بات ان دہشت گردوں کی جو حکمران گھرانوں میں پروان چڑھتے ہیں 09-01-2013

kal-ki-baat

شاہ زیب قتل کیس اب پوری قوم کے اجتماعی ضمیر کے لئے ایک چیلنج کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ وہ دو ابلیس زادے جن کی گولیوں نے ایک ہنستے بستے خاندان کا سکھ چین ہمیشہ کے لئے اجاڑ دیا ، جب شیطانی رعونت کی تسکین کے لئے شاہ زیب کو نشانہ بنا رہے تھے تو اُن کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ ان کے لئے ” یہ تفریحی کھیل “ کس قدر مہنگا ثابت ہوگا۔ یقینی طورپر اس نوعیت کا یہ اِن وڈیرہ زادوں کا پہلا کارنامہ نہیں ہوگا۔ اِس سے پہلے بھی وہ اِس قسم کی ” تفریحی سرگرمیوں “ کے عادی ہوں گے۔ مگراِس مرتبہ قہرِالٰہی کو جوش آگیا۔ ہماری ” فرض شناس “ پولیس نے تو ”اوپر “ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس ہولناک واردات پر بڑی صفائی سے پردہ ڈال دیا تھا لیکن سوشل میڈیا میں یہ معاملہ کچھ اِس انداز میں اٹھا کہ اِس کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دینے لگی۔ پہلے یوتھ نے اسے اپنے ضمیر کا مسئلہ بنایا اور پھر سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لے لیا۔
ایک فعال میڈیا کی موجودگی میں ایک بے ضمیر انتظامیہ کے لئے حقائق پر پردہ ڈالنا مشکل ہوگیا۔
قرآن حکیم میں صاف کہا گیا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ جن ابلیس زادوں نے شاہ زیب کی زندگی کا چراغ گل کیا وہ صرف شاہ زیب کے خاندان کے ہی نہیں پورے خاندانِ آدمؑ کے مجرم ہیں۔ اگرہمارے عزت مآب چیف جسٹس ان ابلیس زادوں کو نشانِ عبرت بنانے میںکامیاب ہوگئے تو ہم سمجھیں گے کہ انصاف زندہ ہے۔
لیکن بات یہاں ختم نہیں ہونی چاہئے ۔ وہ ابلیسی نظام جو ایسے ابلیس زادوں کو پیدا کرتا ہے ، اسے بھی منوں مٹی تلے دفن کرنا ہوگا۔
کچھ عرصہ قبل چند دہشت گردوں نے ملالہ نام کی ایک معصوم بچی پر گولیاں چلائی تھیں تو پوری دنیا میں شور اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ دہشت گرد صرف پہاڑوں میں نہیں بستے ، ان وڈیروں کے گھروں میں بھی پرورش پاتے ہیں جنہیں یہ ابلیسی نظام بڑی شان سے عوامی نمائندے بنا کر اسمبلیوں میں بھیجتا ہے۔ قوم کا پہلا نشانہ یہی دہشت گرد ہونے چاہئیں۔

Scroll To Top