جب بھی تارا گرے گا اس پر

سینٹ انتخاب دراصل سابق وزیر اعظم کے بیانیہ اور اپوزیشن جماعتوں کے نظریات کے درمیان معرکہ بھی کہا جاسکتا ہے جس میں جیت حزب اختلاف کی سیاسی قوتوں کی ہوئی ۔ حالیہ چند مہینوں میں پانامہ سیکنڈل میں نااہلی کے بعد میاں نوازشریف سر عام قومی اداروں کو جس طرح ہدف بنا رہے اس کے نتیجے میں ملک کے سنجیدہ طبقوں میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس پس منظر میں اپوزیشن جماعتوں کے چیرمین سینٹ کے امیدوار صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیرمین کے امیدوار سلیم مانڈوی والا کا پاکستان مسلم لیگ نواز اور ان کے اتحادی جماعتوں کو شکست دینا خاص پیغام ہے جس کو بہرکیف سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں میں سابق وزیر اعظم جو نقطہ نظر اپنی تقریروں میں جو کچھ بیان کررہے ہیں اس کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔ افسوس کہ میاں نوازشریف کی تحریک عدل ہو یا پھر ووٹ کو تقدس دینے کا مطالبہ اقتدار ان کو اقتدار سے باہر نکنے کے بعد کی باتیں ہیں۔
سینٹ انتخاب میں واضح شکست کے باوجود مسلم لیگ ن کی قیادت یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ گذشتہ پانچ سال دور میں انھوں نے جو کارکردگی کا مظاہرہ کیا سینٹ الیکشن کے نتائج میں اس کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ وفاق ہو یا ملک کا سب سے بڑا صوبے کہیں بھی پی ایم ایل این قابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔
سپریم کورٹ میں شریف فیملی کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات نے بھی حکمر ان جماعت کی سیاسی حثیثت کو متاثر کیا ۔ عدالت عظمی میں کئی ماہ جاری رہنے والے مقدمات میں شریف خاندان کے اپنے حق میں ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ معاملہ اتینا آسان نہیںکہ اسے محض سازش قرار دے دیا جائے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اسے سازش مان بھی لیا جائے تو سوال یہ کہ تمام تر سرکاری وسائل کے باوجود حکمران جماعت اس سازش کو ناکام بنانے میں کیونکر کامیاب نہ ہوسکی۔
وقت آگیا ہے کہ میاں نوازشریف کھلے دل ودماغ سے ان مسائل کا ادراک کریں جو انھیں بطور جماعت کے قائد کے درپیش ہیں۔ پنجاب میں کم وبیش 35سال سے کسی نہ کسی شکل میں نمایاں رہنی والی سیاسی قوت کو سمجھ لینا چاہے کہ ملک میں بہت کچھ بدل چکا۔ پرنٹ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا جس تیزی سے اپنے اثرات مرتب کررہا اس کے پیش نظر حقائق سے تادیر نظریں چرایا جانا ممکن نہیں رہا۔
کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، یہ حقیقت یوں ثابت ہوتی ہے کہ اقتدار کے کھیل میں دوستی دشمنی میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگاتی، مثلا مثیاق جمہوریت کی شکل میں اگر ماضی میں پی پی پی اور ن لیگ ایک دوسرے کے قریب آئی تھیں تو اب بہت دوریاں پیدا ہوچکیں۔ اس صورت حال کو منیر نیازی کی زبان میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ۔۔۔
جب بھی تارا گرے گا اس پر
اس کا دل تو کانپے گا
نئی نئی خواہش کا چیتا
بڑے زور سے ہانپے گا “
یہ کہنا قطعی طور پر غلط نہیں کہ پاکستان جن مسائل کا شکار ہے وہ اندرون خانہ کسی قسم کی محاذآرائی کی اجاذت نہیں دیتے ۔بہت بہتر ہوگا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سیاسی قوتیں تلخیوں کو بھلا کر ملک وملت کی تعمیر وترقی کے لیے متفق ومتحد ہوجائیں۔ انتخاب کوئی بھی ہو اس میںایک فریق ہارتا تو دوسرا جیتا ہے، جس چیز کو دوام حاصل ہے کہ وہ پارٹیوں کی عوام کی حمایت حاصل کرنے کی جدوجہد ہے۔
(ڈیک)سینٹ انتخاب کے بعد اب عام انتخاب پر نظریں مرکوز ہوچکیں۔ اپوزیشن جماعتیں جس طرح سینٹ انتخاب میںواضح کامیابی حاصل کرچکیں اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جارہا کہ مسقبل قریب میں کسی سیاسی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جانب معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ کچھ بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ اب پانچ دریاوں کی سرزمین سیاسی اکھاڈے میں تبدیل ہونے جارہی (ڈیک)۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے یہ الیکشن دوہزار اٹھارہ سیاسی بقا کی جنگ بن چکی۔ حکمران جماعت کے لیے یہ سوچنا بھی محال ہے کہ تخت لاہور سے وہ محروم ہوجائے۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ احستاب عدالتوں میںجس طرح شریف خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت جاری ہے جرم ثابت ہونے پر بھاری جرمانے اور شریف خاندان کے اہم افراد جیل کی سلاخوں کے پچھے بھی جاسکتے ہیں۔ شریف فیملی کے لیے تشویش کا پہلو یہ ہے کہ اس کے سب ہی نمایاں افراد پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔ پنجاب کے اہم سرکاری آفیسر احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد انگلیاں وزیر اعلی پنجاب کی جانب اٹھ رہی ہیں۔آنے والے دنوں میں جاری مقدمات کیا شکل اختیار کرتے ہیں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے البتہ سچ یہ ہے کہ اس بار شریف خاندان کا بچنا مشکل ہے۔
پنجاب میں طویل عرصہ برسر اقتدار رہنے کے باوجود پانچ دریاوں کی سرزمین کے باسیوں کے مسائل حل نہیں ہوسکے، حد تو یہ ہے کہ آبادی کو اب تک پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، حتی کہ لاہور کے شہر کے سرکاری ہسپتالوں میں شہریوں کو طبی سہولیات مثالی نہیں۔ جنوبی پنجاب کے مسائل تو کئی دہائیوں سے حل طلب ہیں مگر حکمران جماعت اپنی کوتاہیوں کو سازش کو طے شدہ حکمت عملی کے تحت سازش کا نام دے رہی۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ حکمران جماعت سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اپنی ہر ناکامی کو بعض قوتوں سے منسوب کررہی ہے، شائد مسلم لیگ ن یہ سمجھ رہی کہ گزرتے دن کے ساتھ عوام میں اپنی مظلومیت ثابت کرکے مخصوص پیغام دینے میں کامیاب رہیں گے۔
ا

Scroll To Top