کوئی کچھ کہے پرواہ نہیں، عوام کی بھلائی کیلئے کام کرتے رہیں گے: چیف جسٹس پاکستان

  • میڈیکل کالجز کے اکاﺅنٹس کا چارٹرڈ فرمز سے آڈٹ کرانے کاحکم، فیسیں اتنی نہ بڑھائی جائیں کہ لوگوں کی جیبیں ہی کاٹ لی جائیں،پی ایم ڈی سی کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے
  • ایسے ڈاکٹرز آرہے ہیں جنہیں بلڈ پریشر چیک کرنا نہیں آتا،چیف جسٹس ثاقب نثار، سروسز ہسپتال اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ ، ایمرجنسی و دیگر سہولیات کا جائزہ لیا

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار

لاہور ( این این آئی) سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کے اکاﺅنٹس کو چارٹرڈ فرم سے آڈٹ کرانے کاحکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ فیسیں اتنی نہ بڑھا دی جائیں کہ لوگوں کی جیبیں ہی کاٹ لی جائیں، ۔ بتایا جائے کہ میڈیکل کالجز میں کیا سہولتیں دی جاتی ہیں؟، لوگ کہتے ہیں بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے لیکن جو مرضی تنقید کرے کسی کی پروا نہیں ، بابا وہ ہے جو لوگوں کیلئے سہولتیں پید اکرتا ہے۔گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری میں میڈیکل کالجز کی فیسوں میں اضافے اور سہولیات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بہت سارے ایشوز کو اکٹھا ٹیک اپ کیا، اب ہم ہر معاملے کو علیحدہ علیحدہ دیکھیں گے، پی ایم ڈی سی کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے، ایجوکیشن کاروبار ہو سکتا ہے لیکن میڈیکل کی تعلیم ایسی نہیں کہ اس پر فیسیں لگائی جائیں،فیسیں اتنی نہ بڑھا دی جائیں کہ لوگوں کی جیبیں ہی کاٹ لی جائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ میڈیکل کالجز میں کیا سہولتیں دی جاتی ہیں، دیکھنا چاہتے ہیں کہ میڈیکل کالجز میں کیا سہولتیں ہیں۔مجھے ڈاکٹر ندیم ظفر نے بتایا کہ ایسے ڈاکٹرز آرہے ہیں جنہیں بلڈ پریشر چیک کرنا نہیں آتا، جو5 بچے مر گئے ان کا ذمہ دار کون ہے، اب ان پر انکوائری ہوگی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگ کہتے ہیں کہ بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے، لوگ جو مرضی تنقید کریں مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے، بابے کا تصور کہاں سے لیا آج بتاتا ہوں، بابے کا تصور اشفاق احمد سے لیا اور بابا وہ ہے جو لوگوں کے لئے سہولتیں پیدا کرتا ہے۔ عدالت نے میڈیکل کالجز کے اکاﺅنٹس کو چارٹرڈ فرم سے آڈٹ کرانے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ چارٹرڈ اکاونٹٹنٹ کے تمام اخرجات کالجز برداشت کریں گے۔بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے سروسز ہسپتال لاہور اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ کیا۔جسٹس ثاقب نثار نے سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی اور دیگر شعبوں کا بھی جائزہ لیا۔ا س موقع پر سیکرٹری صحت اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس کے دورے کے دوران ایک خاتون نے انہیں آگھیرا اور علاج کے لیے پیسے نہ ہونے کا بتایا جس پر جسٹس ثاقب نثار ہسپتال انتظامیہ کو خاتون کے علاج کے لیے اخراجات پورے کرنے کی ہدایت دی۔

Scroll To Top