کیا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جاسکتا ہے ؟ ،10-01-2013

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے خفیہ ایجنسیوں کو اپنے سامنے جوابدہ قرار دیا ہے۔ اگر جوابدہی کا یہ عمل انٹیلی جنس بیورو یعنی آئی بی تک محدود رہے تو میرے خیال میں متذکرہ کمیٹی کی اِس خواہش کو پورا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر یہ کمیٹی چاہتی ہے کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کو بھی اس کے سامنے جوابدہ بنا دیا جائے تو اس کے لئے خود اس کمیٹی کو بڑی چھان بین اورسکروٹنی سے گزرنا ہوگا۔ اس کمیٹی کے ارکان کی واحد اہلیت یہ ہے کہ وہ انتخابی عمل کے ذریعے پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں۔ ہمارے نظام میں کوئی ایسا طریقہ ءکار بھی موجود نہیں جو ا س بات کی ضمانت دے سکے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدوار درحقیقت مملکت ِ خدادادِ پاکستان کے ہی وفادار ہیں ` یا اُن کی شخصی دیانت اور لیاقت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ جس پارلیمنٹ کی یہ کمیٹی ہے اس کا ریکارڈ کچھ زیادہ قابلِ فخر نہیں۔ اسی پارلیمنٹ کے ارکان کی ایک بہت بڑی تعداد نے رکنیت کے معیار پر پورا اترنے کے لئے جعلی ڈگریاں پیش کرنے کا فراڈ کیا۔ اور اسی پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لئے دوہری شہریت رکھنے والوں نے اپنی دوسری شہریت کو چھپانے کی بددیانتی کی۔
آئی ایس آئی اور ایم آئی بڑے حساس ادارے ہیں۔ انہیں صرف ایسے لوگوںیا اداروں کے سامنے جوابدہ ہونا اور رہنا چاہئے جن کی credibilityیا جن کا قابلِ اعتبار ہونا ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو۔
پاکستان کی جمہوریت ابھی اس معیار پر پوری نہیں اترتی کہ اس پر ان اصولوں یا روایات کا اطلاق کیا جائے جن پر امریکہ وغیرہ میں عمل ہوتا ہے۔
میں ذاتی طور پر متذکرہ کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ میرے ساتھ ان کی دوستی بھی رہی ہے۔ مگر کیا وہ اپنے باقی رفقاءکی کریڈیبلیٹی کی قسم کھا سکتے ہیں؟

Scroll To Top