جب تک نازی جرمنی ہتھیار نہیں ڈالتا امریکہ اور روس کو اپنی بندوقوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف نہیں کرنا چاہئے۔۔۔

میاں رضا ربانی صاحب!
آپ کس قدر خوش قسمت ہیںکہ جن نون لیگیوں نے برسہا برس تک آپ کی قائد بے نظیر بھٹو پر عرصہ ءحیات تنگ کئے رکھا اور جس نوازشریف نے پاکستان پیپلزپارٹی کے وجود کو ایسا ناسور قرار دیا جسے کاٹ پھینکنا ملکی سلامتی کا ایک ناگزیر تقاضہ تھا۔۔۔ وہ نون لیگی اور وہ نوازشریف آپ کی یاد میںاب خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔۔۔
آپ نے ایسا کون سا جادو کیا کہ ملک کو بلاشرکتِ غیر شریف خاندان کی شکارگاہ بنانے کے متمنی آپ کے گرویدہ ہوگئے۔۔۔؟
نون لیگی قیادت کے مدح سرا حاصل بزنجو نے ایوان کے فلور پر روہانسی آواز میں کہا کہ پارلیمنٹ کا منہ کالا ہوگیا ہے کیوں کہ سینٹ چیئرمین شپ کی سیٹ پر رضا ربانی کی بجائے بلوچستان کا ایک سپوت براجمان ہوگیا ہے۔۔۔
اورطلال چوہدری نے کہا ہے کہ ”اے آسمان یہ تُو کیا دیکھ رہا ہے ۔۔۔ کہاں رضا ربانی جیسا مہان مردِ جمہوریت اور کہاں یہ صادق سنجرانی !“
رضا ربانی صاحب۔۔۔ آپ قوم کو اس بات پر اعتماد میں ضرور لیں کہ آپ کیسے جنرل ضیاءالحق کے سیاسی فرزند کا پہلا انتخاب بن گئے۔۔۔ ؟ آپ پر بڑا ظلم ہوا ہے کہ پی پی پی پی کے دشمن آپ کو چیئرمین بنانا چاہتے تھے اور پی پی پی پی کے سربراہ نے اپنی پارٹی کے سینئر رہنماﺅں کے مشوروں کو مسترد کرتے ہوئے آپ سے ’ ’ وہ کرسی “ چھین لی ہے۔۔۔
جن آنکھوں نے بیس تیس برس قبل کے مناظر دیکھے ہیں اور جن کانوں نے میاں نوازشریف سے لے کر خواجہ سعد رفیق تک کے بیبی صاحبہ کے بارے میں شرمناک کلمات سنے ہیں انہیں یقینا یقین نہیں آرہا ہوگا کہ ” وہی قاتلانِ حسین “ آج ” علمبردارانِ حسینیت“ بن گئے ہیں۔۔۔
اور شاید یہ اللہ تعالیٰ کا انصاف ہے کہ جس آصف علی زرداری کو ساتھ ملا کر میاں صاحب نے ملک کو ایسا آئین دینے کا خواب دیکھا تھا جو ” شریف شاہی “ کو کئی نسلوں تک قوم پر مسلط رکھے۔۔۔اسی آصف علی زرداری نے ان کی گردن دبوچ لی ہے۔۔۔
اس غیر متوقع صورتحال نے نون لیگی کیمپ کو ایک نیا بیانیہ دے دیا ہے۔۔۔ بدحواسی میں انہیں ایک ہی نعرہ سمجھ میں آیا ہے۔۔۔
”زرداری عمران بھائی بھائی۔۔۔“
تو کاغذی شیرو۔۔۔ دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین اور امریکہ نے بھائی بھائی بن کر ہی نازی جرمنی کو شکست دی تھی۔۔۔
مشترکہ دشمن بڑے بڑے دشمنوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر لے آیا کرتا ہے۔۔۔
ملک کو آج خطرہ زرداری صاحب کی کرپشن سے نہیں میاں صاحب کے فسطائی خوابوں سے ہے جن کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہی مقرر کردہ سپہ سالار اور اپنے ہی پسندیدہ چیف جسٹس کو نشانے پر لے رکھا ہے۔۔۔ یہ درست ہے کہ میاں صاحب کی کرپشن نے مارکوس زین العابدین بن علی اور حسنی مبارک جیسے ” سند یافتہ “ کرپٹ حکمرانوں کے ریکارڈ بھی توڑ دیئے ہیںلیکن کرپشن کا تدارک ہوسکتا ہے۔۔۔ غداری کا تدارک نہیں ہوسکتا۔۔۔ میاں صاحب نے پاکستان کے دشمنوں کو اپنا حلیف بنا کر جو جرم کیا ہے۔۔۔ اس کے جواب میں اگر عمران خان وہ آپشن اختیار نہ کرتے جو انہوں نے کیا ہے تو یہ ناقابل معافی غلطی ہوتی۔۔۔
انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ہنوز میاں صاحب میدان جنگ میں ہیں اور اُن کی صاحبزادی بدستور پھنکار رہی ہے۔۔۔ جب تک فسطائیت کا خطرہ مکمل طور پر کچل نہیں دیا جاتا۔۔۔ امریکہ اور سوویت یونین کو اپنی بندوقوں کا رخ ایک دوسرے کی طر ف نہیں کرنا چاہئے۔۔۔

Scroll To Top