”آغاز کو کون پوچھتا ہے “

چیرمین سینٹ کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا غیر مہبم الفاظ میں بلوچ سینٹر کی حمایت کرنا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے کا احساس محرومی دور کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ عمران خان نے سینیٹ کے چیئرمین کیلئے وزیر اعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے نامزد امیدوار کی مکمل حمایت کا اعلان کرچکے جبکہ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے عمران خان کو چیئرمین سینیٹ کیلئے سینیٹر انوارالحق کاکڑ اور سینیٹر صادق سنجرانی کے نام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ہمارے امیدوار ہیں اور جلد ہی کسی ایک کے نام پر اتفاق کر لیا جائیگا ۔“
سینٹ انتخابات میں تادم تحریر اپوزیشن کا متفقہ امیدوار سامنے نہیں آسکا۔ ادھر سیاست کے اتار چڑھاو سے شناسا حلقے امید ظاہر کررہے یہ ناممکنات میں سے نہیں کہ حزب اختلاف کی جماعتیں کسی ایک امیدوار پر متفق ہوجائیں۔ دوسری جانب عمران خان نے کہا کہ ہماری پہلے دن سے ہی کوشش تھی کہ چیئرمین سینٹ مسلم لیگ ن کا نہ بنے، ان کے بعقول اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمران جماعت ایسا قانون ہی نہ بنادے کہ شریف فیملی کو کرپشن کرنے کی ہی اجازت دے دی جائے، ان کے بعقول اس وقت ہماری تمام سیاسی جماعتیں صوبائی پارٹیاں بنی ہوئی ہیں جبکہ ن لیگ کی ساری توجہ کرپٹ خاندان کو بچانے پر لگی ہوئی ہے، عمران خان کے بعقول کوشش ہے کہ چیئر مین سینیٹ بلوچستان سے منتخب کیا جائے ،اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے سینیٹر وںکی مکمل حمایت کرے گی، بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جاتا ہے تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہو گی کیونکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے آیا ہوگا ۔ “
وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان سے سینیٹر منتخب کروانے کیلئے سب سے پہلی آواز بلند کرنے پر عمران خان اور تحریک انصاف کے شکر گزار ہیں،اہم یہ کہ پی پی پی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی گزشتہ روز سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی جماعت بلوچستان کیلئے قربانی دینے پر راضی ہے،۔
حالیہ دنوں میں سینٹ کا انتخاب جو اہمیت کرگیا ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی بظاہر اس کی وجہ یہ کہ میاں نوازشریف علانیہ طورپر کہ چکے کہ وہ عام انتخابات کے بعد ملک میں ایسی تبدیلیاںلائیںگے جس کے نتیجے میں ملک میںمخصوص اصلاحات لائی جائیں گی۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سابق وزیر اعظم اقتدار میں آکر بعض ایسے آئینی اقدمات اٹھا سکتے ہیں جن کے نتیجے میں ملک وملت کی مشکلات بڑھ جائیں ۔
اس میں شبہ نہیں کہ بدلے ہوئے پاکستان میں سینٹ کا ادارہ بھی اہمیت اختیار کرچکا۔ آنے والے دنوں میں ایوان بالا ایسا کردار ادا کرسکتا ہے جو مثبت بھی ہو اور منفی بھی۔ سینٹ کے حالیہ انتخاب کے نتیجے میں جس انداز میں پیسے کا بے دریغ استمال ہوا اس سے یقینا اس ادارے کا وقار مجروع ہوا۔ حیرت انگیز طور پر سب سینٹ الیکشن میں کروڈوں روپے لینے اور دینے کی ہر سیاسی جماعت نے مذمت تو کی مگر ایسی قانون سازی کا مطالبہ نہ کیا جو مسقبل میں اس بدترین رجحان کو روک سکے۔یہ روش نواب مرزا خان داغ کے الفاظ میں یوں ہوگی کہ ۔۔۔
آغاز کو کون پوچھتا ہے
انجام اچھا ہو آدمی کا “
اہل سیاست اس پہلو پر توجہ مرکوز کرنا چاہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ملکی سیاست اشرافیہ کے لیے مختص ہوکر رہ گی، اب اس کھیل میں وہی قسمت آزمائی کرتا ہے جو کروڈوں نہیں اربوں رکھتا ہے۔ سیاست کے کاروبار بن جانے کا یہ سبب ہے ک اب یہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی۔
سنیٹ انتخاب میں جو کچھ ہوا وہ ہر لحاظ سے لمحہ فکریہ ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اس غیر آئینی،
غیر اخلاقی رجحان کے سدباب کے لیے کوئی بھی آگے نہیں آرہا۔ اب اطلاعات یہ بھی ہیںکہ آج چیرمین سینٹ اور ڈپٹی چیرمین سینٹ کے انتخاب کے لیے بھی ایسے ہی پیسے کے بے دریغ استمال کا خدشہ ہے۔ افسوس کہ الیکشن کمیشن اس ساری صورت حال سے لاتعلق ہے۔ الیکش کمیشن کے قابل احترام اراکین کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کل تاریخ میں ان کی کارکردگی کو کیسے یاد رکھا جائیگا ۔
جمہوری نظام کی کامیابی کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس میں ارب اور کھرب پتی حضرات کا راستہ روکا جائے۔ ایسے اقدمات اٹھائے جائیں کہ زیادہ سے زیادہ وہ لوگ آموجود ہوں جو عام آدمی کی حقیقی معنوں میںخدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔ٹھیک کہا جاتا ہے کہ بہتری کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ یہ بتدریج ظاہر ہوا کرتی ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات بتائیں گے کہ ہم کہاںکھڑے ہیں۔ اس سوال کو جواب بھی مل جائیگا کہ وفاق اور صوبوں میں روایتی سیاسی قوتیں ہی آموجود ہونگی یا ایسے لوگ سامنے آئیں گے جو پہلے سے نہیں آزمائے گے۔
(ڈیک)تیسری دنیا کا جمہوری نظام خرابیوں سے پر ہے۔ اکثر وبیشتر یہاں ایسے ہی موجود ہیں جو عالمی طاقتوں کا ایجنڈا آگے بڑھا کر اپنے ملک وقوم سے بے وفائی کے مرتکب ہورہے ۔ گزرے ماہ سال میں پاکستان میں بھی ایسا ہوتا رہا مگر اب آسان نہیں رہا۔ مملکت خداداد پاکستان میں حقیقی جمہوری نظام کے نفاذ کا مطالبہ ہر گزرتے دن کے ساتھ فروغ پذیر ہے۔ سینٹ الیکشن ہو یا چیرمین سینٹ وڈپٹی چیرمین کا انتخاب یہ مراحل ملک کو بتدریج جمہوری نظام کی پٹڑی پر آگے بڑھنے میں مدد فراہم کررہے۔ (ڈیک)

Scroll To Top