اپنی ذات کے لیے پارٹی قربان کی جارہی ؟

zaheer-babar-logoوزیر اعلی پنجاب میاںشہبازشریف حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوگے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا صلح جو شہبازشریف کے صدر بنے سے پی ایم ایل این کی سیاسی و قانونی مشکلات میںکمی آنے کا امکان ہے، بظاہر اس جواب اثبات میں نہیں۔ سیاسی مبصرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کو تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سے کہیں بڑھ کر خود اپنی صفوںسے بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ پارٹی کی جارحانہ پالیسی کو لے کر اندرونی اختلافات بدستور موجود ہیں جو اسے نقصان پہنچارہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پی ایم ایل این کو اپنے اندار اختلافات قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صورت حال پر نگاہ رکھنے والے باخبر مبصرین کا دعوی ہے کہ پی ایم ایل این کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ کسی طور پر اختیارات خاندان سے باہر کسی بھی فرد کے ہاتھ میں دینے کو تیار نہیں ۔ یہ پالیسی اس کے باوجود جاری وساری ہے کہ آنے والے دنوں میں غالب امکان ہے کہ میاں نوازشریف اور شہبازشریف دونوں سنگین مسائل سے دوچار ہوجائیں۔کم وبیش 35سال تک سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حقیقی معنوں میں راج کرنے والی جماعت کی بدعنوانی کے قصے آئے روز سامنے آرہے۔ پانامہ لیکس میں میاں نوازشریف اور ان کے بچوں کا نام آیا تو اب احد چیمیہ کی شکل میں وزیر اعلی پنجاب کی ایمانداری پر سوالات اٹھ رہے۔
(ڈیک)اس میں شک نہیں کہ شریف فیملی قومی اداروں کے ساتھ تصادم کی پالیسی پر چل کر دراصل خود کو بچانے کے لیے سرگرداں ہے۔ بظاہر شریف خاندان سمجھتا ہے کہ اس کی بقا اسی میں ہے کہ وہ بدعنوانی کے ہر مقدمہ کو سازش کا نام دے ڈالے ، اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے اہم ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا ملک وملت پر کیا اثرات مرتب کرسکتا ہے یہ کسی بھی بالغ نظر شخص کی نظروں سے اوجھل نہیں ۔ (ڈیک)
ہر گزرتے دن کے ساتھ صورت حال پچیدہ ہوتی جارہی۔ سینٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کو جو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ اس کے لیے ناقابل برادشت ہورہی۔ حکمران جماعت کے سب ہی نمایاں افراد جس طرح غم وغصہ کا شکار ہیں وہ ان کے چہروں پر نمایاں ہے۔ نوازشریف کے مشیروں کو سابق وزیر اعظم کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پانچ دریاوں کی سرزمین میں کبھی بھی مزاحمت مثالی نہیں رہی، خود حکمران جماعت کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں پرطائرانہ نظر ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ کس مذاج یا ساخت کے حامل ہیں، اسی حقیقت کو بنیاد بنا کرسیاسی پنڈتوں کا ایک گروہ دعوی کررہا کہ مسلم لیگ ن میں سے الیکٹ ایبلز جلد اڈان بھر جائیں گے۔
اگر مگر اور چونکہ چنانچے کے باوجود میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کا سیاسی مستقبل بے یقینی کا شکار ہے۔ نیب ریفرنسز میں پیش رفت کے ساتھ اندرون پارٹی یہ انتشار مزید شدت اختیار کرسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں میاں نوازشریف کو کو انتہائی اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ادھر یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ میاں نوازشریف سے اختلاف کرنے والے چوہدری نثار پارٹی میں اکیلے نہیں بلکہ ان کے ہم خیال اور بھی افراد موجود ہیں جو وقت آنے پر سامنے آسکتے ہیںیعنی مسلم لیگ ن کا قابل زکر حصہ سمجھتا ہے کہ میاں نوازشریف خود کو بچانے کے لیے پارٹی کا مسقبل مخدوش کرنے سے باز رہیں۔ چوہدری نثار علی خان مریم نواز کی انٹری سے بھی خوش نہیں وہ اعلانیہ سمجھتے ہیں کہ میاں نوازشریف کی صاحبزادی ہونا ہی واحد معیار نہیں بلکہ سیاست میں تجربہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سابق وزیر داخلہ اعلانیہ طورپر مریم نواز کو بچی قرار دے چکے ہیں شائد یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے کرتا دھرتا افراد چوہدری نثار سے دور ہوچکے۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تمام تر مسائل کے باوجود آخر میاں نواز شریف کا چوہدری نثار سے قطع تعلق کیوں مشکل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سابق وزیر داخلہ شفاف ریکارڈ کے حامل ہیں لیکن نواز شریف اپنی پارٹی میں مضبوط نثار مخالف لابی سے بھی آگاہ ہیں۔ یاد رہے کہ چوہدری نثار نے کراچی آپریشن اور ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کی ذمہ داری قبول کی۔ دراصل ہمارے ہاں قومی سیاسی جماعتوں میںاختلافی آواز کو برداشت کرنے کا رواج نہیں۔ سیاسی قائدین جمہوریت کا واویلا تو کرتے ہیںمگر عملا وہ ایسا آمرانہ مزاج رکھتے ہیں جس کے مظاہرے آئے روز دیکھنے کو مل رہے۔ حقیقی جمہوری معاشروں میں پارٹی قیادت اندرون پارٹی انتخاب کے ذریعہ منتخب کی جاتی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہ عمل اپنی روح کے مطابق انجام نہیں پاتا۔
مسلم لیگ ن کی مشکلات ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔ یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ میاں نوازشریف اپنی اور اپنے خاندان کو بچانے کے لیے جاری لڑائی میںکب اور کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔ سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں پی ایم ایل این کی شکست واضح پیغام دے رہی کہ آنے والے دنوں میں انھیں کس قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ شریف خاندان کو اس صوبے میں مشکلات درپیش ہیں جہاں وہ کئی دہائیوں سے بلاشرکت غیرے حکومت کرتے رہے مگر آج حالات یہ ہیں کہ اہم منصب پر موجود کم وبیش سب ہی نمایاں شخصیات پنجاب سے ہیں جس کے بعد ماضی کی طرح اس پر بار جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ کسی طور پر اپنا اثر نہیں دکھانے والا ۔

Scroll To Top