اسلام آباد ہائیکورٹ، پارلیمٹ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کو یقینی بنائے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی

  • جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کیس کا محفوظ شدہ مختصر ،فیصلہ اوپن کورٹ میں سنایا ، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا
  • نادرا اور دیگر متعلقہ ادارے شناختی کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹس، انتخابی فہرستوں اور پاسپورٹ بنوانے والوں سے بیان حلفی لیں، مذہب کی درستگی کیلئے مدت کا تعین کریں

جسٹس شوکت عزیز صدیقی

اسلام آباد (آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے ختم نبوت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پارلیمنٹ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کو یقینی بنائے،یہ ہمارے دین کی اساس ہے۔جمعہ کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کیس کا محفوظ شدہ مختصر فیصلہ اوپن کورٹ میں سنایا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ عدالتی فیصلہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں جاری کیا گیا ہے ۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دین اسلام اور آئین پاکستان کے تحت غیرمسلم اقلیتوں کو حقوق حاصل ہیں اور ریاست پر لازم ہے کہ اقلیتوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ختم نبوت ہمارے دین کی اساس ہے اور اس کی حفاظت پرمسلمان پر فرض ہے۔ پارلیمنٹ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے۔عدالت نے ختم نبوت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے 1992 کے فیصلے کا بھی ذکر کیا جس میں حکومت وقت کو کہا گیا تھا کہ موجودہ قانون میں اضافہ اور ترمیم کرتے ہوئے واضع قانون سازی کرے حکومت اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ تمام شہریوں کے کوائف درست ہیں جبکہ نادرا ریکارڈ اور مردم شماری کے اعداد و شمار میں فرق کی تحقیقات کی جائے۔عدالتی حکم نامے کے مطابق ،مردم شماری اور نادرا کوائف میں شناخت چھپانے والوں کی تعداد خوفناک ہے۔ ہرپاکستانی شہری کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنی درست شناخت بتائے، اپنی شناخت چھپانے والا شہری ریاست کے ساتھ دھوکا دہی کا مرتکب ہوتا ہے ۔شناختی دستاویزات میں مسلم اور غیر مسلم کی مذہبی شناخت ضروری ہے۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین میں مسلم اورغیرمسلم کی تعریف موجود ہے اس تعریف پر مبنی بیان حلفی لازمی قرار دیا جائے ۔ اسکول کالجز میں استاد کا مسلم ہونا لازمی ہے ۔نادرا اور دیگر متعلقہ ادارے شناختی کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹس، انتخابی فہرستوں اور پاسپورٹ بنوانے والوں سے مذہبی بیان حلفی لیں اور نادرا شہریوں کیلئے مذہب کی درستگی کرانے کیلئے ایک مدت کا تعین کرے۔عدالت نے سرکاری، نیم سرکاری اور حساس اداروں میں ملازمت کیلئے بھی بیان حلفی لینے کا حکم جاری کیا۔عدالت نے نادرا،محکمہ شماریات کے ڈیٹا میں قادیانیوں کے حوالے سے معلومات میں واضح فرق پر تحقیقات کا حکم بھی دیاہے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پارلیمنٹ نے ختم نبوت سے متعلق اہم کام کیاراجا ظفر الحق کمیٹی رپورٹ مفصل اور جامع ہے اب یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ وہ رپورٹ پر عمل کرے یا اس سے اجتناب کرے ۔عدالت نے ختم نبوت کیس میں راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کو بھی کیس کا حصہ بنا یا ہے ۔جبکہ ختم نبوت سے متعلق سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی عدالت میں پیش کی گی تھیں۔

Scroll To Top