ہر ہلاکو کے لئے خدا بیبرس تیار کرتاہے 08-01-2013

kal-ki-baatمیں جانتاہوں کہ وطنِ عزیز میں عوام کی بہت بڑی اکثریت ایک ایسے معجزے کے انتظار میں ہے جو نہ صرف یہ کہ اُن کے مشکل سے مشکل تر ہوتے چلے جانے والے ” شب و روز “ میں انقلابی بہتری لائے گا بلکہ اُن کے جھنڈے کی تعظیم و تکریم میں بھی عالمی سطح پر اضافہ کرے گا۔
اور میں یہ بھی جانتاہوں کہ جس ” نظامِ خرابی “ کوجمہوریت کا نام دے کر وطنِ عزیز کی ناگزیر ضرورت قرار دیا جارہا ہے ` اس نظام میں ایسے کسی معجزے کے ظہور پذیر ہونے کی گنجائش نہیں جیسا معجزہ عوام اپنی چشم ِ تصور سے دیکھ رہے ہیں۔
اس کامطلب یہ نہیں کہ معجزہ نمودار نہیںہوگا۔ خداوند کریم نے جس مقصد کے لئے اِس مملکت کو دنیا کے نقشے پر جگہ دلائی تھی ` اُس مقصد کی تکمیل کو بھی میںمنشائے الٰہی کا ہی درجہ دیتا ہوں۔ بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے ہلاکو خان کے لشکرِ قہار کو اس کے انجام تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہی بیبرس نام کے ایک مملوک سردار کے سینے میں فتنہ ءتاتار کو فیصلہ کن انداز میں کچل ڈالنے کی امنگ کا الاﺅ روشن کیا تھا۔
جس نظام ِ خرابی نے مملکت ِ خداداد ِپاکستان کو طالع آزماﺅں ` اقتدار پرستوں `حریص سوداگروں اور رب العزت کی زمین پر خدا بن کر چلنے والے وڈیروں خوانین اور مخدوموں کی شکار گاہ بنا رکھاہے ` اس نظامِ خرابی کو منوں مٹی کے نیچے دفن کرڈالنے والی تڑپ یہاں طوفان بن کر ضرور ابھرے گی ` اور کسی نہ کسی بیبرس کاروپ دھارلے گی۔
جن قوتوں کی بقاءاس نظامِ خرابی سے منسلک ہے ` وہ یقینا بڑی طاقتور ہیں ` اور بڑی مضبوط اور دور رس منصوبہ بندیاں کررہی ہیں لیکن قرآن حکیم کا فرمان ہے کہ سب سے بہتر منصوبہ بنانے والا وہ رب ہے جس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہِل سکتا۔
2013ءکا سال شروع ہوچکا ہے۔
ہنوز ملک بے یقینی کی دھندمیں لپٹا ہوا ہے۔ لیکن اس ملک کے کسی نہ کسی کونے میں کوئی نہ کوئی ذی نفس اپنی تمام تر قوتیں ایک سوچ اور ایک عزم پر ضرور مرتکز کررہا ہوگا۔ وہ سوچ اور وہ عزم جس کے ہاتھوں اس نظامِ خرابی کی تباہی لکھی ہے۔

Scroll To Top