اپنی وقتی سلامتی اور سیاسی مفاد کو افغان عوام کے حقوق کی سنجیدہ کوششوں پر ترجیح دے دی۔اقوامِ متحدہ کے مطابق2017کے پہلے تین ماہ کے دوران کم از کم38فیصد عام شہریوں کی اموات کی وجہ وہاں موجود بےن الاقوامی افواج کی بمباری تھی۔بلاشبہ یہ اموات آج بھی طالبان کی بغاوت مےں جلتی پر تےل ڈالنے کا کام کررہی ہےں۔دوسری جانب اس بمباری سے امریکی فوج کو جو فائدہ پہنچاوہ بھی مشکوک اور قابلِ بحث ہے۔
ان تمام حقائق کےساتھ واشنگٹن کی پالیسی پر تنقید تک محدود ہو جانا بھی کافی نہیں۔ افغانستان کی سیاسی حکومت کے مسائل اور طالبان کی جانب سے مزاحمت کی بھرپور کوششوں پر بھی نظر ڈالنا ہوگی۔ بے شک یہاں کرپشن کی بھرمار ہے جو باغیوں کےخلاف کارروائیوں کی راہ مےںمشکلات کو واضح کرتی ہے۔یہاں گھوسٹ سولجرز کی مثال دی جاسکتی ہے جو صرف کاغذوں مےں موجود ہےں اور جن کو ادا کی جانےوالی تنخواہیںخردبرد کر دی جاتی ہےں۔ اس سکےنڈل نے فوج کو کمزور کردیااور مےدانِ جنگ مےںاس سے پہنچنے والے نقصانات کی فہرست بہت طویل ہے۔
افغانستان کی فوجی صورتِ حال بھی نہاےت خوفناک ہے اور فوج اور پولیس مےںبھگوڑوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اسکی کئی وجوہات ہےں مثلاً فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی شرحِ اموات بہت زیادہ ہے، پھر وہ اےسی حکومت کےلئے اپنی جان نہیں دےنا چاہتے جو جمہوری نہیں بلکہ متضاد مفادات کا تحفظ کرنےوالی قوتوں کے اتحاد پر مشتمل ہے، سکیوریٹی اہلکاروں اور انکے اہلِ خانہ کو طالبان کیجانب سے مسلسل خطرات لاحق رہتے ہےں۔
کمزور حکومت کے مقابلے مےں طالبان کے پاس خود کو طاقتور سمجھنے کی کئی وجوہات ہےں۔معاشی اعتبار سے دےکھا جائے تو انکے پاس کابل حکومت کےخلاف گوریلا فوج کی قیادت کرنے کے تمام وسائل موجود ہےں۔منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونےوالے پےسے سے طالبان 25,000جنگجوو¿ںکے اخراجات(300ڈالرزفی کس فی مہینہ)برداشت کرسکتے ہےں۔ افیون کی کاشت پر ٹےکس عائد کرنے سے ترقی پاکر وہ بڑے پےمانے پرہیروئن کی پےداوارحاصل کررہے ہےں اور اس مقصد کےلئے افغانستان بھر مےں انکے پاس 500لیبارٹریاں موجودہےں۔ یہ بات اس امر کا کافی ثبوت مہےّا کرتی ہے کہ وہ اافغانستان کے اےک بڑے علاقے کو بڑی کامیابی کےساتھ کنٹرول کررہے ہےں اور وہاں وہ جو چاہے کرسکتے ہےں۔ افغان حکومت کی بدعنوانی بھی انکی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ درحقیقت افغان حکومت کے مقابلے مےں طالبان کے انصاف کا نظام بھی شہریوں کےلئے کشش رکھتا ہے جہاں ان سے رشوت نہیں مانگی جاتی اور جو بہت تےز اور مو¿ثرہے۔ اسی تناظر مےں اگر طالبان کی متوازی حکومت کو دےکھا جائے توجب مقامی لوگ اپنے نمائندوں مےں سے کسی کی شکاےت لے کر آتے ہےں تو نہ صرف انکی بات سنی جاتی ہے بلکہ اگر وہ قصوروار ہوتو ذمہ دار فرد کو فوراًمعطل کر دیا جاتا ہے لےکن اگر کابل انتظامیہ کی بات کی جائے تو انکا اےسا کوئی طریقہ کارموجود نہیں۔
