ایک گردن کے بعد دوسری اور پھر تیسری گردن کی باری بھی آئے گی!

aaj-ki-baat-new

عام آدمی کی ترکیب بھارت میں عام آدمی پارٹی کی کامیابیوں کے بعد خاصی مقبولیت اختیار کرچکی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے ہنوز اپنی مجوزہ پارٹی کو ” بے نام “ اس لئے رکھا ہوا ہے کہ وہ یا تو ” عام آدمی “ کا نام اپنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں یا پھر اِس Concept یعنی سوچ کو کسی نہ کسی شکل میں اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے جس ” صفائی مہم “ کو شروع کیا ہے وہ بھی ” عام آدمی “ سے منسلک سوچ کی آئینہ دار ہے۔
عام آدمی ہے کون ؟
وہ بدقسمت شخص جو طبقہ ءامراءکے نمائندہ خاندانوں کی حکومت قائم کرنے اور قائم رکھنے کے عمل میں اپنے ووٹ کی طاقت استعمال کرتا ہے اور جس کے ادا کردہ ٹیکسوں پر حکمران شب و روز کیکپا دینے والی شاہ خرچیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس بدقسمت شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ اپنے بچوں کو کسی اچھے سکول میں داخل کراسکے یا اپنے گھر میں سر اٹھانے والی کسی بھی بیماری کا علاج کسی قابلِ بھروسہ ہسپتال میں کرالے۔۔۔ یا ہر رات اس یقین کے ساتھ سو سکے کہ آنے والے دن کا سورج اس کے لئے کسی نئی آفت کا پیغام نہیں لائے گا۔
یہ عام آدمی ضروری نہیں کہ غربت و افلاس اور بیماری کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہو۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ جہاں بھی موجود ہوگا اپنی بے بسی اور مجبوری پر آنسو بہا رہا ہوگا۔اگر میں یہ کہوں تو بے جا یا غلط نہیں ہوگا کہ اس عام آدمی کو اس دن کا شدت سے انتظار ہے جب اس ملک کا کوئی بڑا مجرم نیب یا ایف آئی اے یا رینجرز کی کسی کا وش کے نتیجے میں تختہ ئ دار پر چڑھے گا۔
اپنے ملک کے نظامِ عدل پر سے اس عام آدمی کا اعتماد کا مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔ اس اعتماد کو بحال کرائے بغیر اس ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی۔ اور اس اعتماد کی بحالی صرف ایک صورت میں ممکن ہے کہ کوئی ” مردِمیدان“ نعرہ تکبیر بلند کرکے اٹھے اور کسی ایک مجرم کی موٹی گردن کواپنی گرفت میں لے کر اسے گھسیٹتا ہوا تختہ دار تک لے جائے۔ ظاہر ہے کہ ایک گردن کے بعد دوسری اور پھر تیسری گردن کی بھی باری آئے گی۔ اور یوں مکافات عمل کا سلسلہ چل پڑے گا !

Scroll To Top