!امریکہ کی افغان پالیسی تبدیل ہوگی

 

  •   (by Didier Chaudet)

20 جنوری2018کو مقامی وقت کے مطابق رات9بجے فوجی ےونیفارم مےں ملبوس کچھ افراد کابل کے اےک بےن الاقوامی انٹر کانٹی نےنٹل ہوٹل مےں داخل ہوئے۔ان افراد نے جو افغان فوجی نہیں تھے ہوٹل مےں داخل ہوتے ہی وہاں موجود افراد اور گاہکوں پر فائرنگ شروع کردی۔ کارروائی کے انداز سے ےوںلگتا تھا کہ دہشتگردوں کا اصل ٹارگٹ وہاں موجود افغان افسران اور غےرملکی باشندے ہےں۔افغان سپےشل فورسز اور نےٹوافواج کے معاون اہلکاروں کو اس عمارت پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے مےں 14گھنٹے لگ گئے۔یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ طالبان نے کابل حملوں کے فوراً بعد انکی ذمہ داری قبول نہیں کی حالانکہ القاعدہ اور داعش کے برعکس جو مختلف النسل قومیتوں پر مبنی جہادی گروپس ہےں، طالبان عام طور پر اپنی دہشتگردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے مےں دےر نہیں لگاتے۔لےکن اس بار انہوںنے اس حملے کے بعد14گھنٹوں تک انتظار کیا توآخر اس تاخیر کی وجہ کیا تھی؟ اسکی اےک وجہ تو خود طالبان کے اندر ہونےوالی ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم بھی ہو سکتی ہے۔ درحقیقت جب ہم طالبان کو اےک متحد اورواحد تنظیم کے طور پر لےتے ہےں تو ہم اپنے قاری کو دھوکہ دےتے ہےں۔ اصل مےں ملا عمر کی وفات کے بعد سے طالبان کی صفوں مےں موجودباغی گروپ بہت طاقتور ہو گئے ہےں۔یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس ٹوٹ پھوٹ اورتقسیم کے باوجودبھی افغانستان کی حکومت کےخلاف کارروائیوں کے سلسلے مےں طالبان کی کارکردگی آج بھی بہت بہترہے اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ آج کے افغانستان مےں طالبان نہ صرف اےک فوجی قوت کے طور پر موجود ہےں بلکہ انہیں اےک سیاسی قوت کی حےثیت بھی حاصل ہے۔ اگر اےسا ہی ہے تو یہ قوتےں ماضی کی نسبت خواہ کتنی ہی منقسم کیوں نہ ہوں، پوری آزادی کےساتھ کابل پر حملہ کرسکتی ہےں۔ اگر باغیوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی طاقت دنیا پر ثابت کردےں کہ وہ جب چاہےں اور جہاں چاہیں کارروائی کرسکتے ہےں تویہ دہشتگرد حملہ بڑے واضح انداز مےں بتاتا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد مےں کامیاب ہوچکے ہےں۔
خاص طور پر اس حملے کے دوران ملک مےں کئی دیگرمقامات پر رونما ہونےوالے پُرتشدد واقعات مےں کئی گنا اضافہ ہوگےا۔ مثال کے طور پر افغانستان کے شمال مےں واقع صوبے بےخ مےں ےا مغرب مےں واقع ہرات اور فاراہ کے صوبوں مےں۔ طالبان کو کابل مےں دہشتگردی کرنے کی آزادی حاصل ہونے کے احساس کو طالبان کے اس بےان سے مزید تقویت ملتی ہے کہ انہوںنے اصل مےں 18جنوری کو حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی اور انہوں نے حملے کی تاریخ کو صرف اسلئے بدل دیا کہ اس وقت ہوٹل مےں شادی کی اےک تقریب ہونا تھی اور وہ عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنا چاہتے تھے۔
افغانستان کے مسئلے کی حقیقت کوحقیقی اور تشویشناک حقائق(کرپشن اور اس سے بھی بدترخرابیوں) سے صرفِ نظر کرتے ہوئے(جن مےں ہمارے حلیف بھی ملوث ہےں) محض”اچھی مرکزی حکومت” بمقابلہ “باغی (جو برائی کی نمائندگی کرتے ہےں)” کی سادہ سی صورتِ حال کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ہم افغانستان مےں خانہ جنگی کی مثال دے سکتے ہےں جو اےسی خانہ جنگی ہے جہاں مختلف قومےں اےک دوسرے سے برسرِ پےکار تھےں اور جو9/11کے بعد شروع کی جانےوالی دہشتگردی کےخلاف عالمی جنگ سے بھی بہت پہلے سے جاری تھی۔ کابل کے انٹر کانٹی نےنٹل ہوٹل پر ہونےوالے اس دہشتگرد حملے کی دہشت اور خوف کی وجہ سے ہمےں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ افغانستان کاا صل مسئلہ عسکریت پسندی نہیں۔
