انتخابات سے قبل ترقیاتی فنڈز کا اجراءپری پول دھاندلی نہیں؟ چیف جسٹس پاکستان

  • ہو سکتا ہے انتخابات سے قبل ایسے فنڈز کے اجراءپر پابندی لگا کر اراکین اسمبلی کی صوابدید پر چھوڑدیں،حکومتیں اپنی تشہیر کےلئے سرکاری خزانہ استعمال نہ کریں ،سیاسی تشہیر کےلئے پارٹی فنڈز استعمال کریں
  • پیپلز پارٹی سرکاری اشتہارات کے ذریعے سیاسی تشہیر کی رقوم قومی خزانے میں واپس جمع کرائے، چیف جسٹس ،پنجاب حکومت کا گزشتہ تین ماہ کے دوران جاری اشتہارات میں سیاسی رہنماو¿ں کی تصاویر شائع کرنیکا اعتراف

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عام انتخابات سے قبل حکومت کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز کے اجراءکا نوٹس لے لیا۔ منگل کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سرکاری اشتہارات کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ حکومت الیکشن سے پہلے اراکین کوترقیاتی فنڈز جاری کر رہی ہے ¾ حکومت کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز انتخابات سے قبل کس قانون کے تحت دیتی ہے، ہو سکتا ہے انتخابات سے قبل ترقیاتی فنڈز کے اجراءپر پابندی لگا دیں، سرکاری فنڈز کو اراکین اسمبلی کی صوابدید پر چھوڑا جا سکتا۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ حکومت سے فنڈز کے اجرا کی قانونی حیثیت پوچھ کرعدالت کو آگاہ کریں، کیا اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا عمل پری پول (قبل از الیکشن) دھاندلی میں نہیں آتا؟، یہ گائیڈ لائن ہونی چاہئیں کہ سرکاری اشتہار کس کےلئے ہوناچاہیے، یہ کام اپنی ذمہ داری سمجھ کرکررہے ہیں، حکومتیں اپنی تشہیر کےلئے سرکاری خزانہ استعمال نہ کریں بلکہ سیاسی تشہیر کےلئے اپنا پارٹی فنڈ استعمال کریں، سرکاری پیسے سے اشتہار سے پری پول دھاندلی ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ پیپلز پارٹی نے سرکاری اشتہارات کے ذریعے جو اپنی سیاسی تشہیر کی وہ رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرائے۔اے پی این ایس کے وکیل نے کہا کہ عدالت میں گائیڈ لائنز پیش کررہے ہیں، سرکاری اشتہار ووٹ مانگنے کےلئے استعمال نہیں ہوسکتا ¾اس سے سیاسی تشہیر نہیں ملنی چاہیے اور سیاسی شخصیات کی تصاویر نہیں ہونی چاہیے، سرکاری منصوبوں سے آگہی عوام کا حق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی لیڈران کی تصاویر اشتہارات میں لگوانا بند کرادیں ¾جو تصاویر لگی ہیں پارٹی رہنماو¿ں سے پیسے واپس کرادیں ¾یہ معاملہ ایک دو دن میں حل ہوجائیگا، اس پر کام کررہے ہیں۔ نجی ٹی ویکے مطابق سیکرٹری اطلاعات خیبرپختون خوا نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں صوبائی حکومت نے 24 کروڑ روپے اشتہارات پر خرچ کیے، تاہم ان 3 ماہ کے اشتہارات میں پرویز خٹک اور عمران خان کی تصاویرتلاش نہیں کرسکا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات سے متعلق گزشتہ تین ماہ کی رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ اشتہارات میں سیاسی رہنماو¿ں کی تصاویر شامل ہیں۔

Scroll To Top