پانچ افراد کی خواہشات پر مبنی دستاویز 16-01-2013

اسلام آباد میں ایک نئی تاریخ رقم ہورہی ہے۔ اس نئی تاریخ کے خدوخال کیا ہوں گے اس کے بارے میں فی الحال میں کوئی بات حتمی طور پر لکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔ مگر کچھ غور طلب سوال ہیں جو آج میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
کیا آپ کی نظر میں پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر کوئی ایسا لیڈر ہے جو جناب آصف علی زرداری کی ہدایات یا ان کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کی جرا¿ت رکھتا ہو؟
کیا پاکستان مسلم لیگ (ن)کے اندر کوئی ایسا لیڈر ہے جو میاںنوازشریف کی ہدایات یا احکامات سے چشم پوشی کرسکے ؟
کیا ایم کیو ایم ` اے این پی اور جے یو آئی میں ایسے لیڈر موجود ہیں جو اپنے سربراہان کی ہدایات کو نظر انداز کرسکیں؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سوالات میں کیوں اٹھا رہا ہوں تو اس کی وجہ وہ ترامیم ہیںجواس حکومت کی قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی نے آئین میں کیں اور جن کی وجہ سے ہماری سیاسی جماعتوں کے تمام سربراہان کو آمرانہ اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ میری مراد اٹھارہویں ` انیسویں اور بیسویں ترامیم سے ہیں۔ خصوصاً اٹھارہویں ترمیم جس میں ہر جماعت کے رکن پر یہ لازم قرار دے دیا گیا کہ وہ اپنے سربراہ کے احکامات کے مطابق کام کرے۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ ہمارے سامنے موجودہ شکل میں جو آئین موجود ہے وہ اٹھارہ کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کا بنایا ہوا نہیں بلکہ ملک کی متذکرہ پانچ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی خواہشات کا مظہر ہے۔ اس آئین کی سب سے دلچسپ شق یہ ہے کہ نگر ان حکومت کا قیام ملک کے وزیراعظم اور چوہدری نثارعلی کے درمیان پیداہونے والی ”افہام و تفہیم “ کے ذریعے عمل میںآئے گا۔
کیاپاکستان کا مستقبل ایسے آئین کے ہاتھوںیرغمال بنایا جاسکتا ہے جو پانچ افراد کی خواہشات کا آئینہ دار ہو۔۔۔؟

kal-ki-baat

Scroll To Top