حادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہے

zaheer-babar-logoعدالت عظمی ایک طرف ملک میںآئین وقانون کی بالادستی کے لیے پوری قوت سے میدان میں موجود ہے تو دوسری جانب عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے وہ تمام اقدمات اٹھائے جارہے جو کسی نہ کسی حد تک ممکن ہیں۔ اسی پس منظر میں عدالت عظمی قومی خزانے کو مال مفت دل بے رحم کی طرح اڈانے کے رججاں کی حوصلہ شکنی کررہی یعنی سپریم کورٹ نے سیاسی رہنماوں کی تصویر والے سرکاری اشتہارات پر پابندی کا حکم دے دیا ۔گذشتہ روز سپریم کورٹ میں الیکشن سے قبل صوبائی حکومتوں کی جانب سے شروع کی گئی تشہیر ی مہم سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ان تمام عوامل کا جائزہ لیا جو قومی خزانے سے سیاسی قائدین کی ذاتی تشہیر میں نمایاں کردار ادا کررہے۔ سماعت کے موقعہ پر سیکرٹری اطلاعات نے عدالت عظمی کو بتایا کہ خیبر پختون خواہ میں اب تک حکومتی اشتہارات کی مد میں 1ارب 63 کروڑ دئے گئے، جو کہ زاتی تشہیر کیلئے نہیں ،چیف جسٹس نے کہا آپ بیان حلفی دے سکتے کہ ان اشتہارات پر کسی لیڈر شپ کی تصویر نہیں لگائی گئی، بتائیں کہ کن اشتہارات میں عمران خان اور پرویز خٹک کی تصاویر ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر کے پی کے اشتہارات ذاتی نہیں بلکہ خدمات سروسز سے متعلق ہیں،سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں 20 کروڑ، 47 لاکھ کے اشتہارات دیے گئے، عدالت نے سیکرٹری اطلاعات سے کے پی کے حکومت سے کل تک ایک سال کی تشہیر کی تفصیلات طلب کر لیں، چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اشتہارات کی مہم پر لگنے والا پیسہ خزانے کا ہے، ہمیں تشہیر سے کوئی غرض نہیں مگر یہ ذاتی نہیں ہونی چاہیے، دیکھ لیں گے کہ ذ اتی تشہیر کی ریکوری کس سے کرنی ہے، عدالت نے حکم دیا کہ بے نظیر بھٹو، وزیر اعلی سندھ اور بلاول بھٹو کی تصویر نہیں آنی چاہیے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیوں نا الیکشن کمیشن کو پارٹی فنڈ کے آڈٹ کا کہہ دیں، ۔
یہ باعث اطمنیان ہے کہ عدلیہ نے الیکشن سے قبل کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز اراکین اسمبلی کو دینے کا بھی نوٹس لیا ہے۔ یقینا پاکستان کا عام آدمی یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ہر حکومت الیکشن سے پہلے کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کس قانون کے تحت دیتی ہے ۔ مملکت خداداد پاکستان میں بدعنوانی کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے یقین سے کہا جاسکتا کہ ترقیاتی فنڈز کے نام پر اراکینِ اسمبلی کو دیئے جانے والے کروڈوں روپے ہرگز ان کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جاسکتے۔ یہ سوال سالوں سے قومی میڈیا میں پوچھا جاتا رہا کہ پنجاب کے سرکاری اشتہارات پر تصاویر ہیں لہذا سیاسی تشہیر پر اٹھنے والے اخراجات کون برداشت کرے گا۔ عدالت عظمی نے ترقیاتی کاموں کے نام پر سیاست دانوں کی تصاویر پر مبنی اشہتارات پنجاب ، سندھ اور خبیر پختوانخواہ میں بھی روکنے کے احکامات جاری کرچکی حتی کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکیس دیے کہ اگر پیپلز پارٹی نے سرکاری اشتہارات کے ذریعے تشہیر کی ہے وہ رقم واپس کی جائے۔
اے پی این ایس کی اشتہارات سے متعلق گائیڈ لائنز پر چیف جسٹس نے وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کو بھجواتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو اعتراض نہ ہوا تو فیصلہ کر دیں گے۔ عدالت کا غیر مہبم الفاظ میں کہنا تھا کہ کسی کے اشتہارات نہیں روکے محض تصویر والے اشتہارات بند کیے ہیں کیونکہ فاضل عدالت نہیں چاہتی کہ میڈیا انڈسٹری کا بزنس متاثر ہو۔
ہٹلر کے دست راست گوبلز کا یہ قول معروف ہے کہ” اتینا جھوٹ بولو کہ لوگ اسے سچ ماننے پر تیار ہوجائیں“۔ سیاست میں مبالغہ آرائی سے انکار نہیںکیا جاسکتا مگر یہ تشویشناک اس وقت ہوجاتا ہے جب اہل سیاست صرف اور ذاتی اور گروہی مفاد کے لیے اس قابل احترام شعبہ کو استمال میں لاتے ہیں۔اب بدلے ہوئے پاکستان میں یہ ممکن نہیں رہا، ماضی میں جو ہوا سوا ہوا لیکن اب قومی خزانے اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استمال کرنے کا رجحان بتدریج ختم ہوسکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ اگر وہ عام آدمی کی” خدمت “ کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے تشہیر کی ضرورت نہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ اصل خوشبو وہی ہے جو خود اپنی موجودگی کا احساس دلائے نہ کر عطار اس کی خوبیاں بیان کرتا رہے۔۔۔ اس صورت حال میں اہل سیاست عبدالمجید سالک کی زبان میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔۔
غم کے ہاتھوں میرے دل پر جو سماں گزرا ہے
حادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہے“
وطن عزیز کی جمہوریت پختگی اور سنجیدگی کی جانب بتدریج بڑھ رہی۔یہ بھی حقیقی جمہوریت کا نشانی ہے کہ قومی خزانے کو بے دریغ انداز میںاستمال کرنے پر ممانعت ہو۔ دنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں ایسا ناممکن ہے کہ ووٹ کے زریعہ برسراقتدار آنے کی دعویدار شخصیات قومی خزانے پر چیک اینڈ بیلنس نہ ر کھیں۔ ہم باخوبی جانتے کہ عام انتخابات زیادہ دور نہیں رہ گے ۔ عین ممکن ہے کہ وفاقی حکومت سمیت صوبوں میں برسراقتدار سب ہی سیاسی جماعتیں عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے سرکاری خزانے سے پرنٹ والیکڑانک میڈیا میں مہم شروع کریں لہذا اس ضمن میں جناب چیف جٹس جناب ثاقب نثار کا یہ اقدام بروقت اور درست کہا جاسکتا ہے۔

Scroll To Top