ایرانی وزیر خارجہ وزیراعظم ملاقات: دو طرفہ تجارت 5ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

  • پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو عملی شکل دینے بارے ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے پر عزم ہیں ، شاہدخاقان عباسی
  • سرحدپارغیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے بارڈرمینجمنٹ کے ضمن میں پاکستانی اقدامات قابل تعریف ہیں، ڈاکٹر جواد ظریف

نیویارک©: وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی یو این کے 72اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جوادظریف 2021 تک دو طرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو عملی شکل دینے کے ضمن میں متعلقہ امور بشمول پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کیلئے مالی وسائل اورسنیپ بیک شق کے حل کیلئے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان مشترکہ ترقی اورخوشحالی کیلئے پرامن اورباہمی طورپرمربوط خطے کے اپنے وژن پر عمل پیراہے، پرامن اورمستحکم افغانستان خطے کی اقتصادی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل ہے، اس ہدف کے حصول کیلئے پڑوسی ممالک ہونے کے ناطے پاکستان اورایران اہم کردارادا کر سکتے ہیں۔ پیر کویہاں وزیر اعظم سے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جوادظریف نے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اورخطے میں امن اورسلامتی سے متعلق امورپرتبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے اس موقع پر دوطرفہ تجارت،سرمایہ کاری اورتجارتی روابط سمیت مختلف شعبوں میں ایران کے ساتھ باہمی استفادے کے حامل اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے پاکستانی خواہش کااعادہ کیاہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اورایران کے درمیان 2021ءتک دوطرفہ تجارت کے حجم کو 5ارب ڈالر سالانہ کی سطح پرپہنچانے کے ہدف کے حصول کیلئے دونوںممالک کومل کربامقصد اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیراعظم نے علاقائی اقتصادی استحکام سے استفادے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے پر زوردیا۔وزیراعظم نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو عملی شکل دینے کے ضمن میں متعلقہ امور بشمول پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کیلئے مالی وسائل اورسنیپ بیک شق کے حل کیلئے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان مشترکہ ترقی اورخوشحالی کیلئے پرامن اورباہمی طورپرمربوط خطے کے اپنے وژن پر عمل پیراہے، ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پرامن اورمستحکم افغانستان خطے کی اقتصادی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل ہے، اس ہدف کے حصول کیلئے پڑوسی ممالک ہونے کے ناطے پاکستان اورایران اہم کردارادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کشمیری عوام کے اصولوں پرمبنی جدوجہد کی ثابت قدم تعاون پر ایران کی قیادت کا شکریہ اداکیا۔ایران کے وزیرخارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطوں کی تعریف کی اورکہاکہ دونوں ممالک کی جانب سے اس ضمن میں اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتیجے میں اقتصادی اورعوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہواہے جس میں مزیداضافے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سرحدپارغیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے بارڈرمینجمنٹ کے ضمن میں پاکستانی اقدامات کی بھی تعریف کی ۔۔

Scroll To Top