نواز شریف پر جامعہ نعیمیہ میں جوتا پھینک دیا گیا

  • نواز شریف شرکاءسے خطاب کیلئے جونہی اسٹیج پر پہنچے تو جامعہ کے 4سال قبل فارغ التحصیل محمد منور نے ان پر جوتا اچھال دیا اور اسٹیج پر چڑھ کر لبیک یارسول اللہ کا نعرہ بلند کیا
  • جوتا نواز شریف کے سینے اور کان پر لگا ،جس پر سابق وزیر اعظم ہکا بکا رہ گئے بعد ازاں تقریب سے مختصر خطاب کرکے روانہ ہو گئے،”ختم نبوت قانون میں ترمیم کی وجہ سے نواز شریف پر جوتا پھینکا “،ملزم محمد منورکا موقف

نواز شریف پر جامعہ نعیمیہ میں جوتا پھینک دیا گیا

لاہور(آن لائن) سابق وزیر اعظم نواز شریف پر جامعہ نعیمیہ میں اسٹیج پر محمد منور نامی شخص نے جوتا پھینک دیا جو کہ نواز شریف کے سینے اور کان پر لگا شرکاء نے سابق وزیراعظم پر جوتاپھینکنے والے شخص کی دھلائی کرکے اسے بہوش کردیا پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف  ،عوامی نیشنل پارٹی اور عوام مسلم لیگ کے رہنما¶ں کی واقع کی مذمت ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز سابق وزیرا عظم نواز شریف لاہور میں مفتی نعیمی کی برسی کے موقع پر جامعہ نعیمیہ میں سمینار میں شرکت کیلئے پہنچے تھے جونہی نواز شریف اسٹیج پر خطاب کیلئے پہنچے تو وہاں پر جامعہ نعیمیہ سے 4سال قبل فارغ ہونے والا محمد منور نے نواز شریف پر جوتا اچھال دیا اور اسٹیج پر چڑھ کر لبیک یارسول اللہ کا نعرہ لگایا جوتا نواز شریف سینے اور کان پر لگا واقع کے وفوری بعد وہاں پر موجود شرکاء نے محمد منور کو اسٹیج سے نیچے دھکیلا اس موقع پر محمد منور کے مزید 2ساتھی ساجد اور عبدالغفور بھی مزاحمت کرتے ہوئے آگے آئے جنہیں نواز شریف کے گارڈز اور انکے کارکنوں نے پکڑلیا اور انکی خوب درگت بنائی جس سے محمد منور موقع پر بے ہوش ہوگئے بعدازاں جامعہ نعیمیہ کے عہدیداروں نے تینوں مشکوک افراد کو لائبریری میں بند کردیا اور قانون نافظ کرنے والے اداروں کے حوالے کردیا اس موقع پر نواز شریف نے مختصر خطاب میں کہا کہ جامعہ نعیمیہ ملک میں اچھا کردار ادا کررہا ہے آج بھی وہ دن یاد ہے جب جامعہ نعیمیہ کی پہلی اینٹ رکھی گئی ہم سب کو ملک کی بہتری کیلئے ملکر کام کرنا ہوگا کہ قوم ترقی کرسکے تقریب کے اختتام پر قانون نافز کرنے والے اداروں نے جوتا پھینکنے والے محمد منور اور ان کے 2ساتھی عبدلغفور اور ساجد کو تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جہاں پر تفتیش سے پتہ چلا کے مرکزی ملزم محمد منور کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے جبکہ دیگر 2ساتھی عبدالغفور بھی آزاد کشمیر کا رہائشی نکلا اور ساجد دیپال پور کا رہائشی ہے دوران تفتیش ملزم محمد منور نے بتایا کہ اس نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کی وجہ سے نواز شریف پر جوتا پھینکا ہے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف پر جوتا پھینکنے اور خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے جیسے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاہی پھینکا یا جوتا پھینکنا کوئی اچھا طریقہ نہیں ہے اور اسے واقعات کا تدارک ہونا چاہیے عام لوگوں کو کہتا ہوں کہ وہ بھی ایسے واقعات سے پرہیز کریں خوشی ہے کہ ایسے واقعات میں کوئی پی ٹی آئی کا کارکن ملوث نہیں ہے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی ار ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اختلافات اپنی جگہ لیکن احترام کا ایک علیحدہ رشتہ ہوتا ہے خواجہ آصف اور نواز شریف کے ساتھ ہونے والے واقعات سے دل سے افسردہ ہیں یہ سیاست نہیں بلکہ ذاتیات ہے جو کہ ملک اور جمہوریت دونوں کیلئے بہتر نہیں ہے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی نواز شریف پر جوتے پھینکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدم برداشت کے کلچر کو فروغ نہیں دینا چاہیے ایسے واقعات سیاسی رہنما¶ں کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور پیپلزپارٹی تو آغاز سے ہی ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کرتی رہی پی پی پی کوہ چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ایسے واقعات جمہوری رویوں کے خلاف سازش ہیں کیونکہ سیاست میں برداشت اور رواداری کو مقدم رکھا جانا چاہیے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ لوگوں کو اپنے تحفظات اس طرح بیان نہیں کرنے چاہیے سیاست تو برداشت کا نام ہے آخر ایسے شاخسانے کیوں ہورہے ہیں اور ایسے واقعات کے پھیچے کوں ملوث ہے تحقیقات ہونی چاہیے اور لیڈروں کو بھی محتاط ہوکر اداروں پر تنقید کرنی چاہیے کیونکہ ایسے واقعات کا جواب پھر قوم اپنے رد عمل میں دیتی ہے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی نے بھی واقع کی خدمت کرتے ہوئے یہ نازیبا سلسلہ جاری رہا تو کوئی قیادت بھی ایسے واقعات سے محفوظ نہیں رہے گی یہ رویے معاشرے میں پھیلتی ہوئے عدم برداشت کا نتیجہ ہیں سب کو ان ناشاہستہ حرکات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اے این پی رہنما زاہد خان نے کہا کہ میڈیا کو ایسے واقعات کو کوریج نہیں دینی چاہیے تاکہ مزید ایسے واقعات بڑھنے سے روکا جاسکے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ اب نواز شریف کو جانچ لینا چاہیے کہ صورتحال بگڑتی جارہی ہے جو کہ اچھی چیز نہیں ہے بارحال نواز شریف پر جوتا پھینکنے اور خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں۔دوسری جانب ٹوئٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت سے مخالف عناصر کا حملہ ہے خدار اسے لوگوں کو درخواست کرتا ہوں کہ ملک کو چلنے دو اور دشمن کا کان آسان نہ کرو اور یہ نواز شریف سمیت خواجہ آصف اور احسن اقبال پر حملے ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ نواز شریف پر نہیں بلکہ ملکی سالمیت پر حملہ ہے ایسے واقعات کی سپورٹ نہیں بلکہ حوصلہ شکنی کرنی چاہیے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ یہ انفرادی معاملہ نہیں بلکہ اسکے پھیچے سیاسی مخالفین ملوث ہوسکتے ہیں تفتیش کے بعد تمام حقائق قوم کے سامنے لاہیں گے

Scroll To Top