48برس قبل ایک جوتا میں نے بھی پھینکا تھا !

11مارچ2018ءکے واقعات نے میرا ذہن غیر ارادی طور پر 1969ءکی اس شام کی طرف دوڑا دیا ہے جو میں نہ تو اب تک بھول سکا ہوں اور نہ ہی بھول پاﺅں گا۔۔۔
خواجہ آصف پر سیاہی 10مارچ2018ءکو پھینکی گئی جو ایک افسوسناک فعل تھا۔۔۔ خواجہ آصف کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ 12مارچ کو جامعہ نعیمیہ میں سابق نااہل وزیراعظم میاں نوازشریف پر جوتا پھینکا گیا جس پر ملک کے تمام طبقوں نے مذّمتی بیانات جاری ہوئے۔۔۔ میں نے اس پر یہ ٹویٹ کیا ۔۔۔ ” نہایت قابلِ مذّمت مگر میاں صاحب آپ بھی خدارا عدلیہ پر جوتے پھینکنا بند کردیں۔۔۔“
اگرچہ اس ٹویٹ کی وسیع پیمانے پر پذیرائی ہوئی لیکن اس واقعے کا تعلق عدلیہ پر میاں صاحب کے تابڑ توڑ حملوں سے نہیں اس غم و غصہ سے تھا جو ” ختم ِنبوت ﷺ“ کے قانون کو بدلنے کی کوشش کے خلاف میاں صاحب کی حکومت کے بارے میں پایا جاتا ہے۔۔۔
اِس واقعے کے بعد جو خبریں سامنے آئیں ان کے مطابق جامعہ نعیمیہ کے طلباءاور اساتذہ نے انتظامیہ کو خبردار کیا تھا کہ میاں صاحب کو جامعہ میں مدعو نہ کیا جائے کیوں کہ ” ختمِ نبوت ﷺ“ کے حوالے سے اُن کا رویہ شدید ردعمل کا باعث بنا رہا ہے لیکن جامعہ نعیمیہ کی انتظامیہ میاں صاحب کے ” بارِ احسانات “ تلے دبے ہونے کے باعث انہیں ایک اور ” موقع خطاب “ دینے پر مجبور تھی ۔۔۔
میرا ذہن 1969ءکی طرف کیوں گیا ؟
اس بارے میں زیادہ تفصیلات میں نہیں جاﺅں گا۔۔۔ مگر مختصراً بتاتا ہوں کہ تب میں ویکلی ” مصور“ کا چیف ایڈیٹر تھا جو انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں اپنے عہد کا نہایت مقبول اورمتنازعہ جریدہ تھا۔۔۔ میں سیاست سے انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں کیسے گیا یہ ایک الگ کہانی ہے۔۔ جس شام کی میں بات کررہا ہوں اُس شام مشہور شاعر استاد دامن نے اپنے حجرے میں ایک چھوٹی سی محفل کا اہتمام کررکھا تھا۔۔۔ مجھے روزنامہ مشرق کے سنیئر رپورٹر وحید فاطمی دفتر سے زبردستی اٹھا کر لے گئے۔۔۔
وہاں ہم دونوں کے علاوہ مشہور اداکار علاﺅ الدین اور آغا طالش موجود تھے۔۔۔ دوسرے تین شرکاءکو میں نہیں جانتا تھا۔۔۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ محفل ” جام و طعام“ کی ہے۔۔۔ لیکن وہاں پہنچتے ہی میری چھٹی حِس پھڑک اٹھی۔۔۔
علاﺅ الدین مرحوم سے میری اچھی خاصی جان پہچان تھی۔۔۔ گفتگو کا آغاز اس جنگ سے ہوا جو فلم انڈسٹری اور ویکلی ” مصور “ کے درمیان جاری تھی۔۔۔ اس جنگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تمام سٹوڈیوز نے گیٹ پر یہ بینرلگادیئے تھے کہ ” مصور کے کارکنان کا داخلہ بند ہے۔۔۔“
