نا انصافی، چترال کیساتھ کب تک؟

new-logo
الیکشن کمیشن آف پاکستا ن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے پسماندہ ضلع چترال کوصوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ سے محروم کر دیاگیا ہے ۔صوبے میں رقبے کے لحاظ سے چترال سب سے بڑا ضلع ہے۔ لیکن مختلف ادوارمیں اس ضلع کو ایسے اقدامات کے ذریعے پسماندہ رکھنے کی کوشش کی گئی ضلع چترال کا شمار اگرچہ صوبے کے ایک پسماندہ علاقے میں ہوتا ہے لیکن سیاحتی مقامات اور منفرد ثقافت کے باعث ایک مقام رکھتا ہے۔ ساڑھے چار لاکھ آبادی پرمحیط ضلع میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی کی دو سیٹیں محتص تھیں۔اورپی ٹی آئی کی حکومت نے وسیع عریض علاقے میں انتظامی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپر چترال کو الگ ضلع کا درجہ دینے کی بھی منظوری دی ہے۔ البتہ الیکشن کمشن کی طرف سے حلقہ بندیوں کے نتیجے میںاس اعلان کو بھی التواءمیں رکھاگیا ہے۔ابتدائی حلقہ بندیوںمیں اگرچہ ردوبدل کر کے چترال کو این اے ون حلقہ قرار دے کر ضلع کو یہ اعزاز تودیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی آبادی کی بنیاد پر ایک سیٹ کم کر کے ضلع کے عوام سے نمائندگی کاحق چین لیا گیا جس کے نتیجے میں اب ضلع میں قومی اسمبلی اور صوبائی کی بھی ایک ایک نشست مختص ہوگی قیام پاکستان سے قبل چترال ایک ریاسست تھی اور مملکت پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد چترال کو یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ وہ غیرمشروط پاکستان کے ساتھاالحاق کا اعلان کیا اور 1969میں چترال کو باقائدہ ضلع کادرجہ دے کر ملاکنڈ ڈویژن کے ساتھ ضم کر دیا گیا ۔چترال وہ واحد بدقسمت ضلع ہے جولواری ٹاپ میں برفباری کے باعث سال میں چھ مہینے اپنے ملک سے کٹ کر رہ جاتی تھی۔لیکن علاقے کے عوام کی طویل جدوجہد کے بعد لواری ٹنل کے منصوبے کو مکمل کر لیا گیا ۔اورتوقع یہ تھی کہ ٹنل کی تکمےل اور ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد یہ علاقہ ترقی کے نئے دور میں داخل ہو گا لیکن بدقسمتی سے مردم شماری کے دوران انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور چترال سے باہر رہنے والے ساڑھے تین لاکھ سے زائد آبادی کو چترال میں شامل نہیں کیا گیا جسکے نتیجے میں ضلع کو الیکشن کمشن کے فارمولے کی زد میں لا کر ایک سیٹ سے محروم کر دیا گیا جو کہ اس پسماندہ ضلع کے عوام کیساتھ نا انصافی ہے ۔الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف چترال کے مختلف سیاسی جماعتوںکے قائدین ،سماجی حلقے شدید احتجاج پر ہیں۔اور آل پارٹیز کانفرنس کر کے اپنے حق کے لیے نہ صرف عدالتی جنگ لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں ۔بلکہ سیٹ کی عدم بحالی کی صورت میں 2018ءکے مجوزہ انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دے رہی ہیں عنقرےب اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدالت مےں پیٹیشنز دائر کیئے جا ئےگے تاریخی لحاظ سے چترال کے لوگ پرامن مانے جاتے ہیں ۔لیکن اپنے حق کے لئے پرامن طریقے سے احتجاج کرنا ہر گز جرم نہیں ۔الیکشن کمیشن کے فیصلے سامنے آنے کے بعد چترال کے اراکیں اسمبلی اور مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی اکابرین نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر جس اتحادو اتفاق کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ قابل دیدہے اور قوی امکان ہے کہ اس اتحاد واتفاق کے نتےجے میںضلع کی پسماندگی ، جغرافیائی اہمیت اور انتظامی مشکلات کے پےش نظر ضرور یہ تحریک کامیابی سے ہمکنارہو گی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وفاقی حکومت کا بھی فرض بنتا ہے ۔کہ وہ اپنے فارمولے پر نظر ثانی کر کے ضلع کے عوام کو سیٹ بحال کر کے انھیں عوامی نمائندگی کا حق دے ۔ بصورت دیگر 2018ءکے عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کی صورت میں انتخابی عمل بے معنی ہو گی اور اس حساس ضلع کے عوام میں احساس محرومی بڑھنے سے ملکی سالمےت، استحکام کیلئے بھی خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔امید کی جاتی ہے کہ ریاست پاکستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان اپیلوں کی سماعت کے دوران اپنے فارمولے پر نظر ثانی کر کے پسماندہ ضلع کے عوام کو حق دلانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

Scroll To Top