اتنا بڑا دعوی کرنے سے پہلے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیا کریں مریم صاحبہ!

14-03-2018
”جب میرے والد پر جوتا پھینکا گیا تو مجھے بڑا صدمہ ہوا مگر پھر میرا ذہن رسول پاکﷺ پر کی جانے والی سختیوں اور زیادتیوں کی طرف گیا جن پر ان کی بیٹی حضرت فاطمہؓ دُکھی ہوا کرتی تھیں“یہ الفاظ مریم نواز کے ہیں۔ اس کے آگے موصوفہ نے کس طرح اپنے ایک چور، کرپٹ، بدعنوان، جھوٹے اور نااہل قرار پانے والے والد کو سرکار دو عالمﷺ،سرور کائنات ؐ کے ساتھ اور خود کو فاطمة الزاہرہؓ کے ساتھ ملایا وہ بیان سے باہر ہے۔ اس کے بعد کیا صحیح معنوں میں مریم نواز توہین رسالت جیسے سنگین جرم کی مرتکب ہوئی ہے؟
کہاں وہ عظیم الشان ہستیاں اور کہاں یہ گناہگار خطاکار لوگ۔ اورکل کے اس واقعہ کے بعد وہ سب لوگ جو اب بھی ان لٹیروں کے حامی ہیں ان سب کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے۔ کیا توہین رسالت کا قانون صرف بے بس لوگوں پہ ہی لاگو ہوتا ہے؟کیا مریم نواز جیسے طاقتور لوگ اس سے مبرا ہیں؟
مریم نواز واقعی اپنے والد محترم کی ہی بیٹی ہے اور ان ہی کے نقش قدم پہ چل رہی ہے، کیونکہ عمران خان، فوج اور عدلیہ کے خلاف جس قسم کی نازیبا زبان مریم نواز استعمال کر رہی ہے اسی قسم کی زبان نواز شریف محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف استعمال کرتے تھے۔ اور اگر عمران خان یا کسی اور سیاست دان نے کی ہوتی تو اب تک میڈیا اس کو اتنا اُچھال چکا ہوتا اور اخلاقیات کا اتنا درس دے چکا ہوتا کہ اللہ کی پناہ۔
شہزادی نے ترازو پکڑ لیا ہے اللہ خیر کرے۔ایک ہاتھ میں ترازو اور دوسرے میں تلوار لے کر میدان میں اترنے والی یہ مریم کسے للکار رہی ہے۔۔کیا کہہ رہی ہے اور جو کچھ کہہ رہی ہے کیا حالت ہوش میں کہہ رہی ہے۔ان تمام سوالوں کے جوابات تو شائد وہ خود ہی دے سکے۔

Scroll To Top