اس جنگ کی وجہ فلم انڈسٹری میں چربہ سازی اور پنجاب کے کلچر کی بدصورت عکاسی کے خلاف میری مہم تھی۔۔۔
مجھے یاد نہیں کہ علاﺅ الدین سے میری گفتگو متذکرہ جنگ سے مڑ کر مذہب کی طرف کیسے گئی۔۔ ۔ مگر یہ یاد ہے کہ موصوف نے غالباً نشہ کی حالت میں آنحضرت ﷺ کا ذکر نہایت گستاخانہ انداز میں کیا۔۔۔ میں نے پہلے انہیں نرمی سے کہا کہ وہ گفتگو میں احتیاط سے کام لیں۔۔۔ لیکن جب انہوں نے کہا کہ ” دین کے ٹھیکیدار پتہ نہیں سچ کیوں نہیں سن سکتے “ تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا۔۔۔
” براہ مہربانی اپنی زبان بند رکھیں ورنہ میں اٹھ کر چلا جاﺅں گا۔۔۔“
اس بات پر علاﺅ الدین نے تضحیک آمیز انداز یں قہقہہ لگایا۔۔۔ آغا طالش اور استاد دامن دونوں نے میرا موڈ دیکھ کر علاﺅ الدین کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن موصوف باز نہ آئے اور انہوں نے نشے کی حالت میں کچھ ایسے الفاظ ادا کردیئے کہ میں اشتعال میں آگیا اور میرے ہاتھ میں جو کچھ آیا اسے علاﺅ الدین کی طرف اچھال دیا۔۔۔اتفاق سے یہ ایک جوتا ہی تھا۔۔۔
” اگر ایک لفظ بھی آگے بڑھے تو خدا کی قسم میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔“ یہ میرے ہی الفاظ تھے۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں سے چل دیا۔۔۔ وحید فاطمی اور استاد دامن دونوں نے مجھے روکنے کی کوشش کی لیکن میرے جذبات میرے قابو میں نہیں تھے۔۔۔
میرا یہ ردعمل ایک ایسے شخص کا ردعمل تھا جو انگلش لٹریچر میں ڈگری لے کر آیا تھا ` جس نے ڈکنس اور ہارڈی سے لے کر زولا ` بالزاک ` ٹالسٹائی اور تورگنیف کے درجنوں ناول پڑھ رکھے تھے ` اور جس پر مذہبی انتہا پسندی کا الزام لگ ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔
لیکن بات جب ” آنحضرت ﷺ کی ذات پر آتی ہے تو کسی بھی صاحب ِ ایمان کے لئے عقل و شعور کے دائرے میں رہنا آسان نہیں رہتا۔۔۔
” عشقِ رسول ﷺ “ کا ایک ملزم یا مجرم میں بھی ہوں۔۔۔
جہاں تک علاﺅ الدین کا تعلق ہے ` وہ بعد میں میرے دفتر آئے اور گڑگڑا کر مجھ سے معافی مانگی۔۔۔
” میں نشے میں تھا ۔۔۔ اس کے علاوہ میں سمجھا تھا کہ آپ جدید دور کے آدمی ہیں برا نہیں منائیں گے ۔۔۔“
” علاﺅ الدین صاحب ۔۔۔ مسلمان صرف اس لئے مسلمان کہلاتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے کلام پر اندھا ایمان رکھتا ہے۔۔۔ اس ایمان کی بنیاد صرف ایک ذات کی گواہی ہے۔۔۔ اور وہ ذات مبارک ہے اُس بطلِ جلیل کی جس کے بعد دنیا میں کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔۔۔ اگر ہم میں اس ذات ِ عظیم کی حرمت پر جان دینے کا جذبہ نہ ہو تو ہماری مسلمانی محض ایک جھوٹا دعویٰ ہے ۔۔۔“

Scroll To Top