میں بھی آخر انسان ہوں

محترمہ مریم اورنگزیب کو شاید کوئی یاد نہیں دلا رہا کہ وہ حکومتِ پاکستان کے پے رول پر ہیں۔۔۔ انہیں تنخواہ عوام کے ٹیکسوں سے ادا کی جاتی ہے۔۔۔ وہ عدالت سے نا اہل قرار پاکر وزارت عظمیٰ سے فارغ کئے جانے والے میاں نوازشریف کی پرنسل سیکرٹری یا ذاتی ملازمہ نہیں کہ جب بھی موقع ملے ٹی وی کے کیمروں کے سامنے طوطے کی طرح ایک ہی رٹا ہوا یہ بیان فرفر ” پلے “ کرنا شروع کردیں۔۔۔
” اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں فارغ کئے جانے والے میاں نوازشریف اپنے خلاف کی جانے والی نا انصافی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔“
محترمہ اب میاں نوازشریف داستانِ پارینہ بن چکے ہیں۔۔۔ اگر آپ کو ذاتی طور پر ان سے والہانہ لگاﺅ ہے تو اس کا اظہار اپنے حلقہءاحباب میں ضرور کیا کریں۔۔۔مگر وفاقی وزارت اطلاعات کا قلمدان آپ کے پاس اس لئے نہیں ہے کہ آپ پاکستان کی عدلیہ کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں۔۔۔ 14مارچ کو جب آپ الیکشن کمیشن کے دفتر گئیں تو وہاں موقع ملتے ہی آپ نے میاں نوازشریف کی شان میں قصیدے پڑھنے شروع کردیئے۔۔۔
آپ کے وزیراعظم کا نام شاہد خاقان عباسی ہے۔۔۔ جس پارٹی کی حکومت کا آپ حصہ ہیں اس کے صدر کا نام شہبازشریف ہے۔۔۔ خدارا آپ کو میاں نوازشریف کے ساتھ جو عقیدت ہے اسے اب اپنی ذات تک ہی محدود رکھیں۔۔۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ حکومت اور اپنے منصب سے مستعفی ہو کر یہ پلے کارڈ اٹھالیں۔۔۔
” میرے قائد حضرت میاں نوازشریف کو کیوں نکالا۔۔۔؟“
حکمران جماعت کے تمام اراکین کو سینٹ میں ہونے والی ” خوفناک“ شکست سے جو صدمہ ہوا ہے وہ قابلِ فہم ہے۔۔۔ لیکن اِس شکست نے ان کا ذہنی توازن جس انداز میں بگاڑ دیا ہے وہ قابلِ فہم نہیں۔۔۔مسلم لیگ نون کے جس اجلاس میں میاں شہبازشریف کو صدر منتخب کیا گیا اس میں میاں نوازشریف تقریر کرتے وقت پوری طرح ہوش و حواس میں نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔
اپنی ذہنی حالت کا اظہار بالآخر انہوں نے اِن الفاظ میں کردیا۔۔۔
” میں بھی آخر انسان ہوں۔۔۔“
کہنا وہ یہ چاہتے تھے۔۔۔ ” شہباز میرا بھائی سہی مگر میں بھی آخر انسان ہوں۔۔۔ اُسے اپنا تاج میں خوشی سے نہیں پہنا رہا۔۔۔“

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top