مزید برآں ملّا عمرسے لےکر طالبان کے موجودہ قائد ہےبت اللہ اخوندزادہ تک، طالبان کے نظرےات بہت واضح رہے ہےں اور کچھ افغانوں کےلئے اس مےں کشش بھی موجودہے، اےک اےسی قومیت پرستی جو اپنی سرزمین پر غےر ملکی افواج کی موجودگی پسند نہیں کرتی اور یہ بھی کہ افغانستان کو کسی دوسری ریاست کےخلاف استعمال کرنے سے انکار کرنا۔ یہی وہ گروہ ہے جو اےک طرف امریکیوں کو مسترد کرتا ہے تو دوسری طرف مختلف قوموںپر مبنی جہاد ازم کو بھی ردّ کرتا ہے۔ اگرچہ طالبان خطے مےں اپنی سفارت کاری کی کاوشوں مےں کامیاب رہے لےکن اپنے قوم پرست کردار کے باعث وہ عالمی طاقتوں کے مفادات کے راستے مےں حائل ہونے کی وجہ سے توجہ حاصل نہ کرپائے۔یہ طالبان کی تاریخی خصوصیت ہے ، جےسا کہ اوپر بیان کیا گےا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی (اس حقیقت کے باوجود کہ 1990کی دہائی مےںپاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی) ڈیورنڈ لائن کو اےک سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ پشتون نےشنلزم (جسکی حماےت پاکستان کرتا تھا)کی مخالفت کرتے ہوئے طالبان نے خودکو اسلام کےساتھ جوڑ کر انتہا اور شدت پسندی کا روےّہ اپنا لیا۔اور آج جبکہ طالبان پشتون قبائل سے ہی اپنے زیادہ تر جنگجو بھرتی کرتے ہےں تاہم انہیں افغان حکومت کےخلاف دیگراقوام کی جےسے تاجک، ازبک اور ترک حماےت بھی حاصل ہے۔اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اےک فوجی اور دہشتگرد خطرہ ہوتے ہوئے بھی طالبان افغان حکومت کے مقابلے مےں بڑی تےزی سے اےک متبادل سیاسی قوت کے طور پر اُبھررہے ہےں۔تاہم طالبان اےک باغی قوت کے طور پر جتنا کہ ہم سمجھتے ہےںاس قدر مضبوط اور متحد بھی نہیں۔ ملّا عمر کی وفات کے بعد طالبان کی صفوں مےں ہونےوالی تقسیم اور مخالفت کو بڑے واضح طور پر دےکھا جا سکتا ہے۔ طالبان کو داعش کیجانب سے لاحق خطرے اور مقابلے کو بھی مدِنظر رکھنا ہوگا۔ مزید برآں کچھ باغی جو کٹّر نظرےات کے حامل ہےں اسلامک سٹےٹ ےعنی داعش سے مقابلہ نہیں چاہتے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ طالبان باغیوں کا کوئی بہت بڑا گروہ نہیں بلکہ بہت سے مقامی افغان باغی گروہوں کا مجموعہ ہے جو افغانستان کی نااہل حکومت اور امریکی فوج کی موجودگی کے ردعمل مےں پےدا ہوا۔ طالبان صرف کابل حکومت اورواشنگٹن کی کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ ہی سے طاقتور ہےں۔افغانستان اور امریکہ کی کسی اےسے گروہ کو تشکیل دےنے مےں ناکامی جو اس خطے مےں انکے مفادات کا تحفظ کرسکے افغانستان مےں امن و استحکام کے قیام کی راہ مےں مزید رکاوٹےں ڈالتاہے۔ افغان باغیوں کی کابل کی سیاسی حکومت کےخلاف کامیابی ناگزیر نہیں اور افغانستان کی طویل تاریخ ہمےں یہ ےاددہانی بھی کرواتی ہے کہ افغانستان کو “قوموں کے قبرستان”کے طور پرپےش کرنا حقیقت سے زیادہ ماضی کو اےک سادہ لفظوں مےں بیان کرنے کی کوشش ہے۔شہیدوں کے اس ملک مےں امن کے قیام کےلئے اےسے منطقی حل کی ضرورت ہے جو صرف فوج کی طاقت کے استعمال پر مبنی نہ ہو بلکہ آج ہمےشہ سے کہیں زیادہ اس مسئلے کے سفارتی،انسانی، تاریخی اور جغرافیائی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی قابل قبول حل کے تلاش کی ضرورت ہے۔

Scroll To Top