دراصل افغانستان کا مسئلہ سب سے پہلے کسی بھی اور چیزسے زیادہ “بےڈ گورننس” کا معاملہ ہے اورجب تک افغان حکومت جسکے پاس خطیر بےن الاقوامی فنڈز موجود ہےںاور جنہےںملک کی تعمیر و ترقی اورفوج پر خرچ کیا جانا چاہیے، کرپشن کا شکار ہے، بدعنوان جنگجوو¿ںکی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قائم ہےں ےا سیاسی قوتوں کی جانب سے علاقائیت اورفرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دےنے کی کوششےں جاری ہےں اورسب سے اہم یہ کہ جب تک افغانستان کا سیاسی اےجنڈا مذکورہ بالا تمام عوامل سے متاثر ہوتا رہےگا، افغانستان کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آتا۔
کابل مےں ہونےوالے ان حملوں کی وضاحت کس طرح کیجائے کیونکہ انٹر کانٹی نےنٹل ہوٹل کو نشانہ بنانے والوں کی نسبت دیگر دہشتگرد حملوں کی تعدادزیادہ ہے۔ افغانستان مےں کرپشن اور بےڈ گورننس نے طالبان کو یہ آسانی فراہم کر دی ہے کہ وہ دارالحکومت مےں آزادی کےساتھ اپنی کارروائی کرسکےں اور وہاں اپنے ہمدرد اور سہولت کار بھی تلاش کر لےں۔
یہی کرپشن اور بےڈ گورننس “گھوسٹ سولجرز” کے سکےنڈل کی وجہ بنی اور اسی گھوسٹ نے سرکاری فوجیوں کی فہرستوںاور ریکارڈ کو ہی ضائع کر دیا۔ 2015مےں افغانستان کے اپنے ذرائع نے یہ تک کہہ دیا کہ موجودہ فہرستوںمےں 40%افسران گھوسٹ سولجرز ہےں۔ اےسے حالات مےں انسدادِ دہشتگردی کی سنجیدہ کارروائی کیونکر کیجاسکتی ہے؟
بلا شبہ کابل کیجانب سے افغانستان مےں ناکامی کےلئے کسی بےرونی ذمہ دار قوت ےا دوسرے الفاظ مےں قربانی کے بکرے کو تلاش کرنا ےا افغانستان مےں بےرونی قوتوں کا بڑھتا اثرو رسوخ بھی اس مسئلے کا منطقی نتیجہ ہے۔لےکن یہ بات نہاےت ماےوس کن ہے کہ افغانستان مےں رونما ہونےوالے کسی بھی دہشتگرد حملے کے بعد افغانستان حکومت کیجانب سے اپنے ہمسایہ ممالک خاص طور پر پاکستان پر الزام تراشی کر دیجاتی ہے۔ یہی وہ موقف ہے جو افغان صدر اشرف غنی نے کابل حملوںکے بعد21جنوری2018کو اپناےا۔ افغانستان کا دارالحکومت کابل پاکستان اور افغانستان کی سرحدپر واقع نہیںاور پچھلے 12ماہ کے دوران یہاں اس قسم کی متعدد دہشتگردی کی کارروائیاں ہو چکی ہےں۔جہاں تک انٹر کانٹی نےنٹل ہوٹل کا تعلق ہے تو اسے2011مےں پہلی بار دہشتگردی کا نشانہ بناےا گےا۔ کیا ہم ایمانداری سے یہ کہہ سکتے ہےں کہ کابل کو محفوظ بناننے مےں کابل حکومت کی ناکامی اور نااہلی افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے سر تھوپی جاسکتی ہے؟ کل کی طرح آج بھی یہ بات سنجیدہ نظر نہیں آتی۔
یہاں اس بات کی ےاددہانی بھی ہو جائے کہ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اسکی انسدادِ دہشتگردی کی کاوشےں اسلئے ناکام اور نامکمل رہتی ہےں کیونکہ پاکستان کے ان دشمن دہشتگردوں کو (پاکستانی علاقوں مےں آپرےشن کے بعد) افغانستان مےں محفوظ پناہ گاہےں مل جاتی ہےں۔ پاکستان اور افغانستان کواےک دوسرے کےساتھ تعاون کرکے ان دہشتگردوں کو شکست دےنا ہو گی جو ان سے نبردآزما ہےں۔ان حالات مےں افغان حکومت کےلئے یہ بات اتنی آسان نہیں کہ وہ خود کو دنیا کے سامنے پاکستان کے اندر سے ہونےوالی دہشتگردی سے متاثر ہونےوالے ملک کے طور پر پےش کرے۔افغانستان کو اپنے اس موقف سے الٹا اسے نقصان ہی پہنچے گا۔یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی جاچکی ہے کہ جب تک افغانستان مےں امن قائم نہیں ہو جاتا اسکے ہمسایہ ممالک مےں بھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔افغانستان اور پاکستان اپنے تاریخی ، انسانی ، معاشی اور سلامتی کے صدیوں سے قاےم تعلقات کے باعث اےک رشتے مےں بندھے ہوئے سامی بھائی ہےں جنہیں ہمےشہ اکھٹے رہنا ہے۔اسلئے فرانس سمےت ان تمام قوتوں کو جو افغانستان مےں امن کی خواہاں ہےںان دونوں ممالک کو اچھے تعلقات کیجانب لانا چاہیے بجائے اسکے کہ افغان حکومت کو یہ ےقین دلاےا جائے کہ اسکے تمام مسائل کےلئے کسی دوسرے کو قربانی کا بکرابنا کر پےش کردےنا اےک اچھا اور قابل قبول نظریہ ہے۔

Scroll To Top